نئی دہلی:نیا ہندوستان ،نیا سال اور اس نئے بجٹ میں ابھی تک آ پ کو اپنائیت کا احساس نہیں ہوا ہے تو پھر  آپ اس بات  کوغور سے پڑھ لیجئے کہ  آپ بچوں کے کھیلنے والے کھلونے مہنگے ہوگئے ہیں ،اسٹیشنری مہنگی ہوگئی ہے اور پٹرول ڈیزل،سونا ،کاجو،آٹو پارٹس،پی وی سی  اور ٹائلس بھی مہنگے ہوگئے ہیں ۔دھیان لگا کے سنئے کہ سونا چاندی بھی مہنگا ہوگیا ہے،اور اے  سی  لاوڈاسپیکر ،ویڈیو ریکارڈر،سی سی ٹی وی کیمرہ،گاڑی کے ہارن،اور منشیات کی چیزیں جیسے سگریٹ وغیرہ بھی مہنگی ہوگئی ہیں ۔۔ آٹو موبائل کے لیمپ اور بیم ،موٹر گاڑیوں میں استعمال کئے جانے والے تالے،اورغیر ملکی فرنیچر بھی اس بجٹ کے بعد مہنگے ہوگئے ہیں ،،،،،،،لیکن زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے چونکہ حکومت نے آپ کا خیال بھی رکھا ہے اور الیکٹرک کاریں سستی کردی ہیں ،ہوم لون سستا ہوگیا ہے،تیل سیمپو،توتھ پیسٹ،بجلی کا گھریلو سامان بھی سستا کردیا ہے،پنکھا ،بریف کیس،بیگ بوتل ،کنٹینر بھی سستا ہوا ہے،چشمے کا فریم ،گدّا،بستر ،بانس کا فرنیچر،سوکھا ناریل،اگربتی  پاستا،نمکین،میونیز،سینیٹری نیپکن یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو بجٹ کے بعد سستی ہورہی ہیں ،کھانے پینے کی چیزوں میں چاکلیٹ،،،،کُوکر،چولہا اور پرنٹر وغیرہ سستے ہوگئے ہیں اس لئے آپ  اپنے بچوں کے کھلونے کے مہنگے ہونے پر حکومت  سے ناراض نہ ہوں۔۔۔۔۔۔

اب ہم اس بجٹ میں دو چیزیں اور تلاشنے کی کوشش کررہے ہیں چونکہ یہ دونوں  اس لئے بھی اہم ہے کیوں کہ یہ  دونوں مرکزی حکومت کے بہت قریب ہے ، ایک ہندوستان کی فوج آرمی یعنی ڈیفنس کیلئے بجٹ میں کیا کچھ رکھا گیا تھا اور پھر ہندوستان کے اقلیتوں کیلئے اس بجٹ میں کیا رہا۔۔

بجٹ کھنگالنے کے بعد جو نکل کرسامنے آیا اس کے مطابق  نئے ہتھیار کی خریداری اور تجدیدکاری کیلئے  حکومت ہند کے اس عام بجٹ میں  گزشتہ عام بجٹ کے مقابلے چھ فیصدی کا اضافہ کیا گیا ہے اور اب  تین عشاریہ تین سات لاکھ کروڑ روپئے کا بجٹ ڈیفنس کیلئے مختص کیا گیا ہے۔

اب  با ت کر لیتے ہیں اقلیتوں کے سلسلے  میں ،،،،،اور اس بجٹ میں  وزارت برائے اقلیتی امور کوحکومت نے  کچھ حد تک نوازنے کی کوشش ضرور کی ہے۔ چونکہ وزیر مالیات نے اقلیتی امور کے بجٹ میں تین سو انتیس کروڑ کا اضافہ کیا ہے اور اب اقلیتی امور کی وزارت کا کل بجٹ پانچ ہزار انتیس کروڑ ہوگیا ہے۔وہیں  مدرسہ جدید کاری اسکیم کے بجٹ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور اس اسکیم میں سو کروڑ کا اضافہ کرکے دو سو بیس کروڑ کردیا ہے جبکہ یہ بجٹ دوہزار سولہ میں دو سو پنچانوے کروڑ کا تھا جس کو گھٹا کر ایک سو بیس کرو ڑ کردیا گیا تھا اور اب اس میں اضافہ کرتے ہوئے دو سو بیس کروڑ کردیا گیا ہے جس سے کئی سالوں سے بغیر تنخواہ کے کام کررہے اساتذہ  کو راحت مل سکتی ہے اور صرف یوپی میں تیس ہزار اساتذہ کو اس سے راحت ملنے کی امید ہے۔تو یہ اقلیتوں کے اوپر مرکزی حکومت کی مہربانی ہے۔

Facebook Comments