بانی جامعہ امام ابن تیمیہ کے سانحہ ارتحال پر دہلی میں تیمی اخوان کی تعزیتی مجلس میں حاضرین کا خطاب اور مادر علمی سے ہرممکن تعاون کرنے کا اظہارعزم

نئی دہلی(۸مارچ):ڈاکٹر محمد لقمان سلفی قوم وملت اور جماعت کے عظیم سرمایہ اور ہمہ جہت آفاقی شخصیت کے مالک،سلفیت کے بہت بڑے علمبردار وخیر خواہ تھے۔انہوں نے پوری زندگی قوم وملت اور جماعت کی تعمیر وترقی،فلاح وبہبود،تعلیم وتربیت اور اصلاح ورفاہ کیلئے وقف کررکھی تھی۔ ان کی زندگی نسل نو کیلئے مشعل راہ ہے،ان خیالات کا اظہار آج مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانااصغر علی امام مہدی سلفی نے کیا۔موصوف دہلی واطراف میں مقیم تیمی اخوان کی جانب سےتعزیتی اجلاس منعقدہ اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا نئی دہلی میں حاضرین سے خطاب کررہے تھے۔افتتاحی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی میڈیا کوآرڈینیٹر مرکزی جمیعت اہل حدیث ہند و چیئرمین الثقافہ فاونڈیشن نئی دہلی نے علامہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی کی ہمہ جہت شخصیت اور متنوع خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ بہ یک وقت بلند پایہ مفسر ،محدث،فقیہ،سیرت نگار،ماہر تعلیم ،عربی،اردو اور انگریزی کے ادیب وخطیب،منتظم اور جہاں آگاہ مدبر تھے۔انہوں نے ازخود حرکت وعمل کا جہان تازہ آباد کیا تھا۔ان کے اخلاص وللہیت اور دیدہ وری کا ثمرہ ہے کہ جنگل میں منگل کا سماں پیدا کرنے والا ان کا قائم کردہ تعلیمی وتربیتی ادارہ جامعہ امام ابن تیمیہ پوری دنیا میں ایمان وعمل اورتعلیم وتربیت کی مشعل روشن کئے ہوا ہے۔
مجلس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرعبدالواسع تیمی نے کہا کہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی نے مدارس میں  عصری تعلیم کی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد رکھی اور اس مشن کو لے کر آگے بڑھے جس کو سرسید احمد خان لیکر چلے تھے۔ڈاکٹر لقمان سلفی کی وفات سے قوم وملت نے دوسرا سرسید کھودیا ہے۔دہلی ہائی کورٹ کے سینئر مترجم ہشام الدین تیمی نے کہا کہ ڈاکٹرمحمد لقمان کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ وہ جس سے بھی ملتے تھے پرتپاک انداز میں ملتے تھے ۔ان کی وفات پر زمانے کا افسوس کرنا فطری ہے۔عبدالصمد تیمی نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈاکٹر لقمان سلفی نے دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کو بھی بڑی اہمیت دی اور عصری ادارے بھی قائم کئے۔ممتازعالم تیمی نے کہاکہ فکر ونظر میں تنوع ڈاکٹر لقمان سلفی کا امتیاز تھا،اس لئے انہوں نے نصاب تعلیم کے اندر عصری علوم کو بھی شامل کیا جس کی وجہ سے وہاں کے فارغین ہر میدان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔وہیں دوسری جانب مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے خازن وکیل پرویز نے بھی تعزیتی مجلس میں حصہ لے کر پوری جماعت کی طرف سے ڈاکٹر لقمان سلفی کے تئیں دلی تعزیت کا اظہار کیااور مجلس میں موجود مولانا اظہر مدنی ڈائریکٹر اقرا انٹرنیشنل  گرلس اسکول جیت پور نےکہا کہ ڈاکٹر لقمان سلفی کے اندر بہت وسعت قلبی تھی ،یہی وجہ ہے کہ جماعت کے ہر ادارے کو بڑھتا اور ترقی کرتا دیکھنے کے خواہاں تھے ۔ان کے علاوہ جے این یو سے فیض الرحمن  تیمی،محبوب عالم تیمی،جامعہ ملیہ اسلامیہ سے لعل محمدچاند تیمی، جامعہ الازہر الھندیہ سے اسداللہ تیمی نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔وہیں تعزیتی مجلس میں احمد حسن تیمی،ابوالاکلام آزاد تیمی ،اجمل گلزار تیمی،رحمت کلیم تیمی،امانت اللہ تیمی،حضرت علی تیمی،ابوسعد تیمی،محمد سمیر تیمی،ضیاالرحمن تیمی،عتیق الرحمن تیمی،مشتاق جمیل اختر تیمی،تنزیل احمد تیمی،تنویراحمد عالم تیمی،عبدالباری تیمی،ضیا اللہ صادق تیمی،محمد خالد حشم اللہ تیمی ،محمد سیف الدین تیمی،تاج الدین تیمی،اخلاص ابوطلحہ تیمی وغیرہ نے بھی شرکت کی ۔واضح رہے کہ تمام تیمیوں نے اس اجلاس میں اپنے پدر روحانی ڈاکٹرمحمد لقمان سلفی کے مشن کو مزید مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھانے اور جامعہ امام ابن تیمیہ کو ہرممکن تعاون پیش کرنے کا عزم کیا۔
مجلس کا آغاز حضرت علی تیمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا اور اختتام پر ڈاکٹر شیث تیمی نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا

Facebook Comments