نئی دہلی:اقوام متحدہ میں حقوق انسانی کے ۴۲ویں اجلاس کا آغاز ہوچکا ہے۔آغاز کے دوران ہی حقوق انسانی کونسل کی چیئرمین میشیل بیچلیