ممبئی(رحمت کلیم)مہاراشٹر کی سیاست نے ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔دیر رات تین بجے تک خبر یہ چلتی رہی کہ مہاراشٹر کا اگلا سی ایم ٹھاکرے پریوار سے ادھوٹھاکرے کی شکل میں ہوگا جو ٹھاکرے پریوار کیلئے بھی اس کرسی پر بیٹھنے کا پہلا تجربہ ہوگا،اور اس خبر کےساتھ لوگ اپنے اپنے بستر پر سونے چلے گئے لیکن جیسے ہی آنکھ کھلی تو سامنے میں بی جے پی لیڈر اور سابق سی ایم دیوندر فڑنویس  دوبارہ سی ایم کے عہدے کا حلف لیتے نظرآنے لگے،لوگ حیران تھے کہ یہ کیسے ممکن ہے ،لیکن سی ایم فڑنویس کی حلف برداری کے بعد اس پورے سیاسی کھیل میں بڑا الٹ پھیر کرنے والے این سی پی لیڈراور شرد پوار کے بھتیجے اجیت پوار ہاتھوں میں حلف برداری کا خط لئے ڈائس کی طرف بڑھتے ہیں اور مہاراشٹر کے ڈپٹی سی ایم کا حلف لیتے ہیں ۔

 

اب سمجھنے والی بات یہ ہے کہ کل تک شیو سینا ،این سی پی اور کانگریس کے اتحاد کےساتھ مہاراشٹر میں سرکار بنانے کی بات چل رہی تھی لیکن راتوں رات این سی پی نے کیسے سب کو جھٹکا دے دیا اور بی جے پی نے یہ کونسا فارمولہ بنالیا؟اس ضمن میں دو باتیں  یاد رکھنے والی ہیں ،پہلی یہ کہ شرد پوار سیاست کے بہت بڑے کھلاڑی ہیں ،ہوسکتا ہے کہ یہ ان کی چال ہو اور اس سے خود اپنی ہی پارٹی لیڈران کو اندھیرے میں رکھے ہوں،یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اجیت پوار نے چند آراکین اسمبلی کو بہلا کربغاوت کردی ہو،یا پھر یہ بھی مانا جاسکتا ہے کہ شرد پوار نے ہی بھتیجے کو یہ راستہ دکھایا ہوتاکہ مہاراشٹر میں مستحکم سرکار بن جائے اور شرد پوار ،اجیت پوار پر منی لانڈرنگ کا جو مقدمہ درج ہے اس میں راحت مل جائے،شرد پوار نے یہ بھی سوچا ہوگا کہ شیوسینا پر بھروسہ کرنا بیوقوفی ہوگی کیونکہ جو اپنے سب سے پرانے دوست کے ساتھ دھوکہ کرسکتی ہے تو پھر این سی پی کے ساتھ کیوں نہیں ،ایسے میں اگر این سی پی شیوسینا کے ساتھ جاتی ہے تو پھر ممکن ہے کہ سانپ بھی نہ مرے اور لاٹھی بھی ٹوٹ جائے،اس لئے مناسب یہی ہوگا کہ بی جے پی سے ہاتھ ملا لیا جائے چونکہ اس سے سرکار میں جگہ بھی مل جائے گی اور مقدمے بھی ٹھنڈے بستے میں چلے جائیں گے۔یاپھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شرد پوار کو اس کا کچھ بھی علم نہ ہو اور چاچا پر بھتیجا بھاری پڑ گیا ہو۔

لیکن اس بیچ دو باتیں دھیان میں رکھنے والی ہیں ،اول یہ کہ گزشتہ دنوں کسانوں کے مسائل پر شردپوار کی پی ایم مودی سے ملاقات ہوئی تھی اور آج فڑنویس کی حلف برداری پر اگر کسی نے سب سے پہلے فڑنویس اور اجیت پوار کو مبارکبادی دی ہے تو وہ پی ایم مودی ہیں۔ایسے میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شرد پوار نے آخری وقت میں بڑے سیاسی الٹ پھیر کا فیصلہ کیا ہوا اور راتوں رات مہاراشٹر کی سیاست میں نیا رنگ بھر دیا ہو۔

 

اب آگے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ شرد پوار،شیو سینا اور کانگریس اس پورے الٹ پھیر پر کیا کہتی ہے لیکن اس بیچ ابھی اکثریت ثابت کرناباقی ہے اور مانا یہ جارہا ہے کہ اجیت پوار کے ساتھ ۲۲اراکین اسمبلی بی جے پی کی حمایت میں آسکتے ہیں ،کچھ شیوسینا سے بھی آنے کی خبر ہے بقیہ آزاد امیدواروں کو ملا کرمہاراشٹر کی سرکار چل سکتی ہے جس میں بی جے پی کا’’ لیڈ‘‘ رول ہوگا لیکن’’ کنٹرول‘‘ این سی پی کے ہاتھ میں ہوگا۔

Facebook Comments