نئی دہلی(پریس ریلیز)مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی ایک پریس ریلیز میں پلول،ہریانہ کی ایک مسجدسے متعلق دہلی اقلیتی کمیشن کی شائع رپورٹ کے اس حصہ پر سخت حیرت وافسوس کا اظہارکیاگیا ہے جس میں شعوری یاغیرشعوری طورپردہشت گرد تنظیم لشکرطیبہ کوسلفی مکتب فکرسے منسوب کیاگیا ہے ۔ یہ ایک انتہائی غیرذمہ دارانہ اورافسوسناک بات ہے۔اس سے کروڑوں امن پسند،محب وطن اورانسانیت دوست لوگوں کی دلآزاری ہوئی ہے اور جس پر ہر انصاف پسند نالاں وشکوہ کناں ہے۔آج تک اسلام اورمسلم دہشت گردی کا ہواکھڑا کرکے اسلام اورمسلمانوں کو بدنام کرنے کا پروپیگنڈا کیاجاتا تھا جس پر مسلمانوں کو سخت اعتراض تھا لیکن افسوس کہ آج بعض مسلمان بھائی ہی اپنے بعض مسلم مکاتب فکر کے بارے میں اس طرح کی غیرذمہ دارانہ باتیںکہہ رہے ہیں۔اس گروہ کی نسبت سلفیت کی طرف کی گئی ہے جس کا فکری وعملی اعتبار سے سلفیت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اورنہ ہی سلفیان عالم اس قسم کے لوگوں کو تسلیم کرتے ہیں کیونکہ ان کے فکرو خیال جداگانہ بلکہ مخالفانہ ومتضاد ہیں۔مذکورہ غلط فہمی کی تشہیر اقلیتی کمیشن جیسے مو¿قر ادارہ کے ذمہ دار کی جانب سے ہوئی ہے جس کے سلسلہ میںجمعیت کو یقین ہے کہ غیرشعوری طور پر غیرمتعلق بات معرض بیان میں آگئی ہے۔چنانچہ لوگوں کے اضطراب کے مدنظر یہ وضاحت کرنی پڑی۔
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ دہشت گردی کا کوئی دین و مذہب ہوتا ہے۔ اور یہ معلوم ہے کہ جماعت اہل حدیث وطن عزیز کی وہ واحد تنظیم ہے جسے سب سے پہلے دہشت گردی ،داعش وغیرہ کی کھل کر مذمت کرنے،ان کی خرابیوں سے ہرخاص وعام کو باخبرکرنے، ان کی مذمت وتردیدمیں اجتماعی فتوے جاری کرنے اوربڑے بڑے سیمنار،سمپوزیم اور کانفرنسیں منعقدکرنے کا شرف حاصل ہے۔جو شخص یاتنظیم دہشت گردی کی حمایت کرتی ہے وہ سلفی نہیں ہوسکتی۔سلفیت نام ہے صاف ستھرے عقیدے کا اور انسانیت نوازی کا۔ آج تک دنیاکے کسی بھی ملک میں چاہے وہ اسلامی ہو یا غیراسلامی، سلفی مکتب فکر کے لوگوںنے کسی حکومت کے خلاف احتجاج،مظاہروں،انقلابی اورپرتشددپروگراموں میں نہ تو حصہ لیا اورنہ ہی اس فکرکی کبھی حوصلہ افزائی کی۔اس کا مانناہے کہ شور و ہنگامہ، پرتشدد مظاہروں اور دہشت پھیلانے جیسے کاموں سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اورالجھ جاتے ہیں اس کی واضح مثال دنیا کے بہت سے ممالک ہیں جہاں ملک کے ملک دیکھتے ہی دیکھتے اتھل پتھل کا شکار ہوگئے۔ لاکھوں لوگ قتل وخونریزی کی بھینٹ چڑھ گئے اورکروڑوںدردرکی ٹھوکریں کھانے پر مجبورہوگئے۔ بہر حال ایسے مکتب فکر کو کسی دہشت گرد تنظیم سے منسوب کرنا حقیقت سے دور اورانصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
پریس ریلیز میں مزیدکہاگیاہے کہ آج امت مسلمہ کے لئے اتحاد و یکجہتی ایک ناگزیر ضرورت ہے، ایسے میں ایک دوسرے کوشعوری یا غیرشعوری طورپر غلط مکاتب فکر سے جوڑنا کسی بھی طرح صحیح نہیں ہے اس سے بچنے کی ضرورت ہے،جماعت اہل حدیث ایک مثبت فکر کی حامل جماعت ہے جس نے تعلیمی، دعوتی،تصنیفی،صحافتی وغیرہ الغرض ہر میدان میںاپناناقابل فراموش اور اہم رول ادا کیاہے۔ا فراد امت اور اہل وطن کے ساتھ اس کا ہمیشہ ہی اخوت و بھائی چارگی اور یکجہتی اس کا شیوہ رہاہے اور اسی طرح کی توقع و ہ تمام انصاف پسنداور اسلام و انسانیت دوست بھائیوں سے کرتی ہے ۔

Facebook Comments