نئی دہلی :ایک طرف جہاں  دنیا بھر میں کروناوائرس کی وجہ سے بڑی تباہی دیکھنے کو مل رہی ہے وہیں دوسری جانب ہندوستان میں بھی اب اس وائرس کا اثرگہرا ہوتا دکھائی دے رہا ہے چونکہ خبروں کے مطابق ابھی تک ہندوستان میں قریب تین درجن  کروناوائرس کے مثبت کیس سامنے آئے ہیں ،آج مزید چار کیسیز کے سامنے آنے کی اطلاع ملی ہے ۔دو شخص جموں کشمیر سے ہے جو حالیہ دنوں ایران سے واپس لوٹا تھا وہیں دوسری طرف دو شخص امرتسر میں کروناوائرس کا شکار ہوتا نظر آرہا ہے چونکہ وہ ابھی کچھ دنوں قبل اٹلی سے واپس لوٹا تھا ۔فی الحال امرتسر ہیلتھ انتظامیہ نے ان دونوں کو علیحدہ وارڈ میں رکھ دیا ہے اور رپورٹ جلد پونے سے آنے والی ہے ۔اس طرح سے فی الحال جو مریضوں کی تعداد ہندوستان میں نظر آرہی ہے جو ۳۳ ہیں اوراگر امرتسر معاملے تصدیق ہوجائےگی تو پھر مریضوں کی تعداد۳۵ ہوجائے گی ،ایسے میں یہ بھی یاد رکھنے والی چیز ہے کہ ۲۹ ہزار لو گ ابھی بھی مشتبہ ہیں جن کو علیحدہ وارڈ میں رکھ کر ان کا علاج چل رہا ہے۔وہیں حکومت ہند اور ریاستی  سطح پر بھی کئی بڑے فیصلے لئے گئے ہیں ۔مرکزی حکومت کے ملازمین کی بایومیٹرک حاضری  روک دی ہے ،اجتماع سے بچنے کی درخواست کی گئی ہے وہیں پی ایم مودی نے کہا ہے کہ افواہوں پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں ہے ،اگر شک ہو تو فوراً ڈاکٹروں سے رابطہ کریں ۔تمام ریاستوں کے وزیرصحت کو گزشتہ روز یہ ہدایت دی گئی تھی کہ اسپتال میں الگ وارڈ بنایا جائے تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں حالات کا سامنا کرنا آسان ہوجائے۔کئی ریاستوں میں پرائمری اسکولوں میں چھٹی کی جاچکی ہے اور کئی بڑے بڑے تقاریب منسوخ کئے جاچکے ہیں ۔
اگر عالمی سطح پر کرونا وائرس کی صورتحال پر غور کریں تو آپ کو بتادیں کہ ابھی تک دنیا بھر میں قریب ۳۵سو افراد اس وائرس کی وجہ سے موت کے شکار ہوچکے ہیں اور ایک لاکھ دوہزار سے زائد ابھی بھی اس وائرس کے مریض ہیں ۔چین سے شروع ہونے والے اس وائرس کا اثر اب چین میں کم ،یوروپ امریکہ اور ایشیا میں زیادہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ایران میں ابتک ۱۲۹ لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔اٹلی میں ۲۰۰ سے زائد،جنوبی کوریا میں قریب پچاس،امریکہ میں سترہ  اور جاپان میں ایک درجن سے زیادہ لوگوں کی موت اس وائرس کے سبب واقع ہوچکی ہے۔
ادھر عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے تمام ممالک کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کو ناکافی  بتاتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اس وائرس کے روک تھام کیلئے جس سنجیدگی کے ساتھ پہل کرنی چاہیے تھی وہ نہیں کی گئی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے جنرل ڈائریکٹر نے یہ بھی کہا کہ آج ۹۰ سے زیادہ ملکوں میں یہ وائرس پھیل چکا ہے اور ایسا کوئی شعبہ نہیں ہے جو اس وائرس سے متاثر نہ ہوا ہو۔

Facebook Comments