نئی دہلی:جونیئر کمیشن آفیسرز(جے سی او) سمیت ۱۔۱۲لاکھ آرمی کے جوان کے سروس تنخواہ یعنی ملٹری سروس پے(ایم ایس پی)بڑھانے سے متعلق مطالبے کو مرکزی سرکار ٹھکرا دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت مالیات کے اس فیصلے سےآرمی ہیڈکوارٹر کافی پریشان ہےاور اس فیصلے پر فوری ازسر نو غور وخوض کا مطالبہ کیا ہے۔سرکار کے اس فیصلے سے ۸۷۶۴۶ جے سی او اور ان کے ہی ہم رتبہ سمندری(بحری) فوج اور ایئر فورس کے ۲۵۴۳۴ جوانوں کی تنخواہ متاثر ہوں گی۔ذرائع کا کہنا کہ جوانوں نے ماہانہ ایم ایس پی ۵۲۰۰ روپئے سے دس ہزار کرنے کی مانگ کی تھی،اگر یہ مطالبہ مان لیا جاتا تو سرکار پر ۶۱۰ کروڑ روپئے کا اضافی بوجھ پرجاتا۔موجودہ وقت میں دو طرح کی ایم ایس پی ہے ایک ایم ایس پی افسران کیلئے ہے جبکہ دوسری ایم ایس پی جے سی او اور جوانوں کیلئے ہے۔ساتویں پے کمیشن نے جے سی اور اور جوانوں کیلئے فی ماہ ۵۲۰۰ روپئے ایم ایس پی طے کی تھی جبکہ لیفٹننٹ رینک سے بریگیڈیئر رینک تک کیلئے پندرہ ہزار پانچ سو روپئے فی ماہ طے کیا تھا ،آرمی جے سی او کو زیادہ ایم ایس پی دینے کا مطالبہ کررہی ہے۔اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ مودی سرکار جوانوں کے مطالبے پر پھر سے غور کرتی ہے یا نہیں یا پھر ہندوستانی جوانوں کو اس بار بھی مایوسی ہاتھ لگتی ہے۔زیادہ ممکن ہے کہ مودی سرکار پانے فیصلے پر اٹل رہے لیکن جوانوں میں بھی اس بات کی ضد دکھائی دے رہی ہے کہ وہ سرکار سے اپنے مطالبات منوانا ہی چاہتی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ سب صاف ہوجائے گا کہ آرمی کا مطالبہ پورا ہوا یا مودی سرکار اس بار بھی جوانوں کو جھٹکا دینے میں کامیاب ہوگئی۔

Facebook Comments