تحریر:فہیم اختر

گیارہ اپریل سے ہندوستان کے عام چناو کے لئے ووٹنگ کا مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔ جو کہ لگ بھگ ایک ماہ تک چلے گا۔ ہندوستان کے الیکشن کا چرچا دنیا بھر میں دکھائی دے رہا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ہندوستان دنیا بھر میں سب سے بڑا جمہوری ملک ہے۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے دنیا بھر میں بسے ہندوستانی اپنی پارٹی اور لیڈر کی باتوں کو خوب غور سے سن رہے ہیں اور اس پر اپنے اپنے طور پر بحث بھی کر رہے ہیں۔ جوں جوں وقت قریب آتا جارہا ہے ہندوستانی اور غیر ہندوستانی الیکشن پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ شاید اس کی ایک اہم وجہ نریندر مودی کی جیت یا ہار کا سوال بھی ہے۔
نریندر مودی جیسا متنازعہ وزیر اعظم ہندوستان نے اب تک نہیں دیکھا تھا۔ گجرات فساد میں نریندر مودی پر سیدھے سیدھے الزام لگا تھا کہ ان کے اشارے پر بلوائیو¿ں نے ایک خاص فرقے کے لوگوں کا قتل و عام کیا تھا۔ اس وقت نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اور وہ فساد کو روکنے میں بالکل ناکام تھے۔ اس دردناک واقعہ کے بعد نریندر مودی مسلسل نشانے پر رہے۔ بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ ان کا نام لینا بھی معیوب سمجھا جا تا تھا۔ کئی لوگوں نے نریندر مودی کو گجرات فساد کے لئے ملزم بھی ٹھہرایا تھا۔ لیکن ان تمام باتوں اور الزامات کے باوجود نریندر مودی نے ہندوستان کے وزیر اعظم بننے کا جو خواب دیکھا تھا وہ پورا ہو گیا۔
نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد ہندوستان کی سیاست میں ایک عجیب سی نفرت کی فضا قائم ہو گئی۔ آئے دن اقلیتی طبقہ اور مسلمانوں میں خوف و ہراس بڑھنے لگے۔ کبھی گائے کے خرید و فروخت میں مسلمانوں کو مارا گیا تو کبھی محض مسلمان ہونے کی وجہ سے لوگوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔حیرانی اس بات کی ہے کہ ان تمام واقعات پر وزیر اعظم نریندر مودی کا کوئی ٹھوس بیان جاری نہیں ہوا۔ جس سے ہر ذی شعور انسان میں بے چینی پائی جانے لگی۔
بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ نریندر مودی 2014کے الیکشن کی جیت کے نشے میں اس قدر چور تھے کہ انہیں ان باتوں کو سوچنے یا اس پر کاروائی کرنے کا کوئی حکم ہی نہیں جاری کیا۔ اس کے بر عکس نریندر مودی دنیا کی سیر کرنے میں اس قدر دیوانے تھے کہ انہیں یاد ہی نہیں رہا کہ وہ ایک عظیم ملک کے وزیر اعظم ہیں ۔ جہاں ہر مذہب ، زبان، نسل، ذات ، غریب اور امیر لوگ رہتے ہیں جن کے مسائل بیرون ممالک میں جا کر حل نہیں کئے جا سکتے ہیں۔ تاہم نریندر مودی یہ بھی بھول گئے کہ وزیراعظم بن کر جو عیاشی اور سہولیات کا فائدہ وہ اٹھا رہے ہیں، وہ دراصل ہندوستانی عوام کے خون پسینے کی کمائی کا ٹیکس ہے ۔ جو کہ ہندوستانی عوام کے لئے ہی خرچ کرنا لازمی ہوتا ہے۔
ہندوستان میں روایتی طور پر تحفہ دینے اور لینے کا ایک عام چلن ہے۔یوں تو تحفہ دینے اور لینے کا چلن ہندوستان کے علاوہ اور بھی کئی ملکوں میں پایا جاتا ہے۔ نریندر مودی اور ان کے ساتھیوں کو جتنی بھی آرائش اور دولت نصیب ہوئی ہے، وہ یا تو زیادہ تر ان کاروباریوں کی مرہونِ منت ہے جو ایسے موقعے پر ان سیاستدانوں کی خدمت کر کے اپنا الو سیدھا کرتے رہتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ’بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا‘۔
ہندوستانی الیکشن میں جس خطیر رقم کو خرچ کیا جاتا ہے وہ ہمارے اور آپ کے سمجھ سے باہر ہے۔ اس کا کوئی نہ حساب لینے والا ہے اور نہ کوئی حساب دینے والا ہے۔ تبھی ذہن میں جمہوری نظام کے تئیں شک کی سوئی گھومنے لگتی ہے۔ اور گھومے بھی کیوں نہیں جب الیکشن کی جیت کو یقینی بنانے کے لئے ہر امیدوار اپنے حد کو پار کرنا چاہتا ہے۔مجھے اس بات سے کوئی بحث نہیں ہے لیکن اس بات کا افسوس ضرور ہے کہ آخر الیکشن میں اتنی بڑی رقم خرچ کرکے کس کا بھلا ہوتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے اس امیدوار اور پارٹی کا جو بر سرِ اقدار آکر خزانہ خالی کر تے ہیں۔
