مبصر:محمد فیصل

ادبی تحقیق کا کام کس قدر متنوع ہے اور کا دائرہ کتنا وسیع ہو سکتا ہے اس کا اندازہ سعدیہ سلیم شمسی صاحبہ کی اس کتاب کو دیکھ کر ہوا۔ موجودہ ادبی ریسرچ اسکالرز کی بات کروں تو ان کا تنقیدی اور تحقیقی دائرہ بس ایم فل کے تھیسس (جن میں سے زیادہ تر شخصیات پر ہی ہوتے ہیں ) اور ادبی سیمینار وغیرہ کے لیے تیار کیے گئے مقالوں تک محدود ہے۔ کہیں بھی کسی بھی یونیورسٹی میں سنجیدہ تنقیدی و تحقیقی شعور ریسرچ اسکالر میں شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ کوئی یہاں یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ کسی کی تعریف کرنے کے لیے سب کی تنقیص کرنا کیا ضروری ہے؟ لیکن یہ میرے ملول افسردہ دل کی آواز ہے۔کسی کی دل آزاری کرنا میرا مقصد نہیں ہے۔ بہر حال، اب کتاب کی جانب آتے ہیں۔
علاقائی سطح پر میری نظر سے اب تک جتنی کتابیں گزری ہیں یہ کتاب ان سب سے مختلف ہے۔ اس کتاب کے الگ ہونے کی سب سے اہم وجہ جو مجھے لگی وہ اس کتاب کا موضوع ہے۔ یہ کتاب شہر رامپور کی ادبی و تہذیبی تاریخ ہے اور مصنفہ کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے مطالعے کو کسی خاص عہد تک محدود نہیں کیا بلکہ قیام ریاست رامپور سے لیکر موجودہ عہد تک کا انہوں نے تذکرہ کیا ہے جو یقینی طور پر کافی محنت طلب کام ہے۔ ایک اور اہم بات اور چونکانے والی بات یہ ہے کہ کتاب بہت مختصر ہے، اور سبھی جانتے ہوں گے کہ کم لکھنا زیادہ لکھنے سے زیادہ مشکل کام ہے۔ یہاں یہ وضاحت کر دوں کہ کتاب کا اختصار اس کی کمزوری نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے کتاب کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے اور قاری نے اندر پڑھتے ہوئے تجسس کو بیدار کرتی جاتی ہے ورنہ تاریخی کتابیں اور خاص کر ادبی تاریخ کس قدر صبر آزما ہوتی ہیں اس کا اندازہ ہر طالب علم کو ہوگا۔
یہ کتاب لازمی طور پر تہذیب و ثقافت ، ادب ،آرٹ اور کلچر سے دلچسپی رکھنے والوں کو افراد کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے گی ۔ یہ کتاب شہر رامپور کی پوری ادبی و تہذیبی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے اور کہیں بھی نہ آپ کو تشنگی محسوس ہوگی نہ ہی کوئی بے جا طوالت۔اس کتاب کے ذریعہ مصنفہ نے شہر رامپور کا ایک ایسا مواد فراہم کر دیا ہے جو شہر کے قدیم دور سے لیکر موجودہ عہد کو محیط ہے۔رامپور کے تہذیبی و ادبی سرمایے کی حفاظت میں سعدیہ سلیم شمسی کو اس کاوش کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اس کتاب کو مصنفہ نے سات چھوٹے بڑے ابواب میں تقسیم کیا ہے، اب ہم بہت اختصار کے ساتھ ان ابواب پر بات کریں گے،اس سے قبل یہ بتا دیں کہ اس کتاب کے شروع میں اردو کے دو مایہ ناز ادیبوں کی مختصر تحریریں موجود ہیں جو اس کتاب کو چار چاند لگاتی ہیں۔ کتاب کے مقدمے میں مصنفہ نے اس کتاب کی وجہ تصنیف کو لے کر بہت اچھی بات لکھی ہے کہ ” جب دہلی اور لکھنو جیسے مشہور ادبی مراکز کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو رامپور کی شمولیت کے بغیر تشنگی کا احساس ہوتا ہے” ان کی یہ کتاب رامپور کے ادبی دبستان کی اہمیت کو سمجھنے اور اس شہر کی تہذیب و معاشرت، شعری و ادبی رویے اور تاریخ کو سمجھنے میں لازمی طور پر بہت ہی معاون ثابت ہوگی اور یہی مصنفہ کی بڑی کامیابی ہے۔
