محمد حسین

تحریر: محمد حسین

محبان اردو  کا المیہ یہ ہے  کہ جب  اسکولوں /اداروںمیں اردو کی تدریس کا نظم ہو ، جب سرکاری محکموں میں اردو میں درخواستیں دینے کا بھی نظم ہو تب تو انہیں اپنے بچوں کو اردو زبان کی تعلیم دلانے کی فکر نہیں ہوتی اور نہ ہی  سرکاری محکموں میں اردو میں درخواست دینے کی توفیق ہوتی ہے لیکن جب ایسی اسامیاں ختم کرنے کی بات آجائے یا پھر کہیں اردو نیم پلیٹ مسخ کر دیا جائے تو پھر  غیرت ِاردو پھڑک اٹھتی ہے ۔

 بہار کے  سرکاری اسکولوں  میں خاصی تعداد میں اردو کے اساتذہ بحال ہو چکے ہیں لیکن اپنے بچوں کو اردو مضمون منتخب کرنے کی ترغیب دینے کی زحمت نہیں کرتے   ۔البتہ  جب اردو کی سیٹ ختم کرنے کی بات آئے تو اردوآبادی جاگ اٹھتی ہے ۔اور اردواخبارات میں شور برپا ہوجاتا ہے کہ اردو کو مٹانے کی سازش رچی جارہی ہے ۔

حال ہی میں بہار سرکار کے ایک مکتوب کی وجہ سے اردو حلقے میں اسی طرح کی بے چینی دیکھنے کو مل رہی ہے۔بہار سرکا ر کے محکمہ تعلیم نے۔۱۵،مارچ ۲۰۲۰ کو ایک مکتوب جاری کیا ہے)فائل نمبر-۱۱: ۲-۱۔۲۰۱۹/۷۹۹) یہ مکتوب در اصل  ہائی اسکولوں میں اساتذہ کی تقرری اور نشستوں کی تعداد میں پہلے سے موجود ضوابط میں ترمیم سے متعلق   ہے ۔

