موصل:عراق میں داعش نے جو قتل وغارت گری کا کھیل کھیلا ہے اس کو انسانی تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ان درندوں نے ہزاروں بچوں کو یتیم اور عورتوں کو بیوہ کردیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اپنی زندگی کا بوجھ خود اپنے کاندھے پر اٹھانے کیلئے مجبور معصوم یتیم بچوں کی تعداد موصل کی سڑکوں پر کافی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے جو یا تو آنے جانے والوں سے بھیک مانگ رہے ہیں یا پھر قلم ،پانی بوتل اور ٹیشو پیپر بیچ کر دو وقت کی روٹی کا انتظام کر رہے ہیں۔داعش کے تین سالہ درندگی کے دور نے موصل کو تہس نہس کرکے رکھ دیا اور نہ جانے کتنے معصوم اور بے قصور مسلمانوں کے خون سے موصل کی زمین کو سیراب کر دیا۔عراق کے موصل کا محمد سلیم نامی ایک معصوم بچہ جو روزانہ چند ٹیشو پیپر کا بنڈل لیکر موصل کی سڑکوں پر بیچنے کیلئے نکلتا ہے ،انہوں نے داعش کے درندوں کے ہاتھوں اپنے والد کی شہادت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد کو داعش کے لوگوں نے مار دیا ،مجبوری ہے میری کہ مجھے زندہ رہنے کیلئے یہ سب کرنا پڑ رہا ہے۔میں ٹیشو پیپر بیچتا ہوں ،میں روز صبح سات بجے سڑکوں پر آجاتا ہوں اور رات کے دس بجے تک ٹیشو پیپر بیچتا رہتا ہوں۔بارہ سال کے محمد سلیم نے اپنے چہرے سے گرد و غبار کو صاف کرتے ہوئے کہا کہ میں یہیں مغربی موصل کے نبی یونس جنکشن کے پاس ٹیشو پیپر بیچتا رہتا ہوں۔سلیم اپنی ماں کا اکیلا بیٹا ہے اور وہ اپنی ماں کو اس دلدل سے نکال کر باہر لانا چاہتا ہے۔نائینوے میں واقع آرفنس جوائے نامی گروپ کے مطابق یہاں کوئی سرکاری اعداد و شمار نہیں پیش کیا گیا ہے کہ اب تک کتنے بچے اپنے والدین کے سایہ سے محروم کیے جاچکے ہیں۔لیکن اس گروپ کے ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ ۶۲۰۰ یتیم بچے نائینوے میں ہیں جن میں ۳۲۸۳ کے والدین حالیہ دنوں ہوئے موصل میں قتل عام کے دوران شہید کردیے گئے۔آرگنائزیشن کے ہیڈ کیدار محمد نے کہا کہ موصل میں دو قسم کے گروپ یتیم بچوں کے ہیں۔ایک لڑکوں کا اور دوسرا لڑکیوں کا۔ہم نے کثیر تعداد میں چھ سال سے ۱۸ سال کے بچوں کو سڑکوں پر دیکھا ہے۔جو اپنے لئے دو وقت کی روٹی کی تلاش میں دھول پھانکتے رہتے ہیں۔ہر روز درجنوں بچے آپ کو ٹریفک سنگل پر نظر آجائیں گے۔جو لوگوں سے بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں۔ٹریفک پر کھڑی گاڑیوں کے وہ کبھی شیشے صاف کرکے پیسے مانگتے ہیں تو کبھی ٹیشو پیپر بیچ کر پیسے جما کرتے ہیں۔اور کوئی پانی بیچ کر بھوک مٹانے کا انتظام کر رہا ہوتا ہے۔دس سالہ علی بنیان کا کہنا ہے کہ میرے گھر والوں کو مار دیا گیا اور میرے گھر میں آگ لگا دی گئی ۔میرا گھر اولڈ سٹی میں تھا جس کو بم کے ذریعے تہس نہس کردیا گیا۔میرا اب کوئی بھی رشتہ دار نہیں ہے۔میں زندہ رہنے کیلئے بھیک مانگتا ہوں۔مجھے کام کی تلاش ہے تاکہ میں اپنے آپ کو زندہ رکھ سکوں۔وہیں آرگنائزینش کا کہنا ہے کہ اب بھیک مانگ رہے ان بچوں کو نوجوانوں کی ایک ٹیم نے گروپ میں شامل کرنا شروع کردیا ہے اور انہیں اب اس بات کیلئے مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ بھیک مانگ کر کچھ پیسے انہیں بھی دے۔موصل میں مقیم ۳۵ سالہ ابو حامد نے کہا کہ میں ایک دن میڈیکل میں اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا ،میں نے اسپتال کے ایک عملہ کو دیکھا کہ اس نے ایک بچی کو اسقبالیہ کے پاس سے بھگا دیا،جو کہ ان سے بھیک مانگ رہی تھی۔جب وہ باہر نکلی تو اس نے مجھ سے کہا کہ میں نے ہفتہ بڑھا کر دینے سے گروپ کو انکار کردیا تھا اس لئے اس نے مجھے بھگا دیا ۔سماجی ریسرچر فاطمہ خلف کے مطابق اگر بچے اسی طرح سڑکوں اور گلیوں میں بھیک مانگتے رہے اور ہم نے ان کی مدد نہیں کی تو یہ بھی ایک نہ ایک دن مجرمانہ واردات کی طرف قدم بڑھانا شروع کردیں گے۔

Facebook Comments

4 COMMENTS

  1. I would like to thnkx for the efforts you’ve put in writing this site. I am hoping the same high-grade site post from you in the upcoming as well. In fact your creative writing abilities has encouraged me to get my own site now. Actually the blogging is spreading its wings quickly. Your write up is a good example of it.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here