نئی دہلی:ملک کی راجدھانی گزشتہ کئی دنوں سے فسادات کی آگ میں جھلس رہی ہے اور اب تک دودرجن سے زائد اموات کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ سینکڑوں زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن میں ایک بڑی تعداد وہ ہے جو گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں،زخمیوں کی ایک بڑی تعداد کی حالت کافی نازک بتائی جارہی ہے جبکہ ہزاروں متاثرین اپنا گھر چھوڑ کر محفوظ پناہ گاہوں میں یا تو منتقل ہوگئے ہیں یا وہ مدد کے منتظر ہیں۔ذرائع کے مطابق کافی بڑی تعداد ایسے متاثرین کی ہے جن کا سب کچھ فساد کی نظر ہو چکا ہے اور اب ان کے پاس نہ کھانے کو دانہ ہے اور نہ سر چھپانے کو ٹھکانہ ایسے میں ان متاثرین کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے وقف بورڈ کے افسران کو فساد زدگان کوہرممکن مددمہیا کرانے کی ہدایت دی ہے۔بورڈ کے ممبر ایڈوکیٹ حمال اختر نے بتایا کہ بورڈ نے طے کیا ہے کہ پہلی فرصت میں متاثرین تک فوڈ پیکٹ اور ضروری راحت اشیاء  پہونچائی جائیں گی جس کے بعد انھیں دال آٹا،چاول،تیل اور دیگر اشیائے خوردنی پر مشتمل راشن کٹ کی تقسیم کی جائے گی۔ وقف بورڈ کی جانب سے راحت رسانی کا کام بورڈ ممبر حمال اختر کی نگرانی میں انجام دیا جائے گا جس کے لئے متاثرہ علاقوں میں راحت کیمپ لگائے جائیں گے جہاں دواؤں سے لیکر راشن کٹ کی تقسیم تک ہر ممکن راحت متاثرین کو پہونچائی جائے گی اسی کے ساتھ  ضرورتمندوں کے لئے بستروں کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ وقف بورڈ کے ممبر حمال اختر نے کہا کہ دہلی کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت فساد کی آگ میں جھونکا گیا ہے جس میں درجنوں بے گناہ اور معصوموں کی جان گئی ہے جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں اور ہزاروں متاثرین بے گھر ہوگئے ہیں۔انہوں نے آگے کہا کہ لوگوں نے اپنی جان بچاکر دوسروں کے گھروں میں پناہ لی ہے اور ان کے پاس نہ کھانے کو ہے اور نہ بچوں کو دودھ مہیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فساد کی آگ نے سب کو متاثر کیا ہے جس میں ہندو بھی ہیں اور مسلمان بھی ایسے میں ہمارا مقصد سب سے پہلے متاثرین تک ہر ممکن راحت پہونچانے کا ہے تاکہ لٹے پٹے اور بے سہارا لوگوں کے درد کوکم کیا جاسکے۔حمال اختر نے آگے کہا کہ ایسے میں دہلی وقف بورڈ بلا تفریق مذہب سب متاثرین کی مدد کرے گا۔انہوں نے آگے بتایا کہ بچوں کے لئے دودھ  بسکٹ دوا اور دیگر ضروری اشیاء کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ تمام متاثرین تک راشن کٹ پر مشتمل فوڈ پیکٹ تقسیم کئے جائیں گے جس میں آٹا،دال،چاول،تیل نمک،مصالحہ جات ہوں گے جس سے لوگ کچھ وقت کے لئے اپنے کھانے کا انتظام کر سکیں۔حمال اختر نے آگے بتایا کہ راشن کٹ کی تقسیم کے ساتھ ساتھ راحت کیمپوں میں کھانا بنواکر بھی ضرورتمندوں میں تقسیم کیا جائے گا ساتھ ضروری دواؤں پر مشتمل ایک میڈیکل کٹ بھی تیار کی گئی ہے۔راحت رسانی میں آنے والا سارا خرچ دہلی وقف بورڈ برداشت کرے گا۔حمال اختر نے مزید بتایا کہ کام کو برق رفتاری سے انجام دینے کے لئے وقف بورڈ کے عملہ پرمشتمل کئی ٹیمیں بنادی گئیں ہیں اور آج شام ہی سے متاثرہ علاقوں میں کیمپ لگاکر لوگوں کی راحت رسانی کا کام شروع کردیا جائے گا۔دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے خصوصی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ فساد میں جتنے بھی زخمی ہوئے ہیں اور ان کو فوری طور پر علاج کی ضرورت ہے ان سب کا بلا تفریق مذہب دہلی وقف بورڈ کے خرچ پر علاج کرایاجائے اور جو بھی متاثر اپنی مدد کے لئے دہلی وقف بورڈ سے رجوع کرے اس کی ترجیحی بنیاد پر مدد کی جائے۔غور طلب ہے کہ دہلی کے شمال مشرقی علاقہ میں کئی دنوں تک چلے فساد میں بڑے پیمانے پر عوام کے جان و مال کا نقصان ہوا ہے جسمیں اب تک تقریبا 3درجن لوگوں کی جان ضائع ہوچکی ہے اور بڑے پیمانے پر لوگوں کے مکان اور دوکانوں کو نذر آتش کردیا گیا ہے۔متاثرہ علاقوں میں خوف و دہشت کا ماحول ہے اور متاثرین کی ایک بڑی تعداد محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں اپنا علاقہ چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہوگئی ہے۔مختلف ذرائع سے ایسی اطلاعات آرہی ہیں کہ سب کچھ تباہ و برباد ہوجانے کی وجہ سے متاثرین کے پاس بچوں کو دودھ پلانے تک کا انتظام نہیں ہے لوگ سماجی راطبہ سائٹوں کے ذریعہ مسلسل مدد کی درخواست کر رہے ہیں ایسے میں دہلی وقف بورڈ کی یہ پیش رفت یقینا متاثرین کی پریشانی کم کرنے کی سمت میں ایک اہم پہل ہے۔

 

Facebook Comments