نئی دہلی:ہندوستان کی تاریخ میں چند بد نما داغ ہیں جو ہر سال ایک نہ ایک بار ملک کی ستم ظریفی پر ماتم کرنے کو مجبور کردیتا ہے۔بابری مسجد انہدام،گجرات فساد،ہاشم پورہ کا فساد،سانحہ گودھرا وغیرہ وغیرہ یہ سب ایسے واقعات ہیں جن کو یاد کرکے ہی خوف آتا ہے لیکن ان تمام میں ایک اور بہت ہی انسانیت سوز واقعہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے جس کو ہم بھوپال گیس سانحہ کے نام سے جانتے ہیں ۔بھوپال گیس سانحہ کو آج 34 سال پورے ہوگئے ہیں لیکن اس رات کی خوفناک یادیں لوگوں کے ذہن میں آج بھی زندہ ہیں۔ دو اور تین دسمبر 1984 کی درمیانی رات تھی کہ اچانک کھاد بنانے والی ایک فیکٹری سے زہریلی گیس لیک ہونا شروع ہوگئی۔ رات کے تقریباً بارہ بج رہے تھے، کڑا کے کی سردی تھی اور لوگ اپنے گھروں میں سوئے ہوئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ انتہائی زیریلی (میتھائل اسوسائنیٹ) گیس چاروں طرف پھیل گئی۔ بڑی تعداد میں لوگ نیند سے اٹھے ہی نہیں، جو اٹھ سکے ان کے پاس بھاگ کر جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔سپریم کورٹ کے مطابق بھوپال گیس سانحہ میں پندرہ ہزار لوگوں کی موت ہوئی تھی جبکہ پانچ لاکھ 15 ہزار افراد اس کے مضر اثرات سے متاثر ہوئے تھے۔ بھوپال میں 34 برس قبل یونین کاربائیڈ کارخانے سے نکلی زہریلی گیس نے سب کچھ ختم کر دیا۔ اس دن 40 ٹن میتھائل آئسوسائنٹ گیس کارخانے سے لیک ہوئی۔ سب سے زیادہ متاثر فیکٹری کے گرد و نواح میں کچی بسیتوں میں رہنے والے لوگ ہوئے لیکن بھوپال شہر بھی محفوظ نہیں رہا۔ بڑی تعداد میں لوگ، جس حال میں بھی تھے، جان بچانے کے لیے شہر چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔حکومت نے پہلے تقریباً چار ہزار اموات کا اعتراف کیا، لیکن دیگر آزاد ذرائع کا دعوی ہے کہ پہلے بہتر گھنٹوں میں ہی آّٹھ سے دس ہزار لوگ مارے گئے تھے جبکہ اس کے بعد زہریلی گیس کی زد میں آنے والی پیچیدگیوں نے تقریباً پچیس ہزار لوگوں کی جان لی اور بڑی تعداد میں لوگ آج بھی مختلف تکلیف دہ بیماریوں کا شکار ہیں۔لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفنایا گیا لیکن گیس کی زد میں آنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ زندہ بچ جانے والوں کو فوری طبی امداد فراہم نہیں کی جاسکی۔ اور وہ آج تک اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

