نئی دہلی:ایک طرف جہاں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک کی بیشتر ریاستوں میں احتجاج ومظاہرے کا سلسلہ جاری ہے وہیں دوسری طرف پڑوسی ممالک کا بھی اس معاملہ پر بیان  سامنے آنے لگا ہے۔پاکستان پہلے ہی اس معاملے پر صفائی دیتے ہوئے اس قانون کی مخالفت ظاہر کردی ہے ،ادھر اب بنگلہ دیش نے بھی اس معاملے پر اپنا ردعمل ظاہر کردیا ہے۔پاکستان کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے کہا کہ بنگلہ دیش کا یہ پہلے دن سے ماننا رہا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون اور این آرسی  یہ تمام کے تمام ہندوستان کے اندرونی معاملات ہیں ،بنگلہ دیش کا ان معاملوں میں کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔پاکستانی وزیراعظم نے اس قانون پر جہاں حکومت ہند کی جم کرتنقید کی تھی وہیں بنگلہ دیش کی پی ایم نے سیدھے لفظوں میں سی اے اے اور این آر سی کو ہندوستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔

ایک انٹریو میں بنگلہ دیش کی پی ایم نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے ،لیکن یہ ایک غیر ضروری قانون ہے جس کی وجہ سے پڑوسی ممالک پر بھی اثر پڑے گا۔

اب ایسے میں صرف افغانستان کی طرف سے بیان آنا باقی رہ گیا ہے چونکہ شہریت ترمیمی قانون کے تحت جن ممالک کے اقلیتوں کو ہندوستان کی شہریت دی جائے گی ان میں پاکستان ،بنگلہ دیش کے ساتھ ساتھ افغانستان بھی شامل ہے۔ایسے میں افغانستان کا بیان بھی اہمیت رکھتا ہے لیکن ابھی تک افغان حکومت کی طرف سے کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے،البتہ بنگلہ دیش نے اس معاملے کوہندوستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔

Facebook Comments