اس مکتوب میں مذکور ہے کہ پہلے بہار کے  ہائی اسکولوں میں کلاس ۶سے دسویں جماعت تک کی تعلیم  ہوتی تھی اسی طرح ۸ ویں جماعت سے ۱۰ ویں جماعت تک کی تعلیم ہوا کرتی تھی   ۔جس میں  کچھ عرصہ پہلے ہی تبدیلی آچکی ہے اب ہائی اسکول میں ۹ ویں اور ۱۰ ویں جماعت کی ہی تعلیم کا نظم   ہے ۔ حکومت بہار نے اسی تبدیلی کو دلیل بنا کر اساتذہ کی اسامیوں اور تقرریوں کے سلسلے میں پہلے سے  موجوداصولی  پیمانے (مانک منڈل)میں بھی تبدیلی کر دی ۔کیوں کہ پہلے ہائی اسکول میں ۶ سے ۱۰ تک کی تعلیم کا نظم تھا اس لیے اساتذہ کی پوسٹ بھی اسی اعتبارسے وضع کی گئی تھیں ۔ اس وقت اساتذہ کی تقرری کے لیے ایک مانک منڈل (اصولی پیمانہ ) اختیارکیا گیا تھا جس کے مطابق ہائی اسکول میں ۸+۱(یعنی ۸ معاون ٹیچر اور ایک صدر مدرس) یا پھر ۹+۱(یعنی ۹ معاون ٹیچر اور ایک صدر مدرس) کا نظم تھا ۔تقرری کا یہ اصولی پیمانہ اب تک قابل عمل تھا جب کہ ہائی اسکول میں اب ۶ سے ۱۰ ویں جماعت تک کی تعلیم کانظم بر قرار نہیں رہا۔اب ہائی اسکولوں میں  صرف ۹ ویں اور ۱۰ ویں کی تعلیم ہوتی ہے ۔ایسی صورت میں اساتذہ کی تعداد کا تناسب بگڑا ہوا محسوس ہو رہاتھا۔ جس کے نتیجے میں کسی اسکول میں  ایک ہی مضمون  میں ایک سے زائد بلکہ ضرورت سے زائد اساتذہ نظر آتے تھے  جب کہ بہت سارے اسکول ایسے بھی  ہیں جن میں ایک موضوع کے لیے ایک بھی ٹیچر نہیں ہے ۔ اس پیچیدہ اور غیر متوازن  صورت حال کو متوازن بنانے کے لیے اساتذہ کی پوسٹ کی توضیع  اور تقرری سے متعلق اپنے پرانے اصولی پیمانے میں سرکار نے  ترمیم کر دی۔مذکورہ مکتوب کے قانون نمبر ۷ کی شق (۱) کے مطابق اب ہائی اسکول میں اساتذہ کی تقرری کے لیے ان کی تعداد کا  اصولی پیمانہ ۱+ ۶ ہوگا۔(یعنی ایک صدر مدرس اور ۶ معاون ٹیچر ) ۔لہذا جن اسکولوں میں اس پیمانے سے زائد ٹیچر ہوں گے ان کو دوسرے اسکول میں منتقل کیا جائے گا جہاں ٹیچر کی کمی ہے ۔مذکورہ مکتوب کے ضابطہ نمبر۸میں ٹرانسفر سے متعلق اصول و ضوابط درج ہیں ۔جس کا حاصل یہ ہے کہ ترمیم شدہ ضابطے کے  مطابق جس اسکول میں اس پیمانے سے زائد ٹیچر ہوں گے انہیں دوسرے اسکول میں جہاں ضرورت ہو  ٹرانسفر کیا جائے گا ۔دیہی علاقوں کے اسکولوں کے سلسلے میں یہ خیال رکھا جائے گا کہ ایسے اسکول میں ٹرانسفر کرنے کو اولیت دی جائے  جو اب تک مڈل اسکول تھے لیکن حال ہی میں حکومت بہار نے انہیں پلس ٹو اسکول میں تبدیل کرنے کے ارادے سے اپ گریڈ کرکے ۲۰۲۰ کے حالیہ سیشن سے  نویں کلاس کی تعلیم  آغاز کر نے کا حکم نامہ جاری کیاہے ۔غو رکیا جائے  توبہار سرکار نے ہر پنچایت میں ہائی اسکول بنانے کے ہدف کی تکمیل کے لیے یہ جگاڑ لگایا ہے ۔اس جگاڑ سے حکومت نے دو کام کرنا چاہا اول تو یہ کہ پہلے سے موجود مڈل اسکول کو ہائی اسکول بلکہ پلس ٹو اسکول میں تبدیل کرنا اور دوسرے نئے اساتذہ کی بحالی کے بغیر ان اسکولوں میں اساتذہ مہیا کر نا ۔اس لیے میری اپنی سمجھ کے مطابق اس ترمیم کے پس پشت اصلاً یہ ان دو مقاصد کی تکمیل کا راستہ نکالنا ہے ۔۶+۱کا فارمولا مستقل کارگر نہیں ہوگا بلکہ جلد یا بدیر اس میں ترمیم کے کر کے پہلے والے فارمولے کو ہی بحال رکھنا ہوگا۔ہاں تشویش کی بات ہپ ضرور ہے کہ آواز بلند نہیں کی گئی تو حکام،افسران اور وزارت تعلیم بھی اس کو فراموش کر کرے سر بستے میں ڈال دیں گے ۔

اب ذرا اس پہلو پر توجہ دی جائے کہ  آخر ہائی اسکولوں میں اساتذہ کی اسامیوں سے متعلق پرانے فارمولے  ۸+۱ ،کو بدل کر ۶+۱ ۔کردینے سے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں ۔نئے فارمولے میں شامل ۶ مضامین یہ ہیں  (۱)ہندی  (۲)انگریزی    (۳)حساب   (۴)سائنس (۵)سوشل سائنس (۶) دوسری بھاشا ۔

 نمبر ۶ پر موجود دوسری بھاشا سے  اردو طبقے میں بے چینی ہے  ۔کیوں کہ اس مکتوب میں دوسری بھاشا کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن اہل علم کے مطابق  اس دوسری بھاشا کے زمرے میں اردو ،سنسکرت ، فارسی ، میتھلی  اور بنگلہ  وغیرہ ہے ۔اس ترمیم شدہ ضابطے کے مطابق بظاہر  ایک اسکول میں ان  بھاشاؤں میں سے کسی ایک بھاشا کے ٹیچر کی ہی پوسٹ کا جواز نکلتا ہے ۔

