وسیم احمد علیمی

کل تک جو جوتا محض جوتا تھا ،آج وہ اخباروں کی سرخیوں میں ہے ۔اس بے زبان جوتے کو بھی اپنی قسمت پر یقین نہیں آرہا ہوگا کہ کیسے ایک لمحے میں ایک شخص کے قدم سے نکل کر دوسرے شخص کے سر تک کا سفر طے کر لیا۔جی ہاں میں بات کر رہاہوں اس مشہور زمانہ جوتے کی جس کی کہانی بے جے پی پارلیمانی ممبر شرد تریپاٹھی اور بی جے پی ایم ایل اے راکیش بگھیل کی گہما گہمی سے شروع ہوکر اخبارات کی سرخیوں تک پہنچ چکی ہے ۔اتر پردیش کی راجدھانی لکھنو سے تقریبا ۰۰۲کلومیٹر دور ضلع سنت کبیر نگر میں بدھ کے دن ایک مجلس کے دوران بھارتی جنتا پارٹی کے دو لیڈران کے بیچ بحث ہوئی اور یہ واقعہ معرض وجود میں آیا۔

کانگریس نے اس حادثہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتی جنتا پارٹی کو ’بھارتی جوتا پارٹی ‘ کہہ کر مذاق اڑا یا ۔اکھلیش یادو نے بھی ایک مزاحیہ ٹویٹ کرتے ہویے لکھا ”اس سے بی جے پی کی مایوسی کا اظہار ہوتاہے جو آنے والے انتخاب میں منہ کی کھانے والی ہے ،سچائی یہ ہے کہ آئندہ انتخابات کے لیے بی جے پی کو امید وار ہی نہیں مل رہے ہیں “۔ اکھلیش یادو نے اپنے ایک بیان میں یہاں تک کہا کہ پارٹی کے بڑے لیڈران کی باتوں سے چھوٹے نیتا کنفیوز ہیں ،انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ جھوٹ کی اتباع کرنی ہے یا بوٹ کی ۔
جوتا یوں تو پیروں کی حفاظت اور دوران سفر تکان سے بچنے کے لیے ایجاد کیا گیا تھا لیکن انسانی تاریخ میں جوتے کا استعمال اور بھی کئی مقاصد کے لیے کیا گیا ہے اور کیا جاتا رہے گا ۔محفوظ شدہ تاریخ کے مطابق سب سے پہلی بار کسی انسان کو ذلیل کرنے کے لیے جوتے کا استعمال ۹۵۳ءمیں ہوا جب ایک رومن بادشاہ چھوٹی پہاڑی پر کھڑے ہو کر تقریر کر رہا تھا اور اپنی رعایا سے وفاداری کا ثبوت طلب کر رہا تھا تبھی اچانک ایک شخص نے اپنا جوتا نکال کر اس بادشاہ پر اچھا ل دیا اور جنگ کا نعرہ بلند کرنے لگا ۔یہ واقعہ ہزاروں سال پرانا ہے لیکن تاریخ میں جب بھی کوئی شخص کسی پر جوتا اٹھائے گا اس واقعے کے دہرائے جانے پرکوئی حرج نہیں ہے ۔
میرے خیال سے کسی پر جوتا چلانے یا اٹھانے کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک کوئی بڑا کسی چھوٹے پر جوتا اٹھائے یا چلائے ،اس کی بھی دو صورتیں ہیں ،ذلیل کرنے کے لیے یا تادیبی کاروائی کے لیے ۔
دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی چھوٹا کسی بڑے پر جوتا چلائے ،اس کے بھی دو مقاصد ہیں ۔احتجاج درج کرانے کے لیے یا بغاوت کے اعلان کے لیے ۔ لیکن ضلع سنت کبیر نگر اترپردیش میں پیش آنے والا جوتے کا یہ واقعہ ان دونوں ہی قسموں سے خارج ہے ۔ یہاں جوتے کا استعمال محض برتری کے اظہار کے لیے کیا گیا ہے ۔
افسوس ہے جو لوگ عوام کی نمائندگی کرنے کے لیے منتخب ہوتے ہیں ان کا اصل چہرہ دھیرے دھیرے بے بقاب ہو نے لگا ہے ۔تہذیب و تمدن کی بات کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کے قانون ساز لیڈروں نے اپنی پہذیب کا اظہار جس انداز سے کیا ہے وہ جگ ظاہر ہو چکا ہے ۔
کل رات این ڈی ٹی وی کے معروف صحافی اور نیوز اینکر رویش کمار نے بھی اس واقعہ پر اپنے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سنت کبیر نگر میں جو تے مارنے کا جو حادثہ سامنے آیا وہ کبیر داس کے ہر شعر کے خلاف تھا ۔
ملک میں پھیلتی ہوئی بد امنی ، بے قصور کو پیٹتی ہوئی بے لگام بھیڑ کی آزادی ،آسمان چھوتی مہنگائی ،بے روزگاری اور خوف و ہراس کا ماحول ہے
۔ایسے میں بر سر اقتدار پارٹی کے رہنماوں کا آپس میں جوتا جوتا کھیلنا عوامی نمائندوں کی بے حسی اور فکری بے لگامی کا کھلا ثبوت ہے ۔
ملک کے ایک خاس طبقے کو حب الوطنی کا درس دینے والی پارٹی بی جے پی کو اس جوتے مار لیڈر کی فوری خبر گیری کرنی چاہیے ورنہ اگر جوتے چلنے کا یہ رواج چل نکلا تو جوتے اور جوتے ماروں کی اس بھیڑ میں عوام کے بنیادی مسائل دب کر رہ جائیں گے ۔


بقول اکبر الہ آبادی
بوٹ ڈاسن نے بنایا میں نے اک مضموں لکھا
ملک میں مضموں نہ پھیلا اور جوتا چل گیا

Facebook Comments