اس وقت پوری دنیا COVID-19  جیسے وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے تگ و دو کر رہی ہے۔ ایسے میں مرکز کے زیر انتظام کشمیر جیسے علاقے کا خوف زدہ ہونا لازمی ہو جاتا ہے۔ کیونکہ پہلے ہی پورا کشمیر تقریباً سات مہینے کے لاک ڈاؤن میں رہ چکا ہے۔ اس درمیان یہاں کی لازمی اور بنیادی خدمات بےحد متاثر ہوئی ہیں۔ کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر انٹرنیٹ خدمات بھی معطل کر دی گئی تھی۔ تاہم گزشتہ مہینے انٹرنیٹ خدمات کو بحال کیے جانے کے بعد بھی صورت حال دیگر گوں ہے۔ یہاں کے ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کروناوائرس جیسی عالمگیر وبا سے نمٹنے کے لیے نہ تو ہمارے پاس کوئی تازہ ترین اطلاعات ہی پہنچ رہی ہیں اور نہ ہی ہمارے لیے لازمی طبّی ساز و سامن مہیا کیے جا رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں کہیں ہم مویشیوں کی موت نہ مارے جائیں۔۔۔۔۔۔

 اطلاعات کے مطابق گزشتہ دنوں جموں اور کشمیر میں کروناوائرس سے متاثر  11 معاملے سامنے آئے ہیں۔ جبکہ سرینگر کے حیدرپورا علاقے میں کروناوائرس سے متاثر ایک 65 سالہ شخص کی موت بھی واقع ہوئی ہے۔

کشمیر کی اس پوری صورت حال پر معروف انگریزی چینل الجزیرہ نے خصوصی رپورٹنگ کی ہے۔ اپنی رپورٹنگ میں ڈاکٹروں کے حوالے الجزیرہ لکھتا ہے کہ ہمالیائی خطے کے اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی معاونین (پیرامیڈکس) کی شدید قلت ہے۔جہاں ایک طرف اس وبا نے عالمی سطح کے طبی انفراسٹکچر کے حامل ممالک کو بھی بے چین کر دیا ہے وہیں کشمیر جیسے ناقص طبی سہولیات والے علاقے اس بحران سے کس طرح نمٹے گیں؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔

واضح ہو کہ کشمیر میں کروناوائرس سے متاثر مریض گزشتہ جمعرات کو سامنے آیا تھا۔ جس کی اطلاع ملنے کے بعد وادی کے رہائشیوں کو کروناوائرس  کے ممکنہ تباہ کن نتائج کا خدشہ پریشان کر رہا ہے۔ممکن ہے یہ آنے والے خطرات کی محض آہٹ ہو۔ کیونکہ فی الحال ایسے کئی سو افراد کو Quarantine  کیا گیا ہے۔ جن میں سے بیشتر تر افراد حال کے دنوں میں ہی دوسرے ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔

غور طلب ہے کہ کروناوائرس سے متاثر 13 معاملے کی پہچان لداخ کے اطراف سے بھی ہوئی ہے۔ان میں بھی زیادہ تر افراد حال کے دنوں میں ایران کے سفر سے لوٹے ہیں۔ معلوم ہو کہ لداخ کے اطراف ایران کے سرحدی علاقوں سے ملتے ہیں۔حالانکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعے قومی سطح کے لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد انتظامیہ اہلکاروں نے نہ صرف سرحدوں سے آمد و رفت کے سلسلے کو منقتع کیا ہے بلکہ کروناوائرس کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر پورے کشمیر علاقے کو لاک ڈاؤن کر دیا ہے۔

صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے الجزیرہ مزید لکھتا ہے کہ بازاروں کے بند ہونے، پبلک ٹرانسپورٹ اور مسافروں کے داخلے پر پابندی عائد ہونے کے بعد کشمیر خطے کی سرمائی راجدھانی سرینگر سنسان ہو گئی ہے ۔ تقریباً  12 لاکھ آبادی والا یہ شہر ماضی کے کسی کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا ہے۔وہیں طبی سہولیات کے حوالے سے سرینگر کے میئر ’’جنید مٹو‘‘ کہتے ہیں کہ ہمارے پا س بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث ہم نہ تو فعال اور بڑے پیمانے پر جانچ کر پا رہے ہیں اور نہ ہی بدترین صورت حال سے نمٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ دوسری طرف سرینگر کے سول انتظامیہ کے سربراہ شاہد چودھری اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھتے ہیں کہ ’’اگر میں روزانہ کے واقعات کا خلاصہ بیان کروں تو آپ یقین کریں کہ کشمیر کے عوام کی نیندیں حرام ہو جائیں گی‘‘ شاہد چودھری آگے لکھتے ہیں کہ ہمیں فی الحال اپنی انا کو درکنار رکھنا چاہئے اور اجتماعی شکل میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ گھبرانے کی بجائے ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہئے۔ کیونکہ کروناوائرس کے خلاف یہ جنگ تیسری عالمی جنگ سے کم نہیں ‘‘۔