 حالاں کہ میرے خیال میں  یہ ضابطہ تکنیکی طور پر  نہ صرف اردو  والوں کے لیے پریشان کن ہے بلکہ دوسری  بھاشا کے زمرے میں آنی والی تمام بھاشاؤں کے امیدوراں کے لیے پریشان کن ہے ۔ سائنس اور سوشل سائنس کے امیدواروں کے لیے بھی پریشان کن ہے ۔بلکہ طلبہ و طالبات کے لیے بھی پریشانی کا باعث ہوگا۔کیوں کہ بظاہر اس مکتوب کے ذریعے اسکولوں میں اساتذہ کی تعداد میں توازن و تناسب قائم کرنے کا عزم کیا گیاہے لیکن در حقیقت اسکولوں کے اساتذہ کی اسامیوں میں تخفیف کر دی گئی ہے ۔ اس ضابطے کے مطابق دوسری زبان کے زمرے میں آنی والی تمام زبانوںمیں سے کسی ایک زبان کے ٹیچر کی ہی تقرری ممکن ہے اسی طرح سائنس میں طبعیات،علم کیمیا،علم حیاتیات کے لیے صرف ایک ٹیچر  ہوگا۔ایسے ہی تاریخ ،جغرافیہ ،سیاسیات ،وغیرہ کے لیے بھی محض ایک ٹیچر پر قناعت کرنی ہوگی۔

جب کے پرانے ضابطے کے مطابق سائنس میں دو ٹیچر ہوا کرتے تھے ۔اور سوشل سائنس میں بھی دو ۔ لیکن سائنس ،سوشل سائنس والے بہر حال احتجاج نہیں کریں گے کیوں کہ پنچایت سطح پر موجود۲۹۵۰ مڈل اسکول کو حال ہی بہار سرکا رنے اپگریڈ کرکے پلس ٹو اسکول بنا دیا ہے ۔ ظاہر ہے وہاں بھی ان کی اسامیاں ہیں ہی ۔لیکن دوسری زبان کے زمرے میں آنے والی زبانوں کے لیے ضرور مسئلہ ہوگا۔ کیوں کہ اس ترمیم شدہ ضابطے کے مطابق  جس اسکول میں اردو کے طلبہ /طالبات ہوں گے وہاں سنسکرت ،بنگلہ ،میتھلی وغیرہ کے اساتذہ کی تقرری ممکن  نہیں ہوگی ایسے ہی جہاں میتھلی پڑھنے والے بچے ہوں گے اس اسکول میں اردو کے بشمول سنسکرت کے اساتذہ کی بھی گنجائش نہیں ہو گی ۔

اس ترمیم شدہ ضابطے کے  اصول نمبر ۷ کی شق (ii)  میں مذکور ہے کہ ایک کلاس میں اگر ۶۰ سے زیادہ طلبہ/  طالبات ہوں تو اضافی سیکشن تشکیل دے  کر ٹیچر کے لیے پوسٹ وضع کی جاسکتی ہے ۔اور اگر کسی موضوع میں ۳ ٹیچر کی ضرورت ہو تو  نیوجن اکائی  ،ضلع ایجوکیشن آفیسر نیز محکمہ سکینڈری ایجوکیشن کے ڈائریکٹر سے منظوری حاصل کر کے مزید استاد کے لیے پوسٹ وضع کی جاسکتی ہے ۔لیکن  اس شق سے بھی دوسری بھاشا کے زمرے میں آنے والی تمام زبانوں کے ٹیچر کی پریشانی کے ازالے کا امکان  نظرنہیں آتا ۔ کیوں کہ ۶+۱ کے فارمولے کو اپناتے ہوئے  دوسری بھاشا کے زمرے میں سے  کسی ایک ہی زبان کے ٹیچر کی اسامی پر تقرری ممکن ہو گی ۔

حالاں کہ جب دوسری بھاشا کے زمرے میں اردو  بھی ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ جہاں اردو کے طلبہ ہوں گے وہاں اردو کے ٹیچر کی پوسٹ وضع ہونے کا قانونی جواز موجود ہے لیکن بہار سرکار کے دیگر محکموں کی طرح محکمہ تعلیم کے افسران  اور اسکول  بھی تعصبات سے خالی نہیں ہیں ۔جہاں جہاں غیر مسلم ہیڈ ماسٹر ہوں گے وہ بالعموم سنسکرت یامیتھلی علاقے میں میتھلی اور بنگلہ علاقے میں بنگلہ کے ٹیچر کی اسامی وضع کرنے کو ترجیح دیں گے ۔بلکہ عملی طور پر یہ بھی دیکھا جاتاہے کہ ہیڈ ماسٹر اردو دوست ہو تو بھی ان کی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھا کر ان کے معاونین اپنی چالاکی سے اردو کی اسامی ،محکمہ تعلیم  کو بھیجتے ہی نہیں ۔اس لیے اردو زبان کی اسامی وضع ہونے میں کافی دشواریوں کے امکانات ہیں۔

