’’قلم کار ادبی فورم‘‘کے تحت ’’عصری مسائل اور اردو ناول‘‘ کے موضوع پر 27.06.2020 کو ہونے والے ایک آن لائن مذاکرے پر مبنی تحریر:ـ  مذاکرے میں شرکت کرنے والے خصوصی مہمانان معروف فکشن رائٹرس جناب حسین الحق اور رحمٰن عباس کے علاوہ شعبۂ تاریخ، علی گڈھ مسلم یونی ورسٹی کے پروفیسر محمد سجاد صاحب بھی تھے۔ عمران عراقی Moderator کے طور پر مذاکرے میں شامل رہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمران عراقی:

آج کے اس مذاکرے میں آپ تمام مہمانان کا استقبال ہے۔  (پروگرام کی شروعات پروفیسر سجاد صاحب سے کرتے ہوئے) آپ کی تحریروں میں یہ محسوس کیا گیا ہے کہ جب آپ  سماجی، سیاسی  اور معاشی مسائل کے پس پشت تاریخ کا مطالعہ پیش کرتے ہیں تو آپ کا رجحان اردو فکشن  اور خاص طور پر ناول کی طرف دیکھنے کو ملتا ہے۔ کیا آپ ان ناولوں میں تاریخی واقعات کے سرے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ یا فکشن کو تاریخ کا متبادل کے طور پر ہیں؟

پروفیسر سجاد صاحب:

1980 کے بعد بہت ساری تبدیلیاں رونما ہوئیں نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ پورے بر اعظم پر مرد و عورت کے رشتے میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ ہندو مسلم کے رشتے میں بھی یہ تبدیلیاں آئیں۔ اور پھر مذہبی سطح پر ان رشتوں میں آنے والی تبدیلیوں کا تو ایک طویل سلسلہ ہے۔ بہر کیف ہمارے جو عصری مسائل ہیں ان کا فکشنل آرٹیفیکیش ہونا چاہیے۔ جو شاید کم کم ہوا ہے۔ حالانکہ میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ظاہر ہے اردو فکشن کے تعلق سے میرا مطالعہ اتنا وسیع نہیں ہے۔ بہت ممکن ہے بعض ایسے ناولوں تک میری رسائی نہیں ہوئی ہو۔  لیکن بہت ساری مرتی ہوئی بولیوں کی groceries اور اصطلاحات کو زندہ ہونا ضروری ہے۔

دیکھئے جس طرح الیاس احمد گدی نے ’’فایر ایریا ‘‘ میں coal mining کے micro detail کو پیش کیا ہے۔ اس طرح تاریخ نہیں پیش کرتا۔ ظاہر ہے تاریخ کی اپنی ایک حد ہے لیکن فکشنل فارم میں ان تمام حدود کو توڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔

تاریخ میں محدودیت ہوتی ہے جبکہ فکشن میں پھیلاؤ ہوتا ہے، عہد کے مزاج کو فکشن ہی represent کر سکتا ہے فکشن picture details کو capture کرتا ہے۔ایک عام قاری کو سماج کی تمام چیزوں کا اندازہ ہونا چاہیے اور مسائل سے واقفیت ہونی چاہیے۔

پچھلے 20/30 برسوں میں Rural Crime نے خاص  shapeلیا  اور بہت سارے مسائل پیدا کئے جس پر دھیان نہیں دیا گیا جبکہ rural crime ہماری زندگیوں کو براہ راست متاثر کرتا ہے جس کا فکشنل ارٹیکلیشن ہونا چاہیے ۔

1990 کے بعد کی نسل میں اردو کا قاری کم ہوا جبکہ اردو ادب میں بہت valuable fiction لکھا جا رہا ہے۔ اردو ادب کو حالات حاضرہ کے challenges کو accept کرنا چاہیے اور socially meaningful literature کی تخلیق ہونی چاہیے تاکہ قاری کو دلچسپی محسوس ہو اور نئی نسل اردو زبان کی طرف بڑھے۔

عمران عراقی:

(حسین الحق سے مخاطب ہوتے ہوئے) سجاد سر خاص طور پر 80کی دہائی کا ذکر کرتے ہوئے سماجی تبدیلیوں کی بات کرتے ہیں اور پھر فکشن میں پیش کئے جانے والے اس Micro Detail  کا حوالہ بھی پیش کرتے ہیں جو خصوصی طور پر ناول کا خاصہ ہے، اس حوالے سے آپ فکشن کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ موجودہ صدی کی بات کی جائے تو کیا ہمارے ناول نگاروں نے سماجی تبدیلیوں کی طرف خاص توجہ دی ہے؟ اگر دی ہے تو حالیہ برسوں میں سماج اور فرد کو جو مسائل درپیش آئیں ہیں وہ اردو ناولوں میں نظر کیوں نہیں آتے؟

حسین الحق:   

