تحریر:آفاق حیدر

 نکسلی تحریک بہار میں زمین اور مزدوری کے سوال پر 70 کی دہائی میں پھوٹی تھی۔ یہ تحریک بنیادی طورپرکھیت میں کام کرنے والے مزدوروں کی تحریک تھی جوبہتر مزدوری چاہتےتھے۔ جسکا زمین داروں کی طرف سے مخالفت ہوا اور90کی  دہای میں یہ تحریک خونی شکل لے لی۔ حا لانکہ گذشتہ سال سے بہار میں نکسلی تحریک بہت کمزور پڑ گٔی ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادوشمار بھی اس دعوے کی تصدیق کرتی ہیں کہ نکسلی تشدد کے واقعات میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ نکسلی تحریک کے کمزور ہونے کے  بہت سارے اسباب ہیں- ان میں سے ایک اہم سبب دیہی علاقوں میں پنچایتی راج اور منریگا جیسی اسکیموں کی رسائی ہے- 2005 میں پنچایتی راج اور دیہی روزگار اسکیم کے آغاز ہونے سےمسلسل نکسلی تشددکے واقعات  میں کمی آئی ہے۔
 پلاننگ کمیشن کے ذریعہ سال 2008 میں نکسلزم کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی گئی تھی “ڈیولپمینٹ چیلنج ان اکسٹریمیسٹ افکٹیڈ ایریا”،اس رپورٹ میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ منریگا جیسی اسکیموں نے معاشرے کے سب سے محروم اوراستحصال طبقے،  دلت اورآدیواسی سماج  کے لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ یہاں یہ حقیقت واضح رہے کہ معاشرے کا سب سے محروم طبقہ ہی اس تحریک کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔کنتی دیوی ، جو خود 80 کی دہائی سے کمیونسٹ تحریکوں سے وابستہ ہیں اور بہار کے جہان آباد ضلع میں سی پی آئی – ایم ایل رہنما  بھی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بہار میں نکسلی تحریک کے عروج کی وجہ مزدوروں کا استحصال تھا۔ دن بھرکی کمائی صرف ایک سیرچاول تھی- اور ستم ہائے ستم اوپرسے گالی گلوچ اور توہین الگ کی جا تی تھی۔ خواتین کو خاص طور پر جنسی استحصال کاشکارہوناپڑتاتھا۔ اسکی وجہ سے بہار میں نکسلی تحریک 70 کی دہائی میں شروع ہوئی۔بہار کے بڑے سوشلسٹ رہنما شیوانند تیواری بھی عورتوں کے ساتھ ہونے والی جنسی استحصال اوراجرت کے سوال کو نکسلی تحریک کی وجہ مانتے ہیں۔ مزدوروں کے پاس اس سےآزاد ی کا کوئی راستہ نہیں تھا کیونکہ انہیں روزی روٹی کے لئے زمیداروں پرانحصار کرنا پڑتا تھا۔
لیکن بہار کے دیہی علاقوں میں منریگا نے متبادل روزگار کا مواقع فراہم کیا۔ جس کی وجہ سے معِشت کے لئے زمین پرانحصار کم ہوا۔ منریگا نے خواتین کو کام کرنے کا موقع فراہم کیا جنہیں ذلت سے کام کرنی پڑتی تھی۔ مزدوروں کے لئے یہ ایک بڑی راحت تھی منریگا میں خود مزدوروں کے حساب سے مزدوری بہت کم ملتی ہے اسکے وجہ سے اکثر گھر کے مرد کام کی تلاش میں شہر چلے جاتے ہیں۔ لیکن منریگا کی وجہ سے گاؤں میں مزدوری بہت بڑھ گئی ہے ۔ آج کم سے کم مزدوری 350 سے 500روزانہ مزدوری ادا کی جاتی ہے۔ دیہی علاقوں میں جہاں پہلے ایک کیلو چاول ملتا تھا وہ اب بڑھ کر 5 کیلو ہو گیاہے۔