کتاب کا پہلا باب رامپور: تاریخ و تہذیب ہے ، اس عنوان کے تحت مصنفہ نے کمال اختصار کے ساتھ رامپور کے قیام کی تاریخ ، اس کی جغرافیائی صورتحال،آزادی تک وہاں کے نوابوں کا تذکرہ،وہاں کی مختلف نوابوں کے عہد میں علمی و ادبی سرگرمیاں اور آزادی کے بعد وہاں کی مذہبی،سماجی،معاشرتی اور تعلیمی صورتحال کا نقشہ کھینچ دیا ہے۔ اس مختصر باب کے بعد مصنفہ نے محض ایکک صفحہ میں ” ادبیات رامپور” کے تعلق سے بس ہلکا سا اشارہ کیا ہے جہاں انہوں نے ریاست رامپور کے بانی نواب فیض اللہ خان کی علم دوستی اور ادب نوازی کا تذکرہ کیا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے روہیلہ سرداروں کا بھی تذکرہ کیا ہے جن کا ریاست رامپور کی ادبی تاریخ میں اہم مقام ہے۔ یوں یہ ایک صفحہ بہت ہی لازمی اور قابل مطالعہ بن جاتا ہے اور قاری کے دل میں نواب فیض اللہ خان کی علم دوستی کی بابت مزید پڑھنے کا شوق پیدا کر جاتا ہے۔
مصنفہ نے اس کے بعد رامپور کی نثر نگاری اور شعرائے رامپور کے دو الگ ابواب قائم کیے ہیں جہاں وہ تفصیل کے ساتھ الگ الگ رامپور کے نثر نگاران اور شعرا کے بارے میں بحث کرتی ہیں۔ شعرا سے پہلے انہوں نے نثر نگاروں کا تذکرہ کیا ہے اور شاعری سے زیادہ توجہ انہوں نے نثر نگاری کو دی ہے یہ بات کہی جا سکتی ہے۔ ریاست رامپور کا قیام ۱۷۷۴ میں ہوتا ہے اور اس کے فورا بعد سے ہمیں وہاں نثر نگاری کے اعلی نمونے مل جاتے ہیں۔ پہلی کی کتاب جس کا تذکرہ مصنفہ نے کیا ہے وہ جائسی کی پدماوت کا ترجمہ ہے جسے میر ضیا الدین عبرت اور ان کے انتقال کے بعد میر غلام علی عشرت نے مکمل کیا۔ غلام علی عشرت نے ہی رامپور میں ” داستان سحر البیان” کے نام سے نثری داستان لکھی جس کا مخطوطہ رامپور کی رضا لائبریری میں موجود ہے۔ اس کے عالاوہ بھی اس زمانے کے بہت سے مخطوطات کا تذکرہ مصنفہ نے کیا ہے جو تاریخی رضا لائبریری میں موجود ہیں۔
اس باب میں سعدیہ سلیم شمسی نے جس عرق ریزی کے ساتھ پورے عہد کی نثری تاریخ کا احاطہ کیا ہے اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ قیام راپور سے لے کر اب تک جن لوگوں نے نثری ادب میں خدمات انجام دی ہیں ان کا نام اور ان کے کارنامے محض گنا دیے ہیں بلکہ انہوں نے مصنف کے حالات کے ساتھ کتاب کی ادبی و تاریخی اہمیت پر بھی بات کی ہے اور اس کے لیے انہوں نے قدیم ترین تذکروں اور مخطوطات کا مطالعہ کیا ہے جس کا اندازہ جا بجا حوالوں سے ہو جاتا ہے۔
قیام رامپور کے فوری بعد جس قسم کا ادب وہاں فروغ پاتا دکھائی دیتا ہے وہ بھی کم تعجب کی بات نہیں۔ نثر کی ہر صنف میں ابتدائی دور سے ہی گراں قدر تصنیفات مل جاتی ہیں اور کثیر تعداد میں بھی۔ ترجمہ،تاریخ،تذکرہ،تصوف،لغت،قواعد،داستان وغیرہ۔ میں اگر یہاں محض ان کتابوں کے نام مع مصنفین پیش کرنا چاہوں تو ایک دفتر کی ضرورت ہوگی۔ موجودہ عہد میں بھی وہاں کثیر تعداد میں نثر نگار موجود ہیں اور سعدیہ سلیم نے اس عہد تک کے تقریبا سارے ہی نثر نگاروں کا تذکرہ کر دیا ہے۔
ذکر رامپور کا ہو اور ادارۃ الحسنات ، جامعۃ الصالحات اور مولانا ابو سیلم عبد الحئی کا تذکرہ نہ ہو یہ ممکن ہی نہیں، مصنفہ کا تعلق اسی دینی،علمی و ادبی خانوادے سے ہے الحمد للہ۔ مولانا ابو سلیم عبد الحی کی خدمات کا دائرہ وسیع ہے اور ان کی تصانیف بھی کثیر تعداد میں ہیں، مصنفہ کو چاہیے تھا کہ وہ ان کی خدمات پر ایک پورا باب تحریر کرتیں لیکن یہاں بھی انہوں نے اختصار سے کام لیا ہے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے ریسرچ کا موضوع ” ادارۃ الحسنات کی ادبی خدمات” تو وہاں اس پر وہ تفصیل و صراحت کے ساتھ اس پر گفتگو کریں گی۔
