وقف بورڈ کی ریلیف کمیٹی کا بڑا الزام،جمع کرائی گئی شکایتوں پر ایف آر آئی کی ہدایت دینے کے لئے دہلی پولیس کمشنر کو لکھا خط
نئی دہلی.دہلی وقف بورڈ کی فساد متاثرین کے لئے بنائی گئی ریلیف کمیٹی نے دہلی پولیس پر بڑا الزام لگاتے ہوئے دہلی کے پولیس کمشنر کو خط تحریر کیاہے۔راحت کمیٹی کی جانب سے دہلی پولیس کمشنر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ 7مارچ کے بعد سے فساد متاثرین کے لئے بنائے گئے راحتی کمیپ عید گاہ مصطفی آباد میں متاثرین کی قانونی مدد کے لیئے لیگل ہیلپ ڈیسک لگائی گئی ہے جہاں متاثرین سے ان کی درخواستیں لیکر جمع کی جارہی ہیں تاہم جب ان شکایتوں کو متعلقہ تھانوں میں جمع کرایا گیاتو پولیس نے ایف آئی آر تو دورنہ تو رسیونگ دی اور نہ ہی کوئی ڈائری نمبر دیا جسکی وجہ سے متاثرین کے پاس اپنی شکایتوں کا کوئی قانونی ثبوت نہیں ہے۔خط کے مطابق اسکی جانکاری فون پر متعلقہ اے سی پی اور ڈی سی پی کو بھی دی گئی جس کے بعد سے 9مارچ سے شکایتوں پر ڈائری نمبر تو دئے جارہے ہیں تاہم ان شکایتوں کو ایف آئی آر میں ابھی بھی نہیں بدلاگیا ہے۔خط میں آگے کہاگیا ہے کہ یہ شکایتیں کراول نگر،دیال پور اور گوکل پوری پولیس تھانوں میں جمع کرائی گئیں تھیں مگر پولیس نے ان شکایتوں کا کسی طرح کا کوئی بھی ثبوت متاثرین کو فراہم نہیں کیا۔خط میں دعوی کیا گیا ہے کچھ آدھی ادھوری شکایتیں متاثرین کی جانب سے عید گاہ مصطفی باد میں قانونی ڈیسک بنائے جانے سے قبل بھی جمع کرائی گئیں ہیں تاہم ان پر بھی ڈائری نمبر نہیں دیا گیا ہے۔وقف بورڈ کی راحت کمیٹی کی جانب سے لکھے گئے خط میں دہلی پولیس کمشنر سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ مذکورہ شکایتوں پر ایف آئی آر کرنے یا ڈائری نمبر دینے کی ہدایت متعلقہ پولیس تھانوں کو دیں اسی کے ساتھ جو درخواستیں متاثرین نے عید گاہ مصطفی باد کی قانونی ڈیسک بنائے جانے سے پہلے متعلقہ تھانوں میں جمع کرائی ہیں ان درخواستوں پربھی انھیں تاریخوں کے ساتھ ڈائری نمبر جاری کئے جانے کی ہدایت دی جائے۔خط میں آگے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عید گاہ مصطفی باد کی قانونی ہیلپ ڈیسک کے ذریعہ متاثرین کی جو درخواستیں جمع کی گئی ہیں اور جنھیں ایف آئی آر میں بدلا جاچکاہے اس کی کاپی متاثرین کو فورا فراہم کرائی جائے۔ غور طلب ہیکہ دہلی وقف بورڈ کے ذریعہ بنائی گئی راحت کمیٹی نے عید گاہ مصطفی آبادکیمپ میں متاثرین کی قانونی مدد کے لئے ایک ہیلپ ڈیسک کا قیام کیا تھا جہاں کثیر تعداد میں متاثرین نے اپنی شکایتوں کو جمع کرایا ہے تاہم متاثرین نے جو باتیں بتائی ہیں ان میں کئی چونکانے والے انکشاف سامنے آئے ہیں۔متاثرین کے مطابق پولیس ان کی شکایتیں لینے میں امتیاز سے کام لے رہی ہے۔متاثرین کے مطابق یا تو پولیس ان کی شکایتیں ہی نہیں لے رہی ہے اور اگر لے بھی رہی ہے تو بنا ثبوت کے۔کئی متاثرین نے بتایاکہ اگر ان کی درخواست میں کسی سرکاری ملازم یا پولیس والے کے خلاف شکایت ہے یا کوئی نامزد ہے تو پولیس ان شکایتوں کے مضمون میں بھی بدلاؤکرارہی ہے۔متاثرین کے مطابق پولیس شکایتوں سے نامزد ملزمین کے نام نکلوارہی ہے خاص کر اگر ان میں پولیس یا کسی سرکاری ملازم کا نام ہے۔ فساد متاثرین کی قانونی مدد کا کام دیکھ رہے دہلی وقف بورڈ کے ممبر ایڈوکیٹ حمال اختر نے بتایا کہ دہلی پولیس پریہ بہت سنجید الزامات ہیں اوریہ بہت افسوسناک بات ہے۔انہوں نے کہاکہ جو لوگ فساد میں لٹ پٹ گئے اور ان کا جان و مال سب کچھ تباہ ہوگیا اب ان کی شکایتوں پر دہلی پولیس ایف آئی آر بھی نہیں کر رہی اور جو شکایتیں متاثرین دے رہے ہیں ان میں بدلاؤکرارہی ہے اس سے بڑی شرم کی بات اور کیا ہوگی۔حمال اختر نے دہلی پولیس کمشنر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملہ کو سنجیدگی کے ساتھ لیں اور متعلقہ تھانوں کو صحیح قدم اٹھانے کی ہدایات جاری کریں۔

Facebook Comments