نئی دہلی:مہاراشٹر میں سیاسی رسہ کشی اپنے شباب پر ہے،سی ایم دیوندرفرنویس گورنر کو اپنا استعفیٰ سونپ چکے ہے اور ریاست میں سب سے بڑی پارٹی ہونے کی وجہ سے کل مہاراشٹر کے گورنر نے بی جے پی کو حکومت سازی کی دعوت دی تھی ،جس پر آج بی جے پی لیڈران نے راج بھون میں مہاراشٹر کے گورنر سے ملاقات کی اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ ریاست میں حکومت نہیں بنائے گی۔ایسے میں اب شیو سینا کے پالے میں گیند ہے۔اور چونکہ شیو سینا اور بی جے پی کے مابین تکرار اپنے شباب پر ہے ایسے میں شیو سینا کی پہلی اور آخری امید اب کانگریس اور این سی پی پر جاکر ٹھہر گئی ہے۔وہیں شیو سینا کے ترجمان سنجے راوت پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر بی جے پی سرکار نہیں بنائے گی تو وہ اپنا دعویٰ پیش کریں گے۔چونکہ بی جے پی نے حکومت سازی سے انکار کردیا ہے تو پھر ریاست میں دوسرے نمبر پر سب سے بڑی پارٹی شیوسینا ہے  اور اب گورنر کی طرف سے انہیں حکومت سازی کیلئے دعوت دی جائے گی ۔پھر شیو سینا کے سامنے سب سے بڑا دن ہوگا اکثریت ثابت کرنے کا ۔اور یہ اپنے آپ میں سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔

چونکہ اگر این سی پی اور کانگریس باہر سے بھی حمایت کرتی ہے تو ان دونوں پارٹیوں کیلئے خود کشی سے کم نہیں ہوگی۔چونکہ شردپوار ایک پرانے سیاسی کھلاڑی ہیں اسی لئے انہوں نے پہلے ہی صاف کردیا ہے کہ وہ اپوزیشن میں بیٹھیں گے،پھر سوال یہ ہے  کہ شیوسینا سرکار کیسے بنائے گی،اکثریت کہاں سے لائے گی۔ان تمام سیاسی تصویروں میں مہاراشٹر کی عوام کو نئی سرکار ملتی نظر نہیں آرہی ہے اور این سی پی اور کانگریس کے پاس ایک بہت ہی اچھا موقع ہے اپنے  آپ کو عوام کی نظروں میں سرخرو کرنے کا ،اس لئے شیو سینا نے اپنی انا اور ضد کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ اپنا نقصان کیا ہے بلکہ ایسی حرکتیں کی ہیں جن سے این سی پی اور کانگریس کو فائدہ پہنچنے والا ہے۔ایسے میں اگر کانگریس این سی پی کے سامنے رونے اور گرگرانے سے حمایت مل بھی جاتی ہے تو وہ ہمیشہ ہمیش کیلئے کانگریس این سی پی کے غلام بن جائیں گے چونکہ اس کے بعد کانگریس این سی پی جیسے شیوسینا کو نچانا چاہے گی ،مجبوری میں شیو سینا کو ناچنا ہی ہوگا ۔اب شیو سینا کی یہ ضد شیو سینا کو کہاں تک لے جائے گی یہ آنے والے دنوں میں ہی صاف ہوپائے گا ،فی الحال مہاراشٹر میں ایک تصویر صاف ہوتی نظر آرہی ہے اور وہ ہے صدر راج کے نفاذ کی ۔چونکہ کانگریس این سی پی اس بار حماقت نہیں کرنے والی ،چونکہ ان کو معلوم ہے کہ اس تکرار اور اس کے انجام سے کانگریس اور این سی پی کا ہی فائدہ ہونے والا ہے۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے۔

Facebook Comments