نئی دہلی:انسٹی چیوٹ آف انڈو پرشین اسٹڈیز اورانڈیا انٹرنیشنل سینٹر کے شعبہ انٹرنیشنل ریسرچ ڈیویژن کے اشتراک سے “انڈیا اینڈ سنٹرل ایشیا” کے عنوان سے دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف ممالک سے معروف اور معتبر اسکالرز نے حصہ لیا۔ کانفرنس کی پہلی نشست افتتاحیہ پر مشتمل تھی جس کی صدارت چئرمین انڈیا انٹرنیشنل سنٹر این این وہرا نے کی۔ مہمانوں کا استقبال کرتے ہوے انسٹی چیوٹ آف گلوبل اسٹڈیز کے صدر اور سابق سفیر  آشوک سجنہار نے ہندوستان اور وسطی ایشیا کے رشتوں  پر پر مغز گفتگو کی اور ان روابط کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا اور وسط ایشیا کے تمام ممالک سے آئے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوے  شکریہ ادا کیا کہ انہوں اس کانفرنس کے لئے اپنا قیمتی وقت دیا اور اپنے تحقیقی مقالاجات سے تعاون بھی پیش کیا۔

کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر گفتگو کرتے ہوے آئی آئی پی ایس کے صدر پروفیسر سید اختر حسین نے کہا کہ ہندوستان کا وسطی ایشیا کے ممالک سے ایک گہرا تہذیبی اور تاریخی رشتہ رہا ہے اور اسی تناظر میں اس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے تاکہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرائی اور وقعت مل سکے اور دور حاضر میں کس لائحہ عمل کے تحت ان روابط کو مزید استحکام دیا جا سکے۔ پروفیسر سید اختر حسین نے چئرمین این این وہرا کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ دراصل اسی سلسلے کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے جس کی ابتدا انہوں نے کچھ برس پہلے کی تھی۔

کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوے چئر مین این این وہرا نے منتظمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوے کہا کہ اس کانفرنس کےانعقاد سے  ہندوستان اور وسط ایشیا کے دیرینہ رشتوں کو مزید تقویت حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور وسط ایشیا کا تعلق بہت پرانا ہے اور عصر حاضر میں اس کو جلا بخشنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے آئی آئی سی کے تحت نشر ہونے والی ہندوستان اور وسط ایشیا کے روابط سے متعلق تمام اشاعتوں کا ذکر کرتے ہوے شعبہ کی صدر کپلا وتسیان کو مبارکباد پیش کی اور ان کی کوششوں کو سراہا اور آئی آئی پی ایس کے صدر پروفیسر سید اختر حسین کو کانفرنس کے انعقاد کے لئے ان کی تمام تر کاوشوں پر مبارکباد پیش کی اور آئندہ ایام میں بھی اس طرح کے زرخیز اقدام اٹھانے کی تلقین کی۔نشست کے اختتام پراظہار تشکر کرتے ہوے ڈائریکٹر آئی آئی سی ائر مارشل نریش ورما نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور یہ امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس ہند و وسطی ایشیا تعلقات کے لئے بارآور ثابت ہوگی۔

Facebook Comments