چین میں کروناوائرس کا قہر جاری،درجن بھر شہروں میں خانہ نظربندی کا دور

کرونا وائرس سے اب تک 80 افراد ہوئے ہلاک

چین انتظامیہ کے مطابق 2744افراد کروناوائرس کے شکار،300 کی حالت نازک

ہندوستان کے 600 سے زیادہ طلبا کے چین میں پھنسے ہونے کی خبر

چین کے درجن بھر سے زائد شہروں میں لگی پوری طرح سے پابندیاں

امریکہ،کینیڈا،پاکستان ،نیپال اور بنگلہ دیش بھی کروناوائرس کی زد میں

چین میں کروناوائرس کا قہر جاری ہے اور اب تک مرنے والوں کی تعداد۸80 کے پار جاچکی ہے۔اور چین کے ایک درجن سے زیادہ شہروں کو خانہ نظربندی کا دور جاری ہے،جہاں پوری طرح سے آمد ورفت پر پابندی لگی ہے۔چین کے دو شہیر ہوبئی اور ووہانگ سب سے زیادہ متاثرہ ہوئے ہیں اور اب تک جو خبر نکل کر آرہی ہے اس کے مطابق قریب 2800 لوگ ابھی تک اس وائرس کے شکار ہوچکے ہیں جن کا علاج چل رہا ہے اور ان میں سے تین سو سے زائد مریضوں کی حالت نازک بنی ہوئی ۔چین نے اپنے روایتی سال کی تقریب کو مزید تین دنوں کیلئے ملتوی کردیا ہے۔پچاس لاکھ سے زیادہ میڈیکل اسٹاف اس وقت چین کے ہوبئی میں کام کررہے ہیں ۔

چین میں پھیلے کروناوائرس کا اثر دیگر ممالک پر بھی پڑتا نظرآرہا ہے ،خاص طور پر امریکہ ،کینیڈا،جاپان،بنگلہ دیش ،پاکستان اور نیپال  میں اس وائرس کا ڈر زیادہ دیکھنے کو مل رہا ہے چونکہ امریکہ کے شہر کیلی فورنیا اور لاس اینجلس میں قریب تین ایسے شخص کی دریافت ہوئی ہے جو کروناوائرس سے متاثر ہیں ،وہیں کینیڈا اور نیپال میں بھی ایک ایک مریض کی خبر ہے۔ہندوستان میں اب تک ایک بھی مصدقہ کیس سامنے نہیں آیا ہے البتہ چین سے جو لوگ آرہے ہیں ان کا بہت ہی باریکی سے جانچ کرنے کے بعد ہی شہر میں اترنے دیا جارہا ہے اور کیرل  اور راجستھان میں کچھ مشتبہ شہریوں کو اعلاج کیلئے الگ ایمرجنسی وارڈ میں رکھا گیا ہے۔وہیں چین میں جو ہندوستانی طلبا ہیں ان پر حکومت ہند کے ساتھ ساتھ وزارت خارجہ اور چین کے بیجنگ میں واقع ہندوستانی سفارتخانے کی بہت ہی باریک نظر ہے۔اور ہندوستان کے سفارتخانے نے اب تک تین ہیلپ لائن نمبر جاری کردیا ہے چونکہ قریب چھ سو ہندوستانی طلبا ووہان اور ہوبئی میں بتائے جارہے ہیں ،اس لئے حکومت ہند اس کو لیکر کافی سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے اور ہر پل ووہان انتظامیہ سے اس سلسلے میں بات کررہی ہے اور اب اس پر بھی غور کیا جارہا ہے کہ کیا وہاں سے ہندوستانی طلبا کو وطن واپس لانے میں کامیابی مل پائے گی یا نہیں۔

فی الحال ہندوستان میں ایک بھی مصدقہ کیس سامنے نہیں آیا لیکن پھر بھی ہندوستان بہت ہی سنجیدگی کے ساتھ چین سے آنے والوں کا جائزہ لے رہی ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار رہی ہے۔

 

 

Facebook Comments