دیکھئے پہلے تو یہ سمجھنے کی ضروری ہے کہ  ادیب اور ایک social scientists  کی بصیرت میں تھوڑا فرق ہے۔جو چیزیں ہم دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ ہمارے اندر جاتی ہیں اور جس انداز میں جذب کرکے باہر آتی ہیں وہ ہمارا فن ہوتا ہے۔ جن چیزوں کو ہم تصور میں بھی نہیں لاتے اور تخلیق ہو جاتی ہیں۔ بہت ساری چیزیں لکھی کسی اور مسئلے پر جاتی ہیں اور فٹ کہیں اور ہو جاتی ہیں-لکھنے والے کی تحریر کسی ایک موضوع کے لیے لکھی جاتی ہے لیکن بہت سارے واقعات اس میں منطبق ہو جاتے ہیں دوسری بات یہ کہ عصری مسائل بیک وقت الگ الگ لوگوں پر الگ طریقے سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہم سب لکھنے والے جو ماضی قریب کے سلسلے میں جو کچھ لکھ رہے ہیں اپنی یادداشت کے مطابق لکھ رہے ہیں۔

’’روحزن‘‘  میں رحمٰن عباس ’’اسرار و حنا‘‘ کی صورت میں عشق کے نکات کو جاری و ساری دیکھتے ہیں اور جب وہ بھنور میں گھرتے ہیں تو چیزیں کیسی محسوس ہوتی ہیں تخلیقی آدمی ان دونوں کے بیچ ایسا سرایت کرتا ہے جیسے اس نے یہ سب کچھ خود محسوس کیا ہو۔

میرے خیال میں افسانہ close up ہے اور ناول zoom   کرکے زندگی کو دکھاتا ہے لیکن ناول نگار بھی کسی نہ کسی frame سے جڑا ہوتا ہے ۔ اور اسی فریم کے تحت وہ مسائل کو پیش کرتا ہے۔

خدیجہ مستور نے ’’آنگن‘‘ میں اپنے مشاہدے کو جس آنگن میں سمیٹ کر رکھا وہ پورے ہندوستان میں چھا گیا۔ مسئلہ بذات خود اتنی اہمیت کا حامل نہیں ہے بلکہ اسے کس طرح پیش کرنا ہے یہ معنی رکھتا ہے۔ ناول کے لیے یہ بنیادی چیز ہے کہ ناول نگار کس مسئلے کو اٹھاتا ہے اور اس سے جڑے سارے raw materials   کا مشاہدہ کریں۔

نورالحسنین کا ناول “ایوانوں کے خوابیدہ چراغ” جس میں 1857 کا منظر بیان کیا گیا ہے ناول کے بیانیہ کے اندر ہے۔ اس کے باوجود ایک مدار ہر ناول نگار اپنے لئے بناتا ہے اور اسی مدار کے گرد اپنے بیانیہ کی بیت طے کرتا ہے یہ شاید اردو کی بدقسمتی ہے کہ اردو کو Urban Language  کہا جاتا ہے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اردو طبقۂ اشرافہ کی زبان ہو کر رہ گئی ہے۔

آپ دیکھئے کہ  اردو (خاص طور پر ناول نگاری میں) میں جو نام سامنے ہیں وہ دیہات سے تعلق رکھتے ہیں لیکن دیہات سے آٹھ کر شہر جانے کے بعد انہوں نے پلٹ کر دیہات کی طرف دیکھا ہی نہیں۔ لہذا ان کا طرزِ انتخاب بھی ایسا ہی ہے جس میں مسئلوں پر صرف افسوس ظاہر کیا گیا ہے ۔ اسے پیش نہیں کیا گیا۔

عمران عراقی:

حسین الحق صاحب ابھی جب آپ نے اردو کو Urban Language کی اصطلاح کے طور پر پیش کیا تو میں یہاں ہندی کے ایک ناولफाँस ‘‘ کا ذکر کروں گا(ناول نگار سنجو) ، جسے حال ہی میں میں نے پڑھا ۔ غالباً یہ  ناول 2016 میں شائع ہوا۔ بنیادی طور پر اس ناول کا موضوع کسانوں کی خود کشی ہے۔ جو معاشی طور پر تنگ حالی میں گزر بسر کرتے ہوئے آخر کار خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ فنی اعتبار سے یہ ناول کتنا اچھا ہے یا کمزور ہے، یہ الگ بحث ہے لیکن اس ناول کو پڑھنے کے بعد یہ خیال ضرور آتا ہے کہ کیا اردو والوں نے کسانی کے پیشے کو ترک کر دیا ہے یا اردو والوں کو کسانوں سے کوئی سروکار نہیں؟ کیونکہ اگر اکیسویں صدی کی بات کی جائے تو کوئی ایک ایسا ناول نہیں نظر آتا جس نے اس مسئلے کو موضوع بنایا ہوگا۔

رحمٰن عباس:

