نئی دہلی:قومی راجدھانی دہلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن کو مرکزی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہائی کمیشن میں موجودہ اسٹاف کی تعداد کو پاکستان نصف کرے۔ہائی کمیشن میں جتنے اسٹاف ان دنوں کام کررہے ہیں ،ان میں سے پچاس فیصد اسٹاف کو واپس پاکستان بھیج دیں ۔مرکزی سرکار نے پاکستان ہائی کمیشن کو ایک ہفتے کی مہلت دی ہے،اس دوران پاکستان انتظامیہ کو اس حوالےسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ فی الحال ہائی کمیشن میں جتنے اسٹاف کام کررہے ہیں ،ان میں سے کن کن کو واپس پاکستان بھیجنا ہے ۔

مرکزی سرکار نے اپنی صفائی میں کہا کہ آئے دن پاکستان ہائی کمیشن میں کام کرنے والے اسٹاف جاسوسی کرتے پکڑے جارہے ہیں ،گزشتہ ہفتے دو جاسوس کو پکڑا گیا تھا جو ہندوستان سے خفیہ جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کررہا  تھا ،گرفتاری کے فوراً بعد ۲۴ گھنٹے میں ان دونوں کو ہندوستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا،جبکہ وہ دونوں پاکستانی ہائی کمیشن میں کام کرتے تھے اور نام بدل کر فرضی نام کے سہارے خفیہ جانکاری حاصل کرنے کے فراق میں تھا،اس بیچ اس رنگے ہاتھوں ان دونوں کو پکڑا گیا اور ۲۴ گھنٹے میں ہندوستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا ،اس کے بعد سے مسلسل پاکستانی ہائی کمیشن پر ہندوستان کی گہری نظر تھی ،اس بیچ آج وزارت خارجہ کی جانب سے ہائی کمیشن کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے موجودہ اسٹاف میں سے پچاس فیصد کو واپس پاکستان روانہ کردے اور بقیہ اسٹاف کی مدد سے ہی ہائی کمیشن کو چلائے،پاکستان کی طرف سے اس پر ابھی تک صفائی نہیں دی گئی ہے لیکن یاد رہے کہ گزشتہ دنوں میں پاکستان میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے ایک ڈرائیور اسٹاف کو کافی ہراساں کیا گیا تھا جس کی وجہ سے ہندوستان کی سرکار کافی ناراض تھی اور اب یہ فیصلہ لیا ہے کہ پاکستان ہائی کمیشن کے پچاس فیصد اسٹاف کی ہندوستان سے چھٹی کردی ہے۔

 

Facebook Comments