اس وقت ہندوستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے سامنے کورونا وائرس ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے،قریب دوسو ممالک میں روزانہ اس وائرس سے لوگوں کی ہلاکتیں ہورہی ہیں ،ہر ملک اپنے شہریوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے،لاک ڈاون اورر کرفیو اسی کوشش کا نتیجہ ہے چونکہ دنیا اب تک اس وائرس کو ختم کرنے کیلئے ویکسن بنانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔چین میں ایک بڑی تباہی ہوئی،تین ہزار سے زیادہ لوگوں کی موت ہوگئی۔اٹلی میں روزانہ پانچ سو سے زیادہ لوگ اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہورہے ہیں ،امریکہ برطانیہ،فرانس اسپین اور ایران کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی اس وائرس کی وجہ سے لوگوں کی موت ہورہی ہے ۔اسی موت کے سلسلے کو کم کرنے اور روکنے کیلئے بار بار عوام سے اپیل کی گئی اور کہا گیا کہ گھروں میں رہیں ،علیحدہ رہیں ،بھیڑ نہ لگائیں ،اجتماع نہ کریں ،سوشل ڈسٹنس مینٹن کریں اور لاک ڈاون کو کامیاب بنائیں ۔اس وائرس کی وجہ سے مسجد ہو یامندر ہر جگہ تالے لگا دیئے گئے۔مذہبی پروگرام پر پابندیاں عاید کردی گئیں تاکہ اس وائرس کو شہر اور ملک میں پھیلنے سے روکا جاسکے۔

ہندوستان میں لاک ڈاون ہو یا کرفیو،ہر مذہب کے ماننے والوں نے اس کو کامیاب بنانے کی کوشش کی ۔لیکن اس بیچ دہلی کے نظام الدین میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز سے جو خبریں باہر نکل کرآئیں وہ انتہائی تکلیف دہ ہیں ۔مارچ کے آغاز سے ہی ہندوستان میں یہ مہم چلائی جارہی تھی کہ  کورونا وائرس ہندوستان میں اپنا پاوں نہ پسار سکے اس لئے گھروں میں رہنے کو ترجیح دیں اور بھیڑ بھاڑ سے بچنے کی کوشش کریں ،اس بیچ مرکز سے تبلیغی جماعتوں کا سلسلہ جاری رہا ،ہندوستان کے بیشتر ریاستوں سے لوگ مرکز میں آتے رہے اور جب لوٹے تو خطرناک اور مہلک کورونا وائرس ان کے ساتھ ساتھ گیا ،اور ان کا جو دعوۃ وتبلیغ کا طریقہ ہے اس طریقے نے کورونا وائرس کو پھیلنے میں بڑی مدد کی ۔یہی وجہ ہے آج ملک کی بڑی بڑی ریاستوں میں یہ وائرس رنگ دکھارہا ہے ۔سات لوگوں کی موت ہوئی ،دہلی اور جموں کشمیر کے ساتھ ساتھ تلنگانہ کے یہ لوگ تھے جو مرکز کا گزشتہ دنوں دورہ کرکے اپنے گاوں لوٹے تھے۔تمل ناڈو میں پچاس کے قریب مثبت معاملے،دہلی میں دو درجن سے زیادہ مثبت معاملے،یوپی چھتیس گڑھ اور دیگر ریاستوں سے بھی جماعت سے منسلک افراد وائرس کے شکار بتائے جارہے ہیں ۔فہرست کافی لمبی ہے اور وائرس کا اثر بھی دھیرے دھیرے گہرا ہوتا چل رہا ہے۔

مرکز سے آئی کہانی میں کئی موڑ ہیں اور ہر موڑ پرسوالات جتنے بھی اٹھانا چاہیں اٹھاسکتے ہیں ۔اپنی صفائی میں ہزار دلیلیں پیش کرسکتے ہیں لیکن آج کے دور میں اور اس مشکل وقت میں اب تمام دلیلیں بے معنیٰ ہیں۔لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ جب لاک ڈاون کے اعلان کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل سکتے ہیں تو پھر مرکز کے اندر بند ہزاروں لوگ کیسے باہر نہیں نکل سکتے۔کم سے کم اسی وقت انتظامیہ کے سامنے سڑکوں پر نکل کراپنی پریشانی پیش کرتے تو شاید آج بدنامی کے اس سلسلے کا آغاز نہیں ہوتا۔

