ممبئی:مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی سریش دھس نے بہار کی خواتین پر ایک متنازع تبصرہ کیا ہے۔مہاراشٹر میں کام کررہے بہار کے مردوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بھاجپا لیڈر نے کہا کہ بہار کی خواتین کے شوہر تو مہاراشٹر میں رہتے ہیں اور بچے گاوں میں پیدا ہوجاتے ہیں ،اس فحش تبصرے کے ساتھ ساتھ مزید انہوں نے یہ بھی کہا کہ بچہ پیدا ہونے کی اس کوخوشی میں ان خواتین کے شوہر یہاں میٹھائیاں تقسیم کرتے پھرتے ہیں۔بھاجپا لیڈر کے اس شرمناک بیان پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے شمالی بھارتیہ پنچایت نے سریش دھس کو جوتے چپل سے مارنے والوں کیلئے گیارہ ہزار روپئے بطور انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔پنچایت کے ونئے دوبے نے بھاجپا سے مطالبہ کیا ہے کہ سریش کے خلاف سخت سے سخت کاررائی کی جائے۔

وہیں مہاراشٹر بی جے پی لیڈر کے اس بیان پر بہارکی بھاجپہ یونٹ نے اس کی مذمت کی ہے۔پارٹی ترجمان نے اس بیان کو سماج میں نفرت پھیلانے والا بیان بتایا ہے۔ساتھ ہی سریش کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔وہیں اس معاملے میں جنتادل یونائیٹیڈ کی طرف سے پارٹی ترجمان راجیو رنجن نے اس بیان کو گیارہ کروڑ بہاریوں کی توہین بتایا ہے۔وہیں راجد کی طرف سے رکن اسمبلی رامانج پرساد نے کہا کہ خواتین پر ایسا تبصرہ کرنا بہت شرمناک عمل ہے،اور بھاجپا کے لوگ اسی سوچ کو ماننے والے ہیں۔

Facebook Comments