اس موقع سے یہ بھی وضاحت کرنا مناسب ہے کہ بعض افراد نے  نیوجن(تقرری) سے متعلق  قوانین میں ترمیم سے متعلق مذکورہ مکتوب پر اعتراض کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ بہا رکے ہائی اسکول میں اردو کو لازمی مضمون کی بجائے اختیاری مضمون کر دیا گیاہے ۔جب کہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے ۔ہائی اسکول میں پہلے بھی اردو لازمی مضمون نہیں تھا ۔بلکہ اردو کو سہ لسانی فارمولے کے تحت پہلے بھی نصاب میں جگہ دی گئی تھی وہ جگہ اب بھی برقرار ہے ۔وہ اس طرح کہ مادری زبان کے زمرے میں بھی ہندی ،اردو ،بنگلہ یا میتھلی میں سے کوئی ایک مضمون اختیار کرنے کی آزادی تھی اور  جو طلبہ مادری زبان ہندی اختیار کرلیتے انہیں دوسری مادری زبان کے بطور سنسکرت،عربی ،فارسی اور بھوجپوری میں سے کوئی ایک  زبان اختیارکرنا ہوتا تھا اور غیر ہندی کے طلبہ کو قومی زبان ہندی اختیار کرنا لازمی ہوتا تھا  ۔تو ہندی بولنے والے طلبہ مادری زبان کے بطور  ہندی اختیار کرتے اور دوسری مادری زبان کے بطور   سنسکرت ۔جبکہ اردو والے ماری زبان کے زمرے میں ار دو اور دوسری مادری زبان کہ جگہ قومی زبان ہندی  اختیار کرنا پڑتاجسے NLH بھی کہتے ہیں۔اور انگریزی لازمی مضمون ہے لیکن پاس ہونا لازمی  نہیں ۔اسی طرح سہ لسانی فارمولا اب بھی برقرار ہے ۔کیوں کہ ۶+ا کے اصولی پیمانے میں ہندی ،انگریزی تو واضح طورپر موجود ہے اور دوسری زبان کے زمرے میں اردو ،سنسکرت،میتھلی ،بنگلہ وغیرہ ہے ۔تو ہائی اسکول میں اردو لازمی مضمون نہیں ہے ۔بلکہ سہ لسانی فارمولے کے تحت اردو بھی موجود ہے  ۔تو یہ کہنا کہ اردو مضمون کو  لازمی مضمون کے زمرے سے نکال کر اختیاری پرچے کے خانے میں رکھ دیا گیا میری  سمجھ سے پرے ہے البتہ موجودہ مکتوب میں اساتذہ کے پوسٹ کی توضیع و تقرری کے سلسلے میں اردو کو   دوسری بھاشا کے زمرے میں جگہ دی گئی ہے ۔طلبہ کے مضمون اختیا رکر نے کا مسئلہ میرے خیال سے ویسے ہی رہے گا جیسے پہلے سے ہے ۔

ان تمام تفصیلات کے باوجود اردو والوں کی تشویش بہر حال جائز ہے ۔کیوں کہ اول تو مذکور ہ مکتوب میں دوسری زبان کے اساتذہ کی پوسٹ اور تقرری سےمتعلق وضاحت نہیں ہے ۔دوم یہ کہ دوسری زبان کے اساتذہ کی تعداد کو محدود کرنا کہیں سے بھی درست نہیں ہے ۔اس میں اردو کی پوسٹ ختم ہونے کے قوی امکانات ہیں۔حالاں کہ جب سے نتیش حکومت ہےتب سے پرائمری سے لے کر پلس ٹو تک میں  اردو کے اساتذہ کی خاصی بحالی ہوئی ہے ۔لیکن آئندہ کی بحالی کے لیے قانونی طور پر راہیں مسدود اور دھندلی نظر آرہی ہیں۔اس لیے وزیر تعلیم پر اردو داں حلقے کی جانب سے دباؤ بنایا جانا چاہیے کہ وہ اس قانون میں ترمیم کریں اور اردو کی پوسٹ کو بھی یقینی بنائیں ۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ۲۰۰۹ میں  ہر اسکول میں اردو کے اساتذہ کی تقرری کے عزم کا اظہارکیاتھا۔اس لیے وزیر تعلیم ،وزیر اعلیٰ کے اس عزم کو یقینی بنائے رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کریں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • محمد حسین
  • ریسرچ اسکالر ،شعبہ اردو ،دہلی یونی ورسٹی ۔

ای میل : hussaindu21@gmail.com

Facebook Comments