ماہرین دعوی کرتے ہیں کہ بہت سی متاثرہ عورتوں کے بچے آج بھی جسمانی اور ذہنی معذوریوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور اس فیکٹری کی وجہ سے آلودہ ہوجانے والا آس پاس کا زیر زمین پانی آج بھی ’سلو پائزن‘ (آہستہ آہستہ کام کرنے والے زہر) کا کام کرتا ہے۔ لیکن اس کے باجود متاثرین کی داد رسائی آج تک ممکن نہیں ہوئی ہے۔ یونین کاربائڈ ایک انہتائی بااثر کثیر قومی کمپنی ہے جس کے خلاف متاثرین نےاگرچہ لمبی قانونی جنگ لڑی لیکن معاوضے کے نام پر کچھ خاص ان کے حصے میں نہیں آیا۔ انیس سو نواسی میں سپریم کورٹ کے ثالثی کے بعد یونین کاربائڈ چار سو ستر ملین ڈالر بطور معاوضہ ادا کرنے پر تیار ہوئی لیکن اس رقم کا تعین کرتے وقت متاثرین کی تعداد ایک لاکھ اور مرنے والوں کی صرف تین ہزار مانی گئی تھی۔ گیس متاثرین کی نمائندگی کرنے والے عبدالجبار کے مطابق عام طور پر بطور معاوضہ صرف پچیس ہزار روپے کی رقم تقسیم کی گئی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ایک عدالت نے معاوضے کے تقریباً پونے چھ لاکھ دعووں کو جائز ٹھہرایا تھا اور یہ تسلیم کیا تھا کہ اس حادثےکے نتیجے میں پندرہ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھےجو ابتدائی تخمینوں سے پانچ گنا زیادہ ہے۔بین الاقوامی ماہرین کے مطابق اگر امریکی معیار کے مطابق معاوضہ ادا کیا جاتا تو یونین کاربائڈ کو دس ارب ڈالر ادا کرنے پڑتے۔

بھوپال گروپ فار انفارمیشن اینڈ ایکشن کے ستی ناتھ شڑنگی بتاتے ہیں، 1969 سے یونین کاربائیڈ یہاں قائم ہونا شروع ہوا۔ 68 ایکڑ رقبہ زمین ان کے پاس تھی۔ زہریلی کیمیاوں پر یہاں کام ہوتا تھا۔ زہریلاکچرا بھی نکلتا تھا، جس کو زمین میں ڈنپ کرنے کے لئے انہوں نے 21 گڈھے بنا رکھے تھے۔ 1977 تک یہی چلا۔ اسی سال یونین کاربائیڈ کے امریکی ہیڈکوارٹر کے منصوبہ کے مطابق کارخانے کے باہر 32 ہیکٹرزمین پر 3 تالاب بنائے گئے۔ ان تالابوں کو سولر اویپوریشن پونڈ (سیپ) نام دیا گیا۔ ان کو اندر سے ہائی ڈینسٹی پالی تھائیلین سے کور کیا گیا اور ٹاکسک انفلئینٹ (زہریلامادہ) ان میں ڈالنے لگے۔
ستی ناتھ بتاتے ہیں،سیپ نام اس لئے دیا کیونکہ اس میں جاکر پانی اڑ جاتا تھا اور گاڑھامواد نیچے جم جاتا تھا۔ لیکن بارش میں یہ اوورفلو ہو جاتے تھے۔ ‘ ستی ناتھ دستیاب دستاویزوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ 1982 میں مقامی یونین کاربائیڈ کے ذریعے اپنے سینئرز کو بھیجے ٹیلیکس پیغام کے مطابق سیپ میں لیکیج کا مسئلہ پیدا ہو گیا تھا، جو تمام ضروری تدابیر اپنانے کے بعد بھی درست نہیں کی جا سکی تھی۔ سیپ میں بھرے جانے والے کیمیا کا زہریلاپن کتنا مہلک تھا، اس کو اس بات سے سمجھا جا سکتا ہے کہ بارش میں اوورفلو ہونے پر جب وہ کھیتوں میں پہنچتے تھے تو فصل جل جاتی تھی اور جانور مر جاتے تھے۔ اس تعلق سے مقامی پولیس تھانوں میں شکایتں بھی ہوئی تھیں، جن کا نپٹارہ یونین کاربائیڈنے معاوضہ دےکر کیا تھا۔ یہی مہلک زہر لیکیج کے ذریعے زمین کے اندر پہنچ رہا تھا۔1984 میں دنیا کے اس ہولناک صنعتی سانحہ کے بعد یونین کاربائیڈبند تو ہو گیا۔ اس کو ایک سیاہ باب کا خاتمہ سمجھا گیا لیکن اصل میں یہ اس لامتناہی جدو جہد کی شروعات تھی، جس کو آج ستی ناتھ جیسے دیگر کارکنان آگے بڑھا رہے ہیں۔ جو زہر 15 سال تک یوکا زمین میں دباتا رہا، وہ آج بھی وہیں دفن ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ کچرا 10 ہزار میٹرک ٹن کے قریب ہے۔

Facebook Comments