اسلام آباد:ہندو پاکس کی ممتاز شاعرہ و مصنفہ فہمیدہ ریاض مختصر علالت کے بعد لاہور میں انتقال کرگئیں۔اطلاعات کے مطابق فہمیدہ ریاض گزشتہ چند ماہ سے بیمار تھیں۔فہمیدہ ریاض 28 جولائی 1945 کو غیر منقسم ہندوستان کے میرٹھ میں پیدا ہوئیں اور طالب علمی کے زمانے میں حیدرآباد میں پہلی نظم لکھی جو’’فنون‘‘میں چھپی۔فہمیدہ ریاض کا پہلا شعری مجموعہ ’’پتھر کی زبان‘‘ 1967 میں آیا اور ان کا دوسرا مجموعہ ’بدن دریدہ‘ 1973ء میں ان کی شادی کے بعد انگلینڈ کے زمانہ قیام میں شائع ہوا جب کہ تیسرا مجموعہ ’کلام دھوپ‘ تھا۔پاکستان میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز حاصل کرنے والی ترقی پسند شاعرہ فہمیدہ ریاض جولائی 1946 میں میرٹھ کے ایک ادبی خاندان میں پیدا ہوئیں اور قیام پاکستان کے بعد ان کے خاندان نے ہجرت کرکے سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد میں رہائش اختیار کرلیں۔فہمیدہ ریاض نے شاعری اور فکشن میں کم و بیش 15 کتابیں اور کئی مضامین تحریر کیے۔شاعری میں ان کے مجموعے پتھر کی زبان، دھوپ، پورا چاند، آدمی کی زندگی اور دیگر شامل ہیں، ناولوں میں زندہ بہار، گوداوری اور کراچی شامل ہیں۔انہوں نے پاکستان میں جمہوریت اور خواتین کے حقوق کے لیے بھی کام کیا۔حکومت پاکستان نے انہیں ادبی خدمات کے اعتراف میں 2010 میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے نوازاتھا۔فہمیدہ ریاض کو 2017 میں ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے ہمیت ہیلمن ایوارڈ برائے ادب، 2005 میں المفتاح ایوارڈ برائے ادب و شاعری اور شیخ ایاز ایوارڈ بھی دیا گیا۔فہمیدہ ریاض کے انتقال سے اردو ادب میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے ۔چونکہ وہ نسوانی ادب میں ایک مضبوط آواز تھیں اور انہوں اپنی شاعری میں نسائی جذبات کی تہذیب یافتہ شکل کو جس انداز میں متعارف کرایا،شاید ہی کوئی دوسرا نام اس کے برابر میں رکھا جاسکتا ہے۔

Facebook Comments