نثر کے بعد مصنفہ نے شعرائے رامپور کا تذکرہ کیا ہے اور سب سے پہلا شاعر جو ریاست رامپور میں ملتا ہے وہ بانی ریاست کے چھوٹے بھائی محمد یار خان امیر ہیں۔مصنفہ نے ان کی شاعری کا نمونہ تو پیش کیا ہے پر یہ نہیں بتایا کہ ان کا کلام مخطوطہ یا دیوان کی شکل میں دستیاب ہے یا نہیں ۔ اس کے بعد کچھ اور شعرا کے حوالے دیکر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ ریاست رامپور کے قیام سے وہاں شاعری کا دور دورہ تھا لیکن اس کے بعد مصنفہ نے اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے شعرا کے نام، ان کی تاریخ پیدائش و وفات اور نمونہ کلام پر اکتفا کیا ہے۔ اختصار کی رو سے یہ بات قابل قبول ہے اور لیکن اس باب پر تشنگی باقی رہتی ہے جو شاید خاطر خواہ مواد کی کمی کی وجہ سے ہو یا مصنفہ نے نے شدید اختصار کو مد نظر رکھا ہو تاہم انہوں نے دبستان رامپور کے شعری اسلوب کے حوالے سے بہت اہم باتیں لکھی ہیں ۔ وہی شعری رویہ اور اسلوب رامپور کو دبستان رامپور بناتا ہے۔عہد در عہد وہاں کی شعری منظر نامے میں کس طرح کی تبدیلی آئی اور نئے شعرا کی کیا خصوصیات ہیں، مختلف ادبی تحریکوں کا وہاں کے شعرا نے کتنا اثر قبول کیا اور کس آگہی کے ساتھ انہوں نے شاعری کی اس سب کا تذکرہ اس باب میں موجود ہے۔ اب باب میں مصنفہ نے کس جانفشانی کا مظاہرہ کیا ہے اس کا اندازہ طویل حواشی اور حواشی پر جو انہوں نے اپنے نوٹ لکھے ہیں اس سے ہوتا ہے ۔
نثر اور نظم کے تذکرے کے بعد جو باب ہے اس کا عنوان ہی اپنے آپ میں منفرد ہے اور یہ مصنفہ کے تخلیقی ذہن کا غماز ہے۔ ” بیرونی شعرا کے رامپور سے روابط” بہت اہم باب ہے اور اس کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے بڑے بڑے ادبا و شعرا نے رامپور سے اپنا تعلق استوار رکھا تھا جیسے داغ رہلوی نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ رامپور میں گزارا۔ شعرا و ادبا کے علاوہ دیگر ماہرین فن کا بھی اس زرخیز سرزمین سے تعلق رہا ہے۔
اگلا باب اس حوالے سے اہم ہے کہ اس میں مصنفہ نے رامپور کی تاریخ و تہذیب اور ثقافت و ادب کے بارے میں موجود کتابوں پر بحث کی ہے اور اب اس فہرست میں خود مصنفہ کی کتاب بھی لازمی طور پر شمار کی جائے گی ۔ طبقات الشعرا،تذکرہ کاملان رامپور،تذکرہ ہنر مندان رامپور،رامپور شناسی اور رامپور کا دبستان شاعری اس باب کی کچھ اہم کتابیں ہیں جو لائق مطالعہ ہیں۔
آخری باب” رامپور:اہل علم و ادب کی نظر میں” ہے۔ یہاں مصنفہ نے غالب،داغ، امیر مینائی،آزاد انصاری اور کچھ دیگر شعرا کے ریاست رامپور کے تعلق سے کہے گئے اشعار پیش کیے ہیں ساتھ ہی مالک رام،رشید حسن خان،گوپی چند نارنگ،نثار احمد فاروقی جیسے ادبا کے اقتباس پیش کیے ہیں جن سے شہر رامپور کی ادبی و تاریخی اہمیت کا پتہ چلتا ہے ۔
شعر و ادب کے طالب علموں اور ریسرچ اسکالز کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے تاکہ ہم شعر و ادب کے ایک اہم دبستان کے تاریخی و ادبی صورتحال سے واقف ہو سکیں ۔ علاقائی سطح پر لکھی گئی اس طرح کی کتاب کے مطالعے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم اس شہر کے بڑے شعرا اور ان کے کلام کو الگ رنگ سے سمجھ سکیں گے ،ہم یہ جان سکیں گے کہ کس طرح کی تہذیبی و معاشرتی صورتحال میں ان کی ذہنی تشکیل ہوئی ۔ بہر حال داغ دہلوی کے اس قطعے کے ساتھ مضمون ختم کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اس کتاب کو اللہ وہ پذیرائی اور شہرت دے جس کی یہ مستحق ہے۔
ہے عجب شہر مصطفیٰ باد
اس کو رکھنا مرے خدا آباد

سب اسے رامپور کہتے ہیں
ہم تو آرام پور کہتے ہیں

Facebook Comments