نئی دہلی:دراصل ملک کی شرح ترقی ستمبر کی سہ ماہی میں بری طرح سے لڑکھڑا کر گرگئی ہے۔جولائی ۔سے سمتر تک کی سہ ماہی میں ہندوستان کی جی ڈی پی چار عشاریہ پانچ فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ ایک سال پہلے یہی جی ڈی پی سات فیصد تھی ۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق کور سیکٹر کے پیداوار میں پانچ عشاریہ آٹھ فیصد  صرف اکتوبر کے مہینے میں گراوٹ درج کی گئی ہے۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر ،ایگریکلچر سیکٹر  میں گزشتہ سال کے مقابلے کمزور مظاہرہ کی وجہ سے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی شرح ترقی چار عشاریہ پانچ فیصد پر آکر ٹھہر گئی ہے۔ایک سال پہلے دوہزار اٹھارہ اننیس کی اسی سہ ماہی میں جی ڈی پی سات فیصد تھی اور رواں مالی سال کی پہلے سہ ماہی میں یہی جی ڈی پی پانچ فیصد تھی۔

نیشنل اسٹیسٹیکل آفس یعنی این ایس او کی طرف سے جاری جی ڈی پی کے اعداد وشمارمیں  رواں مالی سال دوہزا اننیس بیس  کی جولائی سے ستمبر  کے دوران  چار عشاریہ پانچ فیصد بتائے گئے ہیں ۔

اس طرح سے گزشتہ لگاتار چھٹھی سہ ماہی میں جی ڈی پی کے اندر گراوٹ درج کی گئی ہے۔دراصل مالی سال ۲۰۱۹ کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی آتھ فیصد تھی،دوسری سہ ماہی میں سات فیصد،تیسری میں چھ عشاریہ چھ فیصد اور چوتھی سہ ماہی میں پانچ عشاریہ آٹھ فیصد پر تھی ۔اس کے بعد مالی سال دوہزار بیس کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی گر کر پانچ فیصد پہنچ گئی اور اب رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی مزید گرکر چار عشاریہ پانچ فیصد تک پہنچ گئی یے۔ایسے میں پانچ ٹریلن کی معیشت کے خواب کا کیا ہوگا کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔لیکن اس وقت ملک کی معیشت انتہائی  تشویشناک دور سے گزر رہی ہے اور حکومت ہے کہ دعوے پر دعوے کئے جارہی ہے اور ہر سہ ماہی پر عوام کو امیدوں کالالی پاپ یہ کہہ کر پکڑا دیا جاتا ہے کہ جے ڈی پی کے اچھے دن آنے والے ہیں ۔لیکن پھر وہی ہوتا ہے اور اب تک گزشتہ چھ سہ ماہی سے مسلسل دیکھنے کو ملا ہے،ایسے میں اپوزیشن کا سوال مزید مضبوط ہوجاتا ہے اور حکومت سوالوں کے گھیرے میں ہے کہ پانچ ٹریلین کی معیشت کا سنہرہ خواب کہیں مستقل خواب تو نہیں ہے ۔ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن کے سوالوں کا سامنا کرے اور ان کے جائز سوالوں کا جواب دے۔

Facebook Comments