نئی دہلی:عام انتخابات کے پیش نظر بی جے پی نے اپنا منشور جاری کردیا ہے ،لیکن اس منشور کے جاری ہوتے ہی کشمیر کی سیاست میں گہماگہمی کافی تیزی کے ساتھ بڑھ گئی ہے۔دراصل بی جے پی نے اپنے منشور میں اپنے پرانے وعدے کو دوہراتے ہوئے کہا کہ ہم کشمیر سے دفعہ ۳۵اے اور دفعہ ۳۷۰ کو ہٹادیں گے۔بی جے پی کے اس وعدے سے ریاست کے تمام سیاسی لیڈران چراغ پا ہیں اور ان کی تلملاہٹ ان کے بیانات سے نظر آرہی ہیں۔

بی جے پی کے اس وعدے پر کمنٹ کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہم تو دعا کرتے ہیں کہ اللہ کرے یہ لوگ دفعہ ۳۷۰ کو ہٹادے،اس کے بعد سے ہم آزاد ہوجائیں گے۔ فاروق عبد اللہ نے کہا”کیا وہ(نئی دلی) سوچتی ہے کہ دفعہ370کی منسوخ کی صورت میں ہم خاموش بیٹھیں گے؟اُنہیں ایسا کرنے دو ، ان کی یہی حرکت ہماری آزادی کی راہ ہموار کرے گی۔
بھاجپا، نے آج ہی اپنا چنائو منشور جاری کیا جس میں اس دفعہ اور35اے کی منسوخی کو شامل کیا گیا ہے ۔وہیں دوسری طرف پی ڈی پی صدر اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر پہلے سے ہی بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہوا ہے ،اور اگر دفعہ ۳۷۰ کو ہٹایا گیا تو کشمیر کے ساتھ ساتھ ملک اور گرد ونواح کے خطے بھی جل اٹھیں گے ،اس لئے کشمیر سے درخواست ہے کہ وہ آگ سے کھیلنا بند کردے۔

جموں کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ گزشتہ روز گورنرستیہ پال ملک نے کہا تھا کہ دفعہ ۳۷۰ اور دفعہ ۳۵ اے کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور ریاست کی پارٹیاں پروپگینڈہ کر رہی ہیں،امید ہے کہ گورنر ستیہ پال کے سیاسی جماعت بی جے پی والے اپنے منشور کی ایک کاپی ان کو بھیجیں گے۔

وہیں ریاست میں نیا نیا سیاسی سفر کا آغاز کرنے والے شاہ فیصل نے کہا کہ دفعہ ۳۷۰ کا معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے،ایسے میں انتخابی منشور میں شامل کرنا یہ عدالت کی توہین ہے،ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر دفعہ ۳۷۰ سے چھیڑ چھاڑ کیا گیا تو ہم پندرہ منٹ اپنی گھڑی کا پیچھے کرلیں گے۔واضح رہے کہ شاہ فیصل کا اشارہ پاکستان کے وقت کی طرف تھا ۔

وہیں دوسری طرف محبوبہ مفتی،فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کے خلاف دہلی کے ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے اور عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ ان تینوں لیڈران پر عام انتخاب لڑنے کی پابندی عائد کی جائے ۔چونکہ انہوں نے جو بیانات دیے ہیں وہ سب آئین ہند کے خلاف ہیں ۔

Facebook Comments