ممبئی:بھارتیہ جنتا پارٹی اس بار لوک سبھا کے انتخابات میں مہاراشٹر کے پونے سے مشہور معروف فلم اداکارہ مادھوری دکشت کو میدان میں اتارنے پر غوروخوض کر رہی ہے،پارٹی ذرائع کا کہنا ہے پارٹی اس پر کافی سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔بتادیں کہ پارٹی صدر امت شاہ نے اس سال جون میں اداکارہ مادھوری دکشت سے ممبئی واقع ان کے گھر پر ملاقات کی تھی۔شاہ اس وقت پارٹی کے سمپرک فار سمرتھن ابھیان کے تحت ممبئی پہنچے تھے۔امت شاہ نے اس دوران اداکارہ کو مودی سرکار کی حصولیابیوں سے آگاہ کیا،ریاست کے ایک سینئر لیڈر نے کہا ہے کہ مادھوری کا نام اس بار پونے سے لوک سبھا الیکشن کیلئے منتخب کر لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی ۲۰۱۹ میں لوک سبھا الیکشن میں مادھوری دکشت کو امیدوار بنانے پر سنجیدگی سے ٖغور کررہی ہے،ہمارا ماننا ہے کہ پونے لوک سبھا سیٹ ان کیلئے بہتر ہوگی۔بھاجپا لیڈر نے کہا کہ پارٹی کئی لوک سبھا سیٹوں کیلئے امیدواروں کے نام کا تعین کرنے کا عمل شروع کردیا ہے،اور مادھوری کا نام پونے پارلیمانی حلقہ کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ۵۱ سالہ معروف اداکارہ مادھوری نے تیزاب،ہم آپ کے ہیں کون،دل تو پاگل ہے،ساجن اور دیوداس سمیت کئی بڑی اور کامیاب فلموں میں اپنی اداکاری کا جلوہ بکھیر چکی ہیں،سال ۲۰۱۴ میں بھاجپا نے پونے لوک سبھا سیٹ کانگریس سے چھین لی تھی اور پارٹی کے امیدوار انیل شیرول نے تین لاکھ سے زائد ووٹوں کے فرق سے جیت درج کی تھی۔مادھوری کے الیکشن لڑنے کے حوالے سے بھاجپا کے ایک دوسرے لیڈر نے بتایا کہ یہ طریقہ پی ایم مودی نے گجرات میں اپنایا تھا ،انہوں نے سی ایم رہتے بلدیاتی انتخاب میں سارے امیدواروں کو بدل دیاتھا جس کا پارٹی کو فائدہ ملا،انہوں نے کہا کہ نئے چہرے کو میدان میں اتارنے کا سب سے بڑا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس پر تنقید کم سے کم ہو،اور اپوزیشن کے پاس بولنے کیلئے کچھ نہ رہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا مادھوری اگر میدان میں آتی ہیں تو ان کی سیاسی قسمت کا ستارہ روشن ہوتا ہے یا نکلنے کے ساتھ ہی ٹوٹ  کر زمین پر گرجاتا ہے،یہ سب وقت کے ساتھ ساتھ صاف ہوجائے گا۔

Facebook Comments