لکھنو: بی آرڈی کالج میں بچوں کی موت کے بعد سے مسلسل سرخیوں میں رہنے والے ڈاکٹر کفیل احمد خان کو آج انصاف ملتا نظر آرہا ہے چونکہ انہیں سرکار نے بے قصور قرار دیا ہے۔دس اگست۲۰۱۷کو یوپی کے گورکھپور میں واقع بی آر ڈی میڈیکل کالج میں ہوئے آکسیجن کمی معاملے کے وقت میڈیکل کالج کے محکمہ امراض اطفال کے ترجمان اور این ایچ ایم کے نوڈل انچارج رہے ڈاکٹر کفیل خان کو آج تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق ہسپتال میں بچوں کی موت کے لئے وہ ذمہ دار نہیں ہیں اور انہوں نے ان بچوں کی جان بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی تھی۔آپ کو بتادیں کہ  اترپردیش کی حکومت نے ان کے خلاف محکمہ جاتی جانچ کے احکام دئے تھے۔ انہیں دو سال پہلے بی آرڈی میڈیکل کالج میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہوئی  ساٹھ بچوں کی موت کے لئے بدعنوانی اور لاپروائی برتنے کا ملزم قرار دیا تھا اور ان الزامات کے تحت نہ صرف ان کو معطل کر دیا گیا تھا بلکہ ان کو نو ماہ جیل میں بھی گزارنے پڑے تھے۔ اب سرکاری رپورٹ میں ان کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے اور اس کی کاپی انہیں بھیج دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر کفیل خان کی معطلی کو ابھی ختم نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر کفیل نے پورے معاملہ کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت کے اس فیصلے کے بعد ڈاکٹر کفیل نے کہا کہ اترپردیش کی یوگی آدتیہ سرکار کو چاہیے کہ کھلے عام معافی مانگے ۔ڈاکٹر کفیل کا کہنا ہے کہ سرکار نے پہلے ان کے نام کے ساتھ قاتل کا ٹائیٹل جوڑ دیا تھا جس کو اب جانچ میں صاف ہونے کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔جس کے بعد اب ڈاکٹر کفیل نے حکومت اترپردیش سے مطالبہ کیا ہے وہ ان جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کیلئے ان سے معافی مانگے۔یوپی سرکار کی طرف سے اب تک اس پر کوئی رد عمل نہیں آیا ہے۔

Facebook Comments