نئی دہلی:جموں کشمیر میں حالات ٹھیک نہیں ہیں ،حکومت اس ایک سچائی کو دبانے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہی ہے لیکن موقع بہ موقع کوئی نہ کوئی ثبوت سامنے آہی جاتا ہے کہ جموں کشمیر میں حالات بہتر نہیں ہیں ،اور اب ایک اور ثبوت یہ نکل کر سامنے آرہا ہے کہ پنچ سرپنچوں کی خالی پڑی سیٹوں پر مارچ میں انتخابات کا الیکشن کمیشن نے چند دنوں قبل ہی اعلان کیا تھا ،یہ بھی اعلان کیا گیا تھا کہ کل آٹھ مرحلوں میں ووٹنگ ہوگی اور پانچ مارچ سے بیس مارچ تک اس پورے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا،لیکن اب جموں کشمیر الیکٹورل آفیسر نے اپنے نوٹیفکیشن کو واپس لیتے ہوئے الیکشن کو نامعلوم مدت تک کیلئے ملتوی کردیا ہے  اور ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردانہ حملے کا خدشہ ہے اور سیکورٹی وجوہات کی بنیاد پر انتخابات کو فی الحال کراپانا ناممکن ہے ،یہی وجہ ہے کہ آج جموں کشمیر الیکٹورل کمیشن نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔

آپ کو بتادیں کہ سیاسی نظربندی کا دور ابھی تک جموں کشمیر میں جاری ہے اور فی الحال کئی لیڈران کے ساتھ ساتھ ریاست کے تین سابق وزرائے اعلیٰ بھی خانہ نظربند ہیں ۔ادھر دوسری جانب جموں کشمیر میں مسلسل پابندیوں کو کی وجہ سے کئی شعبوں میں بھاری نقصان ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور اس بار اگست کے بعد سے اب تک کی سیاحت سے آمدنی کی جو رپورٹ آئی ہے اس میں ۷۰ فیصد تک کی کمی آئی ہے ،اس کے علاوہ بے روزگاری کے ساتھ ساتھ کئی دیگر شعبے  بھی آج ٹھہر ٹھہر کر سانسیں لے رہے ہیں ۔

Facebook Comments