نئی دہلی :مرکز میں بی جے پی کی سرکار ہے اور ٹیکنالوجی اور سوشل نیٹ سائٹ پر جس انداز میں بی جے پی کا جال پھیلا ہوا ہے اس کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس پارٹی کے پاس ٹیکنالوجی اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کے ماہرین کی ایک بڑی ٹیم ہوگی جو بی جے پی کیلئے کام کر رہی ہوگی اور اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ اس پارٹی کے پاس سوشل میڈیا پر ایک بڑی ٹیم ہے جو صبح سے شام ہر لمحہ سرگرم ہے۔لیکن ایک بڑا سوال یہ ہے کہ ایک ایسی پارٹی جس کی سرکار ہو اور سوشل نیٹ ورکنگ کے استعمال کیلئے ان کی مہارت کی دوہائی دی جاتی ہو اسی پارٹی کی آفیشیل ویب سائٹ ہیک ہوجائے تو یقیناً تعجب ہوگا۔

آپ کو بتادیں کہ آج سے پانچ دن پہلے بی جے پی کی آفیشیل ویب سائٹ ہیک ہوئی تھی ،اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی تک اس ویب سائٹ کو ٹھیک نہیں کیا جاسکا ہے،اتنے بڑے بڑے دعوے کرنے والی مودی سرکار کی اس حالت پر یقیناً افسوس کرنا ہوگا جو اپنی پارٹی کی آفیشیل ویب سائٹ کو قریب ایک ہفتے میں بھی ٹھیک نہیں کرا سکی۔پھر کیا امید اس ٹیم سے رکھی جاسکتی ہے جو ایک ویب سائٹ کو پانچ دن گزرجانے کے بعد بھی ٹھیک نہیں کرپائی۔آج دس مارچ ہے اور آج سے ٹھیک پانچ دن پہلے مودی اور شاہ کی پارٹی یعنی بی جے پی کی دفتری ویب سائٹ کو کسی نے ہیک کر لیا تھا جس پر کافی ہنگامہ بھی ہوا لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ آج پانچ دن بعد بھی پارٹی کی ٹیم ایک ویب سائٹ نہیں ٹھیک کرپائی ہے۔دیکھنا ہوگا کہ پارٹی کے نیٹ ورکنگ کے ماہرین کی ٹیم کو اس ویب سائٹ ٹھیک کرنے میں مزید کتنے دن اور لگتے ہیں

Facebook Comments