نئی دہلی:چین کے ووہان اور ہوبئی شہر میں کورونا وائرس کا قہر جاری ہے اوریہ وائرس اب تک قریب دو درجن ممالک  تک پہنچ چکا ہے۔اور ہلاکتوں کی تعداد بڑی تیزی کےساتھ بڑھتی جارہی ہے اور اب تک صرف چین میں اس وائرس سے ۲۵۹ افراد کی موت ہوگئی ہے جبکہ دس ہزار سے قریب مریض بستر مرگ پر ہیں ۔وہیں دیگر ممالک میں بھی اس وائرس نے خوف کا ماحول پیدا کردکھا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک طرف جہاں کئی ممالک نے چین کا دورہ کرچکے افراد پر ملک کے اندر داخل ہونے سے  روک دیا ہے اور ہدایت دی گئی ہے گزشتہ پندرہ دنوں کے اندر میں اگر کوئی بھی شخص چین کے دورے سے لوٹا ہے تو وہ ان کے ملک میں نہیں داخل ہوسکتا ہے ،اس طرح کی پابندی لگانے میں امریکہ  سب سے پہلے ہے۔

ادھر ہندوستان نے اپنے شہریوں کو ووہان سے واپس وطن لانے میں پہلی کامیابی حاصل کرلی ہے اور آج صبح ساڑھے سات بجے  قریب ۳۲۴ شہریوں کو دہلی واپس لایا جاچکا ہے جن میں ۲۱۱ طالب علم،تین بچے بھی شامل ہیں ۔ان تمام لوگوں کو دہلی میں چھاولہ کیمپ کے اندر رکھا گیا ہے او انہیں آئندہ پندرہ دنوں تک اسی کیمپ میں رکھا جائے گا،ان کی صحت کا باریکی سے جائزہ لیا جائے گا اور حتمی اطمینان کے بعد ہی انہیں کیمپ سے باہر اپنے شہر اور گاوں جانے کی اجازت دی جائے گی۔

وہیں دوسری جانب پاکستان کے شہری ووہان میں بری طرح سے پریشان ہیں چونکہ قریب ۲۵۰ لوگ گزشتہ چار دنوں سے ایئر پورٹ پر حکومت پاکستان سے امداد کی اپیل کررہے ہیں لیکن پاکستان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دو فروری تک کیلئے چین سے فضائیہ سروس منسوخ رہے گی اور اس میں مزید توسیع کا امکان بھی ہے۔وہیں اقوام متحدہ نے اپیل کی ہے کہ جو لوگ چین میں ہیں انہیں وہیں رہنے دیا جائے ،انہیں نکالنے کی کوشش نہ کی جائے۔

 

Facebook Comments