میڈیا میں ہونے کے سبب اس قسم کی خبروں پر  ہر لمحہ طرح طرح کے تبصروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،اس لئے کبھی کبھی غصہ بھی آتا ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے۔لیکن غصہ اور افسوس کے اظہار سے سوالوں کا جواب نہیں دیا جاتا،اندر ہی اندر ایسے موقع سے بدنامی اور نازیبہ تبصرے کے کڑوے گھونٹ پینے پڑتے ہیں چونکہ ہمیں کچھ کہنے لائق چھوڑا ہی نہیں جاتا۔

مرکز کی طرف سے جو کچھ بھی کیا گیا ،اس میں پولیس کی تساہلی یا انتظامیہ کی عدم دلچسپی ایک بات ہوسکتی ہے لیکن آپ کا دماغ کہاں تھا،شعور کیا کررہا تھا ،فہم و ادراک پر تالے لگ گئے تھے ،جب انتظامیہ آپ کی شکایت پر کان نہیں دھر رہی تھی تو پھر آپ اندر بند دروازے کیا کررہے تھے ،جب کسان اور مزدور طبقہ  کے لوگ باہر نکل کرسرکار کے سامنے اپنی پریشانی رکھ سکتے ہیں تو پھر آپ کو باہر نکلنے سے کون روک رہا تھا ،آپ کو انتظامیہ کے خلاف مظاہرہ کرنے سے کس نے روکا،کوشش تو کی ہوتی ،سرکار اور پولیس نے کچھ نہ کچھ تو کیا ہوتا۔صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنے سے کس نے روکا،،،اگر آپ نے دس مارچ کے بعد ہی یہ سب کام روک دیا ہوتا تو کیا اسلام خطرے میں پڑجاتا ۔۔اور کیا آج آپ نے اپنی ان حرکتوں کی بدولت اسلام کو دنیا بھر میں سرخرو کردیا ہے؟؟؟؟؟

یقین جانئے آپ کی لاشعوری نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اسلام کو بھی بدنام کرنے کا کام کیا ،جب آپ کو معلوم تھا کہ دنیا بھر میں وائرس پھیلا ہوا ہے اور باہر کے ملکوں سے آنے والوں کو مشتبہ مانا جارہا ہے چونکہ ان کی مدد سے وائرس ہندوستان پہنچ رہا ہے،پھر آپ  نے  لوگوں کیلئے مرکز کے دروازے کو دس مارچ کو کیوں نہیں بند کیا ۔انتظامیہ کو کیوں نہیں بتایا کہ بڑی تعداد میں لوگ باہر کے ملکوں سے واپس آئے ہیں اور مختلف ریاستوں میں دعوۃ وتبلیغ کا کام انجام دے رہے ہیں ۔۔۔آپ کی ذرا سے لاپرواہی نے مسلمانوں کے سامنے سوائے بدنامی اور رسوائی کے کچھ نہیں چھوڑا ہے۔معاملہ تو یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ لوگ اب شک کرنے لگے ہیں کہ ہندوستان کا مسلمان وائرس کے خلاف جنگ میں ہندوستان کے ساتھ ہے بھی یا نہیں ؟؟یقین نہیں ہے تو پھر اگلے چند دنوں تک میڈیا میں اپنی کہانی غور سے دیکھ لیجئے ،یقین آجائے گا کہ آپ نے کیا کیا ہے اور ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے کتنا بڑا کام کی ہےا ۔خیر،،،،ہندوستان کے مسلمانوں کو بدنامی اور رسوائی کا ایک نیا دور دکھانے کا شکریہ۔

سخت الفاظ  کیلئے معذرت

 

رحمت کلیم

Facebook Comments