نئی دہلی:جامعہ ملیہ میں جب سے نئی وائس چانسلر  نجمہ اختر کی بحالی ہوئی تھی تب سے ماہرین کو اس بات کا اندیشہ تھا کہ جامعہ کے ساتھ آئندہ چند سالوں میں  کچھ بھی بہتر نہیں ہونے والا ہے۔چونکہ نجمہ آرایس ایس  اور خاص طور پر اندریش کمار کی بہت ہی قریبی مانی جاتی ہیں ،اور اس کی واضح مثال آج اس وقت دیکھنے کو ملی جب انتظامیہ نے ایک جھٹکے میں جامعہ کو تین ہفتوں کیلئے  سمسٹر امتحان روک کر سرمائی تعطیل کے نام پر بند کرنے کا فرمان صادر کردیا ہے۔دراصل گزشت روز جامعہ ملیہ کے طلبا نے شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں پارلیمنٹ کی جانب کوچ کرنے کی کوشش،لیکن جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کو جمعہ کے روز یونیورسٹی کے احاطے کے باہر پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سامنا کرنا پڑا جس میں کئی طلباء زخمی ہو ئے۔

مظاہرے کو روکنے کے لئے پولیس نے پہلے پانی کی بوچھاریں کی اور پھر آنسو گیس کے گولے داغے ۔ اس کے بعد پولیس نے بڑی بے رحمی کے ساتھ طلباء پر لاٹھی چارج کیا جس میں ۷۰ سے زائد طلباء زخمی ہوئے ہے ،وہیں  آج بھی  جامعہ ملیہ کے کیمپس میں آج بڑی تعداد میں طلبا نے جمع ہوکر احتجاج ومظاہرہ کیا ۔اور حراست میں لئے گئے قریب ۴۲ طلبا کی رہائی کا مطالبہ کیا ،لیکن احتجاج کے دوسرے دن ہی جامعہ انتظامیہ تمام سمسٹر کے امتحانات ملتوی کردیئے،اور۱۶ دسمبر سے ۶جنوری تک جامعہ میں تالا لگانے کا اعلان کردیا گیا۔ایسے میں ایک طرف جہاں ماہرین کی جانب سے جامعہ انتظامیہ  کے فیصلے کی سخت لفظوں میں تنقید کی جارہی ہے وہیں جامعہ کے طلبا پر جس بے رحمی سے لاٹھی چارج،آنسو گیس کے گولے اور پتھر پھینکے گئے، اس کی بھی ملکی پیمانے پر بھرپور مذمت کی جارہی ہے۔

Facebook Comments