نئی دہلی:جموں کشمیر میں ایک طرف سرحدی کشیدگی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے وہیں دوسری طرف پاکستان اپنی ناپاک حرکتوں سے باز آنے کیلئے تیار نہیں ہے۔جموں کشمیر کےسرحدی علاقے کیرن سیکٹر میں دراندازی کی کوشش کرنے والے پانچ ملیٹنٹوں کو ہندوستانی فوج نے گزشتہ روز مار گرایا تھا،لیکن ابھی تک ان تمام ملیٹنٹوں کی لاش وہیں پر موجود ہے۔بتایا جارہا ہے انڈین آرمی نے دراندازی کرنے کی کوشش کرنے والے ان پانچوں ملیٹنٹوں کو اگست کے پہلے ہفتے میں مار گرایا تھالیکن ابھی تک پاکستان کی طرف سے کوئی اس کی لاش کو لے جانے کیلئے نہیں آیا ہے۔ویڈیو میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے ملیٹنٹوں کی لاش اور اس کے سامان ابھی بھی موجود ہے۔

 وہیں دوسری طرف اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کونسل کے ۴۲ویں اجلاس کا آج آغاز ہوگیا ہے،اس موقع سے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کونسل کی چیئر میں میشیل بیچلیٹ نےجموں کشمیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے،انہوں نے اپنے خطاب میں جموں کشمیرکے موجودہ حالات پر فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے حقوق کی پامالی پر کافی تشویش ہے،مسلسل پابندیوں کے نتائج،مواصلاتی نظام پر قدغن،مقامی سیاسی لیڈران کارکنان کی نظر بندی گہری فکر کا موضوع ہے،انہوں نے اس موقع سے ہند۔پاک کی حکومت سے یہ اپیل کی ہے کہ ہندوستان اور پاکستانی سرحدی علاقوں میں حقوق انسانی کی بحالی کیلئے کوششیں کرے۔آپ کو بتادیں کہ اجلاس کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر نے آسام کی این آر سی پر بھی اپنی بات رکھی ہے۔

 

Facebook Comments