نئی دہلی(پریس ریلیز)معروف عالم دین مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے معروف سماجی وسیاسی ،ملی ورفاہی اور تعلیمی شخصیت پروفیسر محمد سلام کے انتقال پر گہرے رنج وافسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کی موت کو ملک وملت کا بڑا خسارہ قرار دیا ہے۔اخباری بیان کے مطابق مولانا نے فرمایا کہ پروفیسر محمد سلام جہاں تعلیم کے میدان میں نونہالان قوم وملت کو عرصہ تک فیض پہنچاتے رہے وہیں سماجی کاموں میں بھی اپنی منفرد پہچان رکھتے تھے۔ملی مسائل سے خاص دلچسپی تھی،ملی شخصیات سے ان کا گہرا تعلق تھا اور وہ سیاست کے دشوار ومشکل میدان کے بھی شہسوار اور صاف ستھری شخصیت کے مالک تھے۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے پروگراموں سے بھی بڑا گہرا لگاو تھا۔امیر محترم سے خاص عقیدت وتعلق رکھتے تھے اور جمعیت کے مختلف کانفرنسوں اور پروگراموں کے مواقع اپنے پیغامات اور تقریروں و تحریروں سے تعاون فرماتے رہتے تھے۔اور وقتاً فوقتاً اہل حدیث کمپلیکس تشریف لاتے اور اہم ملی مسائل پر تبادلہ خیال فرماتے تھے۔ان کی سیاست میں کافی پکڑ تھی۔وہ بہار اسٹیٹ اقلیتی کمیشن اور بہار اسٹیٹ فوڈ کمیشن کے چیئرمین بنائے گئے،بہار کے وزیراعلیٰ جناب نتیش کمار جیسے محنتی ومخلص اور قومی سطح کے لیڈر کے وہ معتمد خاص تھے۔کئی میقات تک وہ بہار جنتادل یونائٹیڈ کے اقلیتی سیل کے ریاستی صدر رہے۔
مولانا سلفی نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے پروفیسر سلام کو بڑی خوبیوں سے نوازا تھا،وہ ایک متواضع اور ملنسار اور بلند اخلاق وسنجیدہ طبع انسان تھے اور ملت کا بڑا درد رکھتے تھے۔بلاشبہ وہ وطن عزیز کے اہم اور پیارے سپوت تھے،ظاہر سی بات ہے کہ ایسی محب وطن اور مخلص انسانیت وملت اور صاف ستھری شخصیت کے اچانک اٹھ جانے سے متعلقہ پارٹی اور ملک وملت کا بڑا خسارہ ہوا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں پروفیسر محمد سلام کے اہل خانہ واعزہ واقارب اور وزیراعلیٰ نتیش کمار جی سے قلبی تعزیت کی ہے اور دعاگوہیں اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے،جنت الفردوس کا مکین بنائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق بخشے۔اور ان کی رحلت سے ملک وملت اور سیاست میں جو خلاپیدا ہوا ہے اس کی بھرپائی فرمائے۔آمین

Facebook Comments