معلوم ہو کہ کشمیر میں گزشتہ مہینے ہی اسکول، کالجز اور یونی ورسٹیز کو دوبارہ بحال کیا گیا تھا، جو گزشتہ سات مہینے سے لاک ڈاؤن کی حالت میں تھے۔ لیکن وبائی امراض کے پیش نظر لازمی ضروریات کی حصولیابی اور لاک ڈاؤن کی طویل مدت کو دیکھتے ہوئے انہیں دوبارہ بند کر دیا گیا۔ تاکہ اس لاک ڈاؤن میں عوام اپنی بنیادی ضروریات کو حاصل کریں۔ دلچسپ ہے کہ انتظامیہ اہلکاروں کو ایک مختلف صورت حال کا بھی سامنا یہاں کرنا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ برس جس طرح سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیا گیا اور پورے علاقے کو جیل خانے میں تبدیل کیا گیا تھا، اس سے کشمیریوں کے درمیان حکام اور انتظامیہ کے تئیں اعتماد کم ہوا ہے۔ ایسے میں کشمیری نہ صرف کروناوائرس کے خوف میں مبتلا ہیں  بلکہ انتظامیہ کی کاروائیوں کو بھی مشکوک نظر سے دیکھتے ہیں۔ تاہم خبروں کے مطابق وادیٔ کشمیر کے انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں مکمل لاک ڈاؤن کے علاوہ وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے متعدد اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔

اسپتالوں کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے الجزیرہ نے وہاں کے اہلکاروں سے بھی گفتگو کی ہے۔ اس ضمں میں سرینگر کے ایک ڈاکٹر نے نام نہ بتائے جانے کی شرط پر الجزیرہ کو بیان دیتے ہوئے ایک بڑی تباہی کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کشمیر میں وبائی مرض پھیلتا ہے تو بڑی تباہی آ سکتی ہے۔ ہم مویشیوں کی طرح مارے جائیں گے۔ دراصل کشمیر کا اصل بحران تو یہاں کے اسپتالوں میں اسٹاف کی کمی اور طبی ساز و سامان کے باعث آ سکتا ہے۔ کیونکہ عام دنوں کے حالات سے نمٹنے کے لیے بھی وہاں وافر تعداد میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی کمی بتائی جاتی ہے اور طبی ساز و سامان تو ویسے بھی ندارد ہی رہتے ہیں۔ حالانکہ Government Medical College سرینگر کی صدر سامعہ راشد نے الجزیرہ کو بتایا کہ کالج کے انتظامیہ کے پاس 13 ہزار N95  ماسک  کے علاوہ  3300 personal Protective Equipment  یعنی ذاتی حفاظتی ساز و سامان موجود ہیں۔ انہوں نے مزید جانکاری دی کہ انتظامیہ کے پاس 122,000 تین پرتوں والے ماسک بھی موجود ہیں۔ واضح ہو کہ N95  رسپیریٹر ماسک اور سرجیکل ماسک کا استعمال مریضوں کے علاج کے دوران ڈاکٹروں اور دیگر ہیلتھ ورکرز خود کو انفیکشن سے بچانے کے لیے کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہاں کے اسپتالوں میں فی الحال ونٹیلٹر کی کمی نہیں ہے تاہم افرادی قوت کی کمی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ ایک دیگر ڈاکٹر نے حفاظتی ساز و سامان کی کمی کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ایک سرجیکل ماسک اور عام دستوں کے علاوہ  سرجیکل گاؤن اور ٹوپی کے سہارے ہی مریضوں کا علاج کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سب سے بڑی مصیبت تو یہ ہے کہ ہم اپنے مریضوں کو خود سے دور رہنے کے لیے بھی نہیں کہہ سکتے۔ ایسے میں ہمیں انہیں ناقص ساز و سامان کے ساتھ مریضوں کے قریب جانا ہوتا ہے۔ جس کے بعد خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ تازہ ترین معاملے میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کشمیر کے دو بڑے اسپتالوں میں تعینات دو ڈاکٹروں کو کوارنٹائن ژون میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

غور طلب ہے کہ 2018 میں طبی سہولیات کی ایک سرکاری رپورٹ میں کشمیر کے اسپتالوں کے لیے افرادی قوتوں کی کمی ظاہر کی گئی تھی۔ حیرت ہے کہ اس کے باوجود حکام کی جانب سے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا ۔ نتیجہ یہ کہ گزشتہ کئی برسوں سے وہاں کاطبی نظام بے حد خستہ حال ہوتا گیا اور 5 اگست 2019کے بعد تو صورت حال مزید بدترین ہوتی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا کیا گیا ہے کہ پوری ریاست میں 3193 نرسوں کی ضرورت ہے لیکن منظور شدہ آسامیوں کی تعداد محض 1290 ہی ہیں۔ ظاہر ہے پوری ریاست میں ابھی 1903 مزید عہدے وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ فکر انگیز پہلو یہ ہے کہ کشمیر خطے میں مریض اور ڈاکٹروں کا تناسب پورے ملک کے مقابلے سب سے کم ہے۔ کشمیر میں  3866  افراد پر محض ایک ڈاکٹر دستیاب ہے جو کہ WHO کے ضابطہ کے مطابق بے حد کم ہے۔WHO کے ضابطے کے مطابق ایک ہزار افراد پر ایک ڈاکٹر لازمی قرار دیا گیا ہے۔

