نئی دہلی،21دسمبر(پریس ریلیز)شہریت ترمیمی قانون کو لیکر پورے ملک میں صدائے احتجاج بلند ہورہی ہے اور بلاتفریق مذہب وملت ہر طبقہ کے لوگ سڑکوں پر اتر کر اس کالے قانون کے خلاف اپنا احتجاج درج کرارہے ہیں،احتجاج کی سب سے زیادہ بازگشت دہلی کی سڑکوں پر دیکھی جارہی ہے جبکہ کچھ جگہ عوامی احتجاج کو پولیس انتظامیہ کے ذریعہ طاقت کے بل پر کچلنے کی بھی کوشش ہوئی ہے اور اس کوشش میں ایک درجن سے زائد معصوم لوگ اپنی جانیں گنواچکے ہیں جب کہ سینکڑوں لوگ زخمی ہیں اور ہزاروں کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے رکھا ہے ایسے میں دہلی میں زخمیوں کا ہر ممکن علاج کرانے اور بے گناہوں کو پولیس تحویل سے رہائی دلانے میں دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔امانت اللہ خان نے آج ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پولیس کی زیادتی میں جن لوگوں نے اپنی جانیں گنوائی ہیں ان کے اہل خانہ کی مدد کا اعلان کیا ہے۔امانت اللہ خان کے مطابق احتجاج کے دوران پولیس کے تشدد میں مارے گئے مقتولین کے خاندان کو دہلی وقف بورڈ کی جانب سے 5,پانچ لاکھ روپئے کا معاوضہ دیا جائے گا۔اس کا اعلان امانت اللہ خان نے اپنے فیس بک پیج پر کیا ہے اوراپنا نمبر جاری کرکے عوام سے مقتولین کی فہرست مانگی ہے۔ اوکھلا حلقہ سے عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس میں پولیس کے ذریعہ طلبہ پر کئے گئے تشدد کے دن سے ہی متاثرین کو ہر ممکن مدد پہنچانے اور ان کی دادرسی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

امانت اللہ خان نے نہ صرف نیو فرینڈس کالونی اور کالکاجی تھانے پہونچ کر پولیس کے ذریعہ حراست میں لئے گئے36 طلبہ کو رہاکرایا بلکہ انھیں خود اپولواسپتال لیکر گئے اور علاج کرانے کے بعد سب کوصحیح سلامت گھر اور ہاسٹل پہونچایا۔تمام زخمیوں کے علاج کا بل خود سے ادا کیا۔جامعہ میں ایل ایل ایم کے ایک طالب علم منہاج الدین کو جسکی پولیس تشدد میں بائیں آنکھ کی روشنی جاچکی ہے اسے دہلی وقف بورڈ میں مستقل ملازمت دی اور 5لاکھ روپیہ کی فوری مدد کی،اس کے علاوہ علاج میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ایسا نہیں ہے کہ امانت اللہ خان صرف اپنے حلقہ میں متاثرین کی مدد کر رہے ہیں بلکہ جب انھیں سیلم پور اور جعفرابادمیں پولیس تشدد کی اطلاع ملی تو وہ فورا وہاں بھی پہونچے اور ڈی سی پی سے ملکر بے گناہوں کو فورا رہاکرنے کادباؤبنایا اس کے علاوہ زخمیوں کا علاج کرانے کی بھی یقین دہانی کرائی اور جن لوگوں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیاتھا ان کی قانونی مدد کے لئے کڑکڑ ڈوما کورٹ بھی گئے اور وکیلوں کا انتظام کیا۔دریاگنج احتجاج کے دوران پولیس نے تقریبا 40لوگوں کو حراست میں لے لیا تھاجنھیں ڈی سی پی سے ملکر رات کو 4بجے سب کو رہا کرایا گیااس طرح امانت اللہ زمینی سطح پر ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی بے گناہ پولیس اور قانون کی زیادتی کا شکار نہ ہو۔امانت اللہ لگاتار اس کالے قانون کے خلاف جامعہ کے طلبہ کے ساتھ اپنا احتجاج بھی درج کرارہے ہیں اورجامعہ برادری کے ذریعہ کئے جارہے ہراحتجاج میں شرکت کر رہے ہیں۔اب امانت اللہ خان نے ایک اور جرائت مندانہ قدم بڑھاتے ہوئے قومی پیمانے پراحتجاج کے متاثرین کی مددکا اعلان کیا ہے اور جو لوگ پولیس زیادتی میں مارے گئے ہیں ان کے اہل خانہ کو فی کس 5لاکھ روپئے دہلی وقف بورڈ کی جانب سے دینے کا اعلان کیا ہے۔اور اس طرح  قومی پیمانے پرمتاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی ہے۔امانت اللہ خان نے اعلان کرتے ہوئے مقتولین کی صحیح فہرست مانگی ہے اور دو موبائل نمبر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ9911999399,8588833454موبائل نمبروں پر ان سے رابطہ کرکے مقتولین کی تفصیل دے سکتے ہیں۔مختلف ذرائع ابلاغ کے مطابق اب تک کل ایک درجن سے زائدبے گناہ احتجاج کے دوران پولیس تشدد میں مارے جاچکے ہیں جن کی مدد کے لئے دہلی وقف بورڈ نے پہل کی ہے۔

Facebook Comments