نئی دہلی:ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہندوستان نےاپنے آپ کو جس انداز ڈیجیٹل بنانے کی طرف قدم بڑھایا وہ رفتار حیرت انگیز ہے ۔میک کینسی اسٹڈی نے ہندوستان کے ڈیجیٹل ہونے کی ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں ہندوستان کی اس کامیابی کو معجزہ بتایا گیا ہے۔رپورٹ میں ہندوستان کی جو تصویر ابھر کر سامنے آئی ہے وہ یہ بتارہی ہے کہ سن ۲۰۱۴ سے ۲۰۱۸ کے بیچ ہندوستان میں ڈیجیٹلائزیشن  کے فیلڈ میں ہوئی  ترقی کسی انقلاب سے کم نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق  سن ۲۰۱۴ میں ۱۰۰لوگوں میں سے پانچ عشاریہ چار فیصد لوگ ہی اسمارٹ فون استعمال کر رہے تھے،لیکن ۲۰۱۸ میں یہ اعداد وشمار ۲۶ عشاریہ دو فیصد تک پہنچ گئے ،یعنی پانچ فیصد سے سیدھے ۲۶ فیصد پہنچ گئے،وہیں ۲۰۱۴ میں ۲۳۹ ملین ہندوستانی انٹرنیٹ کا استعما کرتے تھے جبکہ ۲۰۱۸ میں یہ تعداد ۵۶۰ تک پہنچ گئی ،اور ۲۰۱۴ میں ایک انٹرنیٹ یوزرایک ماہ میں ۸۶ ایم بی   نیٹ  استعمال کرتا تھا لیکن ۲۰۱۸ میں ۸۳۲۰ ایم بی تک پہنچ گیا۔

ایک دوسری  بات رپورٹ میں یہ بھی کہی گئی ہے کہ سن ۲۰۲۳ تک ہندوستان میں سات سو ملین اسمارٹ فون یوزر ہوں گے اور آٹھ سو ملین انٹرنیٹ یوزر۔ایک بڑی بات رپورٹ میں یہ بھی بتائی گئی ہے کہ ایک دن میں کم سے کم پچاس ملین ہندوستانی انٹرنیٹ یوزر واٹس ایپ پر ویڈیو کالنگ کی سروس کا لطف اٹھارہے ہیں۔اور ۹۴ فیصد چھوٹے کاروباریوں نے ڈیجیٹل پیمنٹ یعنی ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ سے بھی ادائیگی کا سسٹم شروع کردیا ہے۔ای کامرس صارفین کی تعداد بھی ۱۷۶ ملین پہنچ چکی ہے۔کل ملاکر ہندوستان ڈیجیٹل انڈیا بننے کے راستے پر کافی تیز رفتاری کے ساتھ  بڑھ رہا ہے اور ممکن ہے کہ پی ایم مودی کے ڈیجیٹل انڈیا بنانے کا خواب جلد پورا ہوجائے۔

Facebook Comments