Government Medical College سرینگر کی موجودہ صدر سامعہ راشد کہتی ہیں کہ کالج سے انسلاک رکھنے والے تمام اسپپتالوں میں ایمرجنسی مریضوں کی جانچ اور کینسر سرجری کو چھوڑ کر بیرونی مریضوں کا محکمہ اور تمام انتخابی سرجری کو فی الحال کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ جنہیں فوری طور پر علاج کی ضرورت نہیں ہے ان سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ فی الحال اسپتالوں کے چکر نہ لگائیں۔

COVID-19کے خطرے کے درمیان کشمیر کے لیے ایک بڑی پریشانی انٹرنیٹ کی اچھی رفتار کا بحال نہ ہونا بھی ہے۔غور طلب ہے کہ  5 اگست   2019 کے بعد سے ہی کشمیر میں انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئی تھی۔ بعد میں جب انٹرنیٹ خدمات بحال کی گئی تو اس کی رفتار کو 2G میں تبدیل کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے نہ صرف وہاں کے عوام کو پریشانیوں کا سامنا ہے بلکہ ڈاکٹروں کو بھی کروناوائرس کے تعلق سے بیداری مہم چلانے میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج کے پروفیسر اقبال سلیم کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ خدمات کی سست رفتاری کے باعث انہیں COVID-19  کے تعلق سے دستور العمل ڈاؤنلوڈ کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔اس حوالے سے مزید کہتے ہیں کہ وہ گزشتہ کئی دنوں سے 24Mbs کی ایک فائل  کو ڈاؤنلوڈ نہیں کر پارے ہیں۔ یہ فائل انگلینڈ میں ڈاکٹروں کی تجویز کے مطابق گہری نگہداشت کے انتظام (Guidelines for Intensive Care Managemment)   کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

کشمیر کے شمالی علاقے میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر نے بھی اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ سست رفتار انٹرنیٹ خدمات نے کشمیر کے ڈاکٹروں کو معذور بنا دیا ہے۔ کروناوائرس کے حوالے سے  تازہ ترین اطلاعات ہم تک نہیں پہنچ رہی ہیں۔یہ ہمارے لیے بے حد مشکل دور ہے کہ ہم اس حوالے سے کوئی تحقیقی مضامین بھی ڈاؤنلوڈ نہیں کر پا رہے ہیں۔

انٹرنیٹ خدمات کی سست رفتاری کا دوسرا افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ جہاں ایک طرف ساری دنیا میں کروناوائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے گھر سے کام کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہے۔ وہیں کشمیر میں پیشہ ورانہ طبقہ اس طرح کے نطام سے محروم ہے۔آئی ٹی ملازم ’’ارشد‘‘ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس گھر سے کام کرنے کا کوئی متبادل نہیں۔ کیونکہ موبائل انٹرنیٹ کی سست روی کے باعث لیپ ٹاپ سے رابطہ نہیں ہو پاتا ہے۔ ایسی صورت میں کام کرنا ممکن ہی نہیں۔

حالانکہ Amnesty International   کے سربراہ نے کشمیر میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی مسلسل معطلی کی  مذمت کی ہے اور حکام سے اسے مکمل طور پر بحال کیے جانے اور اس بات کو یقینی بنائے جانے کی بات کہی ہے کہ خطے کے عوام صحت اور حفاظت کے متعلق تمام معلومات تک آسانی سے رسائی کر سکیں۔غور طلب ہے کہ اس حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان دنیا بھر سے تقریباً  170 سے زائد ماہرین تعلیم نے عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کو کشمیر میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے ایک خط بھی لکھا تھا۔ جس کے جواب میں حکومت کے اہلکاروں نے 26 مارچ تک تیز رفتار انٹرنیٹ کی معطلی کے سلسلے کو قائم رکھنے کی بات کہی تھی۔ جبکہ ایک نئی نوٹس کے مطابق حکومت نے پورے خطے میں 2G انٹرنیٹ کی خدمات کی توسیع کرتے ہوئے اسے 4 اپریل تک قائم رکھنے کی بات کہی ہے۔ظاہر ہے ایسی صورت حال میں کشمیر کے ڈاکٹروں اور دیگر ملازمین کو راحت ملتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ گویا جہاں پوری دنیا برق رفتاری کے دور میں اپنے گھر سے تمام طرح کی سہولیات سے فیضیاب ہو رہی ہے وہیں جنت ارضی کہے جانے والے کشمیر کے ڈاکٹرس اور دیگر ملازمین معذور نظر آ رہے ہیں۔

 

تحریر:ڈاکٹر عمران عراقی

Facebook Comments