عمران ! ایسا نہیں ہے! تم ساجد رشید کے افسانوں کو پڑھ جاؤ وہاں ان مسئلوں پر کئی اچھے افسانے ملیں گے بلکہ اس طرح کے مسئلے پر سلام بن رزاق نے بھی کئی اچھے افسانے لکھے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ہندی یا انگریزی میں اس موضوع پر ناول لکھے گئے اردو میں ایسا کیوں نہیں؟ اردو میں بھی بعض ایسے موضوعات پر ناول لکھے گئے جس کی مثال دیگر زبانوں میں نہیں ملتی۔

عمران عرقی:

آپ کا کہنا صحیح ہے لیکن پہلی بات تو فی الحال ہمارا concern ناول ہے اور اس حوالے سے میں نے پہلے بھی لکھا ہے کہ افسانے تو ہر آن رونما ہونے والے سماجی مسائلے کے ردعمل کے طور پر فی الفور سامنے آجاتے ہیں لیکن جیسا کہ ابھی حسین الحق صاحب نے عرض کیا کہ ناول زندگی کو Zoom کر کے دیکھنے کا نام ہے، تو اس ژوم والے فریم میں ان مسائل کو پیش کیوں نہیں کیا گیا؟

رحمٰن عباس:

تاریخ اور تاریخ کا بیشتر حصہ اقتدار کو مد نظر رکھ کر لکھا جاتا ہے، تاریخ سمجھوتہ کر لیتی ہے لیکن فکشن سمجھوتہ نہیں کرتا، ناول سارے چیلنجز کو قبول تو کرتا ہے لیکن ناول کا کام political narrative سے الگ ہو کر لکھنا ہے، پلیتہ  (پیغام آفاقی)  ایک political significant ضخیم ناول ہے۔ جزباتیت اور pessimism  فکشن کو سنجیدگی سے دور کرتا ہے ۔

موضوعات کو ادیب اور صحافی الگ الگ ڈھنگ سے بیان کرتے ہیں ادب میں پروپیگنڈا نہیں ہونا چاہیے۔ کسی بھی طرح کی شدت پسندی ادب کا موضوع نہیں ہے ادب ایک زندہ انسان کی تخلیق ہوتی ہے جو تعصبات سے مبرا نہیں ہے۔ ناول کو مسائل پر گفتگو کرنی ہے اور عصری مسائل پر بھی کرنی ہے لیکن ناول چونکہ تاریخ اور سماجی مطالعہ سے الگ صنف ہے ایسی صورت میں ناول نگار سے یہ مطالبہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ موضوع کیوں نہیں بیان کیا گیا؟ عصری مسائل کے دو  رخ ہوتے ہیں اور بیانیہ میں کچھ چیزیں eternal ہوتی ہیں۔ اب اسے کیا کہا جائے کہ لکھنو کے لکھنے والوں پر درباریت اب بھی حاوی ہے۔

حسین الحق :

 ناول نگار پوری شخصیت کا مظاہرہ ہوتا ہے لیکن مسئلوں کو بیان کرنے میں ضبط ِتحریر ہونا چاہیے اور ضبط ِفن بھی۔ ناول کا فن اخبار یا تاریخ نہیں ہے بلکہ فن کو فن کی نزاکتوں پر کھرا اترنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔

 کلمات تشکر ادا کرتے ہوئے محمد حسین نے جب کہا کہ آج کے اس آن لائن سمپوزیم سے ناول اور عصری مسایل پر بہت ہی کار آمد اور علمی گفتگو ہوئی جس میں حسین الحق صاحب نے ناول نگاری کے فن کی نزاکتوں اور باریکیوں پر خاص توجہ مرکوز رکھی تو رحمان عباس نے socio-political  پہلو پر اپنی گفتگو میں زور دیا۔ محمد حسین نے  اردو حلقے میں  گردش کرنے والے سوال کی جانب اپنے مہمان مقررین کی توجہ دلائی کہ بہت سے ایسے موضوعات ہیں جن کو اردو کے ناول نگاروں نے نہیں برتا مثلاً سیلاب اور سونامی جیسے  قحط یا پلیگ یا دیگر وباؤں نے ہمارے ناول نگاروں کو متوجہ نہیں کیا یا ہمارے ناول نگاروں نے ان موضوعات کو اس لائق نہیں سمجھا۔ جس پر حسین الحق اور رحمان عباس دونوں صاحبان نے مشترکہ طور پر جواب دیا کہ ناول نگار ایک فن کار ہوتا ہے اس سے کبھی بھی آپ یہ مطالبہ نہیں کر سکتے ہیں کہ فلاں موضوع پر وہ ناول لکھے اس کی طبیعت کا میلان جدھر ہوگا اسی طرف وہ اپنی فنی مہارت دکھائے گا۔ اور یہ کیا ضروری ہے کہ پر موضوع پر فکشن ہی لکھا جائے بلکہ کچھ موضوعات پر Non Fictional تحریری بھی آنی چاہیے۔

شکریہ…

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریری پیش کش:  صبا صبوحی (ریسرچ اسکالر)

 ونوبا بھاوے یونی ورسٹی، ہزاری باغ، جھارکھنڈ

Facebook Comments