نریندر مودی نے اب تک جتنے بھی الیکشن جلسے کئے ہیں اس میں انہوں نے لوگوں کو بھڑکانے یا ان کو اصل مدعا سے ہٹانے کے لئے عجیب و غریب باتیں کی ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان پر حملے کی کامیابی اور ہندوستانی فوج کا نمایاں رول جس سے وہ اپنے آپ کو دیش بھکتی سمجھ رہے ہیں۔ تاہم سچ بات تو یہ ہے کہ ہندوستانی پائلٹ پاکستان میں گرفتار ہوا تھا جس کی تصدیق دنیا بھر کے میڈیا نے کیا تھا۔ لیکن مودی اپنی طاقت کے نشے میں اس قدر چور ہیں کہ انہیں اپنے سامنے تمام لوگ ’الّو‘ دکھائی دے رہے ہیں۔ ہندوسانی عوام کا ایک طبقہ نریندر مودی کی باتوں میں ایسا بہک گیا ہے کہ اس کے دماغ میں سچ بات سما ہی نہیںسکتی۔
نریندر مودی ہر اس انسان کو ملک کا دشمن کہہ رہے ہیں جو یا تو ان سے سوال کرے یا ان کی پالیسی پر نکتہ چینی کرے۔ تبھی تو بھارتیہ جنتا پارٹی کے بانی رکن اور سینئر لیڈر اڈوانی نے اپنے بلاگ میں سیدھے سیدھے نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے مشورہ دیا کہ ’ہندوستانی جمہوریت کا سب سے اچھا پہلو جدا گانگی کی عزت اور اظہارِ رائے کی آزادی ہونی چاہیے‘۔اس کے علاوہ اڈوانی نے مزید باتیں لکھ کر نریندر مودی کو ایک جھٹکا ضرور پہنچایا ہے۔ لیکن نریندر مودی کے جسم کی چمڑی اتنی سخت ہے کہ مجھے نہیں لگتا کہ ان پر ان باتوں کا کوئی اثر ہوگا۔ اڈوانی صاحب بھی شاید بھول رہے ہیں کہ 2017 میں ان پر بابری مسجد کو شہید کرنے کا الزام ثابت ہوا تھا۔ اس کے علاوہ اڈوانی صاحب نے ان باتوں کو اس وقت کیوں نہیں کہا جب ہندوستان نریندر مودی کے ظلم سے سہما ہواتھا۔ اب تو ظلم سر اٹھا کر بات کر رہا ہے اور شاید اڈوانی صاحب ایم پی کے ٹکٹ نہ ملنے پر اپنا غصہ اتار رہے ہیں۔
اگر آپ پچھلے چار برس کا جائزہ لیں تو آپ کو ہندوستان میں صرف نفرت، مہنگائی،بے روزگاری، نوٹ بندی کی مار، کسانوں کا برا حال، ملک کی اقتصادی سست رفتاری، مذہبی جنون، کشمیر کے بگڑتے حالات، گنگا ندی کی برھٹی ہوئی گندگی ، عورتوں کی بے حرمتی وغیرہ ایسی باتیں ہیں جس سے نریندر مودی بچ نہیں سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک جتنے بھی الیکشن ریلی ہوئے ہیں وہاں نریندر مودی اپنے چار برسوں کے کارنامے کو نہ بتا کر کبھی مذہبی تناو¿ پیدا کر رہے ہیں تو کبھی پاکستان کو سبق سکھانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔
تاہم مودی جی کی حمایت میں پرچار کرنے والے میڈیا بھی اپنی آن و شان کھو چکا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کو اس بات کا اندازہ ہو چکا ہے کہ ہندوستانی میڈیا کی جیب نریندر مودی کے کاروباری دوست بھر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سارے لوگ اس بار ہندوستانی میڈیا کا مذاق بنا رہے ہیں۔ جو کہ ایک تشوش ناک بات ہے۔اس کے علاوہ نریندر مودی کے بھاشن سے بھی لوگ تنگ آچکے ہیں۔ تبھی تو الیکشن ریلی میں یا تو لوگوں کی بھیڑ کم پائی جا رہی ہے یا لوگ مودی کی بات سے متاثر نہیں ہو رہے ہیں۔ پھر بھی سوشل میڈیا کے سہارے نریندر مودی اپنی بات کو توڑ موڑ کر ہندوستانی عوام کو ایک بار پھر جھانسہ دینے کی کوشش میں ہیں۔
ایک مہینے بعد جب عظیم ہندوستان کے الیکشن کا تنیجہ سامنے آئے گا تو ظاہر سی بات ہے کہ یا تو نریندر مودی کا سینہ 56انچ سے بڑھ کر 58انچ ہو جائے گا یا مودی اپنی شکل دکھانے کے قابل نہیں ہوں گے۔ مجھے اس بات کا خدشہ ہے کہ جس طرح نریندر مودی ہر بار ایک نئے چال یا پروپگنڈا سے معصوم ہندوستانی عوام کو جھوٹے سپنے دکھا کر الیکشن جیت لیتے ہیں شاید ایسا اس بار نہ ہو۔ کیونکہ مجھے ہندوستانی عوام پر اعتبار ہے کہ وہ نریندر مودی کو دوبارہ وزیر اعظم نہیں بنائے گے۔ ورنہ مودی ہندوستان کی رہی سہی عزت و عظمت کو نیست و نابود نہ کر دیں گے۔

نوٹ:صاحب تحریر مشہور کالم نگار اور افسانہ نگار ہیں اور لندن اردو زبان وادب کے فروغ کیلئے کافی متحرک ہیں۔

Facebook Comments