نئی دہلی:بابری مسجد رام مندر تنازعہ کی وجہ سے ایک طرف جہاں ملکی سطح پر کچھ حد تک من مٹاو دیکھنے کو مل رہا ہے وہیں دوسری طرف ایودھیا میں ہندو مسلم بھائی چارے کی ایک الگ ہی تصویر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ایودھیا میں آج بھی ایک ہی وقت میں مسجد سے اذان اور مندر سے گھنٹے کی آواز گونجتی ہے۔مندر کے احاطے میں مسجد اور یہاں تک کہ مندر اور مسجد کی دیوار کے ایک ساتھ منسلک ہونے کے باوجود ایودھیا کے ہندو مسلم بھائی چارے پر ذرہ برابر بھی آنچ نہیں آئی ہے،ایک ساتھ ایودھیا میں ایک دوسرے سے منسلک کئی مسجد مندر اور مزارات ہیں۔

کمال کی بات یہ ہے کہ مزارات پر ہندو عقیدت مند بھی شوق سے چادر چڑھانے کیلئے حاضر ہوتے ہیں۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہنومان گڑھی مندر کے احاطے میں اورنگزیب مسجد واقع ہے جس کو مغلیہ دور میں بنایا گیا تھا ،یہاں آج بھی پانچ وقت کی نماز ہورہی ہے۔وہیں دوسری طرف منی پروت کے پاس سیتا مندر کے قریب حضرت ثیث کا مزار واقع ہے وہیں ایودھیا کوتوالی پولیس اسٹیشن کے پیچھے حضرت نوح علیہ السلام کا مزار بھی ہے اس سے دو قدم کی دوری پر دو مندر بھی ہے۔درگاہ حضرت نوح کے شمالی حصے میں جامع مسجد ہے جس کی دیوار رام مندر سے ملی ہوئی ہے۔رام مندر سے چند قدم کی دوری پر شاہ ابراہیم شاہ کا مزارواقع ہے جہاں اکثر ہندو مسلم ایک ساتھ چادر چڑھاتے نظر آتے ہیں۔سیاسی گہما گہمی اور مندر مسجد کے مدعے پرہنگامے سے دور ایودھیا کی یہ سچی تصویر ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی اپنے آپ میں بڑی گواہ ہے جہاں رام بھی ہے اور رحیم بھی۔اور کمال کی بات یہ ہے دونوں آج بھی ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی ہیں۔

Facebook Comments