فیضان قریشی،کپواڑہ
یوم اساتذہ ان چند دنوں میں سے ایک ہے جس سے دنیا کے مختلف ممالک مختلف تاریخوں میں مناتے ہیں .اس دن کو منانے کا مقصد اساتذہ کی اقوام عالم کے لئے خدمات کا اعتراف ہے.اساتذہ کا دن ہر ملک میں انتہائی خلوص, محبت اور عقیدت کے ساتھ منایا جاتا ہے اور اس عزم کی تائید کی جاتی ہے کہ آنے والی نسل کے لئے بھی اساتذہ کے کلیدی رول کی ضرورت ہے.اگر اقوام عالم کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے قوموں کے عروج میں انہیں رہنمائے قوم یعنی اساتذہ کا ہاتھ اصل ہے,یہی وجہ ہے کہ خود خالق کائنات خدائے ذوالجلاج نے اپنی نبی کو اس دنیا میں س معلم بنا کر بیجھا چناچہ حضرت ابن عمر کے طریق سے ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے معلم بنا کر اس دنیا میں بیجھا گیا.
چناچہ انسانیت کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ جناب رسول اللہ نے کس طرح جہالت کی گھٹاٹوپ اندھیری میں پھنسی انسانیت کو راہ مستقیم پر لاکر معلم حقیقی ہونے کا اتم ثبوت دیا. اس حدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ نبی کے بعد قوم کی رہبری اور رھنمائی میں اس استاد کا درجہ ایک خلیفیہ رسول کا سا ہے. جس سے کسی بھی انداز میں نظر انداز کرنا قوم کےلئے زوال اور پستی کا باعث بن سکتا ہے.
مگر آج کے دور میں ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ آج استاد کو معمولی نوکر سمجھ کر کرسی تھما دی جاتی ہیں, ان کی حقوق کی پامالی اور ان کے منصب کی رسوائی بازارو کی زینت بن چکی ہے حد تو یہ ہے کہ اب ان معماران قوم کو اپنے حقوق کی رخھوالی کے لئے سڈکوں پر آنا پڈھتا ہے .یہ سب نتیجہ ہے ارباب اقدار سے جڈے لوگوں کی اساتزہ کی طرف عدم توجھی کا جو اپنے شیشے سے بنے محلات میں رہ کر ان رھبروں کی تنگ دامنی کو دیکھنے کے باوجود ان سے صرف نظر کرتے ہیں,شاہد وہ بھول چکے ہیں کہ دنیا میں جنم لینے والا جب کسی کمال کو پہنچ کر کسی عظیم ہستی کی شکل اختیار کر گیا ہے ان سب کے پیچھے انہی اساتذہ کا ہاتھ اصل تھا.
چناچہ مشہور مفکر ارسطو نے لکھا ہے کہ میں اپنے والدین سے زیادہ عزت اور احترام اپنے اساتذہ کی کرتا ہو کیوںکہ والدین نے مجھے عرش سے فرش پر پہنچایا لیکن اساتذہ نے مجھے عرش سے فرش پر پہنچایا اور دانائے راز شاعر مشرق علامہ اقبال کہا کرتے تھے میں جو کچھ بھی ہو اس کا سہرا میں اساتذہ کرام کے سر باندھتا ہوں.مشہور مفکر اور صوفی شاعر مولانا رومی اپنے استاد محترم کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہے
مولوی ہرگز نہ شُد مولائے روم
تا غلام شمس تبریزی نہ شد
اس شعر میں مولانا یہی فرما رہے ہیں کہ روم کا عالم فاضل مُلّا، مولوی یعنی صوفی ہر گز نہ بنتا اگر وہ شاہ شمس تبریز کا غلام نہ بنتا۔استاد مدرسوں کے حاکم ہوتے ہے مدرسے وہ جگہے ہیں جہاں قوموں کی تقدیر سورتی ہے اور تہزیبی جنم لیتی ہے جس کا اعتراف ہر دانشور نے کیا ہے.جیسے علامہ فرماتے ہے
یہ فیضانِ نظر تھایاکہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائی کس نے اسماعیل کو آداب فرضندی
لہاذا ہم تمام کو متفق ہو کر ایک جھنڈے تلے جمع ہو کر یہ آواز بلند کرنی ہوگی کہ اگر آج بھی ہماری قوم کے قائدین اس قوم کو بام ثریا پر دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں . انھے ان رہبران قوم کے حوالے ہی قوم کی ہر آواز کو کرنا پڑھے گا اور ان حضرات کے ہر لمحہ کی قیمت اپنے خون سے پورا کرنے کی تڈپ دلوں میں پیدا کرنی پڈھے گی .
اللہ ہم سب کو اساتذہ کی تعظعم و تکریم کرنے کی توفیق عطا فرمائے.

Facebook Comments