ڈیرھ درجن طلبا واساتذہ زخمی

یوگیندر یادو کو پولیس کے سامنے کیا گیا زدوکوب

اے بی وی پی نے بھارت ماتا کے لگائے نعرے

نئی دہلی:ملک کی مشہورومعروف جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں آج شام خون خرابہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب کیمپس کے اندر کچھ نامعلوم نقاب پوش نوجوانوں نے ہاسٹل درہاسٹل طلبا اور اساتذہ کو بری طرح سے زد وکوب کیا،ہاسٹل میں توڑ پھوڑ کی اور اب تک ملی جانکاری کے مطابق جے این یو طلبا یونین کے صدر ایش گھوش اور پروفیسر سچیتا کے سر پر زبردست حملہ کیا گیا جس کی وجہ ان دونوں کے سر سے خون کافی نکلے ہیں ،ان کا علاج فی الحال ایمس میں چل رہا ہے۔زخمیوں کی تعداد درجن بھر سے زائد بتائی جارہی ہے اور اب تک یہ پوری طرح صاف نہیں ہوپایا ہے کہ یہ حملہ کس نے کیا ۔البتہ لیفٹ کے اسٹوڈنٹس کا کہنا کے کہ اے بی وی پی کے لوگوں نے ان پر حملہ کیا ہے اور اس میں جے این یو کے ساتھ ساتھ ڈی ایو سے بھی کچھ طلبا ہاکی اور لاٹھی لے کر آئے تھے۔وہیں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بی جے پی لیڈرستیندر اوانا کی قیادت میں یہ سب خون خرابہ ہوا ہے چونکہ بتایا جارہا ہے کہ وہ شام میں کیمپس کے اندر تھے،طلبا رجسٹریشن کا بائیکاٹ کررہے تھے،اس بیچ اچانک سے کچھ لوگوں نے ہاکی اور لاٹھی سے حملہ کرنا شروع کردیا۔ہاسٹل میں جا جاکر طلبا پر حملہ کیا ہے۔لیفٹ کا الزام ہے کہ پولیس کی نگرانی میں اے بی وی پی کے لوگوں نے یہ حملہ کیا ہے۔فی الحال پولیس اندر ہے اور تمام دروازے بند کئے گئے ہیں ۔لیکن وائس چانسلر کی طرف سے کچھ بھی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔وہیں کچھ زخمیوں کو صفدرجنگ اسپتال لایا گیا ہے۔اور بتایا جارہا ہے کہ طلبا اندر ڈرے ہوئے ہیں ،کچھ طلبا نے خود کو بیت الخلا میں بند کررکھا ہے۔پندرہ طلبا  ایمس کے ٹراما سینٹر میں ایڈمٹ ہیں اور تین کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

Facebook Comments