مزدور کہتے ہیں اب کھیتوں میں کام کرنے کے لۓ مزدور بہت مشکل سے ملتے ہیں۔ مالک کا رویہ اب بدل گیا ہے۔ذلیل کرکے کام نہیں لیا جاتا ہے۔ بہار کے جہان آباد اور گیا کے بہت سے دیہاتوں میں اب روزانہ کی مزدوری کی جگہ پر شیئرکراپنگ آگئی ہے۔ کھیت کی پیداوارمیں مزدوروں کا حصہ اب آدھا ہے۔ خواتین کو منریگاسے سب سے بڑا فائدہ ہوا ہے- شہر میں خواتین کے لئے بھاری مزدوری کرنا مشکل ہے اور انہیں ایسے کام بھی نہی ملتے ہیں۔ منریگامیں انہیں آسانی سے کام ملتا ہے اور انکی گاوںٔ میں مزدوری بھی بڑھی ہے۔ پہلے کی طرح مزید مجبوری اور استحصال نہیں ہے۔مزدور کسان شکتی سنگھٹن سے وابستہ اور سماجی کارکن نکھل دی کا بھی ماننا ہے کہ منریگا کی وجہ سے دیہی علاقوں میں اجرت میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ کہتےہیں اب مزدورپہلے کی شرح پر ملنا بہت مشکل ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ خواتین کو منریگا سے سب سے زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ بیشترخواتین اسی کام میں لگی ہوئی ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب اتنی بڑی تعداد میں خواتین کسی بھی منظم کام میں شامل ہوئیں۔ منریگا کا اثر محروم طبقات میں زیادہ رہا ہے.کم اجرت کے باوجود بیشترمحروم طبقات اس اسکیم سے وابستہ ہیں۔
دیہی بہار کے محروم طبقات منریگا کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہے۔ یہ طبقات نکسلی تحریک کی شہ رگ تھی۔ گجندر جوکبھی خود بھی اس تحریک کا حصہ تھےبھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ گجیندر کا کہنا ہے کہ غریبوں کی زندگی بہت مصروف ہے۔ جب ظلم پہلے جیسا نہیں ہوتاہےاورسرکاری اسکیموں کے فوائد غریبوں کومل رہے ہیں توغریب کیوں بغاوت کریگا۔ پنچایتی راج اورمنریگا جیسی اسکیموں نےغریبوں کوعزت اورحقوق دئے ہیں۔لیکن بہار میں کبھی کمیونسٹ تحریکوں سے وابستہ اور سماجی کارکن ارجن پرساد ایک الگ بات کہتے ہیں- وہ پنچایتی راج اورمنریگا کوریاست کی توسیع گاؤں تک کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسی اسکیموں کے وجہ سے گاوں میں کروڑوں روپیہ آتےہیں صرف گاؤں کا بجٹ کروڑوں کا ہوتا ہے۔  جس کی وجہ سے لوگوں میں انقلابی شعور کم ہوا ہے۔ ایم سی سی کے ایک بڑے رہنما کا کہنا ہے کہ جب سرمایہ آتا ہےتووہ اپنے ساتھ سرمایہ دارانہ شعور بھی لاتا ہے جس کی وجہ سے انقلابی شعور پیدا ہوتاہے۔
