یروشلم:اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نتن یاہوان دنوں بہت ہی بری طرح سے پھنسے ہوئے ہیں ،چونکہ ان کے اور ان کی اہلیہ سارہ نتن یاہو پر رشوت خوری اور دھوکہ دری کو جو الزام لگا تھا وہ ثابت ہوگیا ہے۔دراصل اسرائیل کے وزیراعظم نے ۲۶۰ہزار ڈالر قیمت کی قیمتی اشیا کو سیاسی مدد سے بطور ہدیہ انہوں نے اپنے قبضے میں لیا تھا،اور دو میڈیا گھرانوں کو بھی منفی خبروں کو دبانے اور مثبت خبروں کو دکھانے کیلئے پیسے دیئے تھے۔
اسرائیل کے اٹارنی جنرل اویچائے مندلبلت نے قریب تین سال کی تفتیش کے طعد ۶۳ صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ سونپی ہے جس میں اسرائیل کے سب سے طویل مدت وزیراعظم بنجامن نتن یاہو پر گزشتہ دہائی میں ذاتی مفاد کیلئے اپنی کرسی کا غلط استعمال کرنے کو ثابت کیا ہے۔نتن یاہو پر کرپشن،رشوت خوری،دھوکہ دہی اور اعتماد شکنی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود اسرائیل کے وزیراعظم کی بے شرمی اس حد تک ہے کہ اس نے وزارت کی کرسی چھوڑنے سے انکار کردیا ہے۔
وہیں اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ بڑی مشکل سے یہ فیصلہ کیا ہے جس کیلئے دل ودماغ تیار نہیں تھا لیکن اسرائیل میں قانون کا راز ہے اس لئے یہ ضروری تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ اسرائیل کی شہریوں کو اس بات کی یقین دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ اسرائیل میں پہلے قانون ہے بعد میں عہدہ اور صاحب منصب۔

Facebook Comments