قابل ذکر ہے کہ حکومت ہند نے سال 2005 میں دنیا کی سب سے بڑی روزگار اسکیم منریگا کا آغاز کیا تھا۔ منریگا کی وجہ سے دیہی علاقوں میں روزگار کا مسئلہ کچھ حد تک حل ہوگیا ہے اورساتھ ہی اجرت کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔جمشید جوکبھی کمیونسٹ تحریکوں سے وابستہ تھےجواب پٹنہ میں وکالت کرتے ہیں-کہتے ہیں کہ لوگ مختلف وجوہات کی بناء پرنکسلی تحریک میں شامل ہوتے ہیں. ان میں ایک طبقہ جاگیردارانہ ظلم و ستم کا شکارہوتاہے۔ لیکن ایک بہت بڑا طبقہ بھی ہے جو اس تحریک سے فائدہ اٹھانے یا پیسہ کمانے آتا ہے۔ جب گاؤں میں سرکاری اسکیموں سے پیسہ آنے لگا تو یہ طبقہ ان اسکیموں کی طرف راغب ہوا۔
ارول کےاسلم ایک زمانے میں خود نکسلی تنظیم سے وابستہ تھے۔ وہ ذاتی وجوہات کی بناء پر پارٹی میں شامل ہویٔے تھے۔ اس وقت وہ بیروزگار نوجوان تھے۔اسلم کہتےہیں کچھ لوگ تحریک سے کمانے کے لٔے بھی جڑتے ہیں۔ اسلم آج کل خود منریگا میں ٹھیکیداری کرتے ہیں۔کبھی سی پی آئی – ایم ایل سے وابستہ رہے وشنو دیو د کہتے ہیں کہ پنچایتی راج اور منریگا جیسی اسکیموں کے فوائد گاؤں میں پسماندہ افراد کو حاصل ہؤے ہیں۔ بہار میں پنچایتی راج میں دلتوں اور پسماندہ لوگوں کا بھی ریزرویشن ہے۔ بہت سے سابق نکسلی رہنما گاؤں میں مکھیا بن گئےہیں- ساتھ ہی یہ لوگ ٹھیکیداری کرنا بھی شروع کردیا ہے۔ جب سیاسی اور معاشی خوشحالی دیہاتی سطح تک پہنچی تو اس سے انہیں فائدہ ہوا۔منریگا کا نکسلی تحریک پراثرات کی تصدیق کئ ریسرچ بھی کرتی ہیں۔ دلی یونیورسیٹی کے اسکالر فہد ہاشمی نے اپنے ریسرچ (ایم اےپیپر)’’انڈراسٹینڈینگ منریگا فرام گرامشی پرسپیکٹیو ‘‘میں یہ لکھا ہےکہ منریگا نے زمینی سطح پر دیہی علاقوں میں لوگوں کے اندرکی ناراضگی اورغصےکو کم کیا ہے۔ لوگوں کو روزگار ملنے سے انکے سیاسی اورانقلابی شعور میں تبدیلی آئی ہے۔ منریگا کی وجہ سے لوگوں کے مصروفیت بھی بڑھی ہے۔
اس مطالعہ کی تصدیق سی پی آئی-ایم ایل کے سابق رہنما اور جے ڈی یو ایم ایل اے رمیش سنگھ کشواہا بھی کرتے ہیں۔ کشواہا کا کہنا ہےکہ اگردیہی علاقوں میں ظلم و جبرختم او رہا اور روزگار مہیا کیا جارہاہو تو پھرغریب ہتھیار کیوں اٹھائیں گے۔ آج  دیہی علاقوں میں کھیت میں کام کرنے کے لے مزدورملنا مشکل ہو گیا ہے ۔گیا اور جہان آباد کے کئے گاؤں کے مکھیا نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ منریگا جیسے روزگاراسکیموں کی وجہ سے کچھ حد تک زمینی سطح پر فرق پڑا ہے۔ منریگا کے ذریعہ زمین اورمزدوری کے سوال کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا لیکن اس سے مزدوروں کی مزدوری اورعزت بڑھی ہے ۔ جو نکسلی تحریک  کی بنیادی وجہ تھا۔بہار میں نکسلی تحریک گذشتہ ایک دہائی سے مستقل زوال پزیر ہے۔ تحریک کے کمزور ہونے کی بہت ساری وجوہات ہیں ان میں خود تحریک کا سیاسی تضاد ہے اور بہار میں ایک نئی سماجی اورسیاسی صورتحال ہے۔ لیکن گرام پنچایت اور منریگا جیسی اسکیموں سے جو دیہی علاقوںمیں تبدیلی آئی ہے اس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا  ہے۔

(مضمون نگار نیشنل فاؤنڈیشن فار انڈیا کے فیلو ہیں اور یہ مضمون فاؤنڈیشن کی مدد سےلکھا گیا ہے۔)

Facebook Comments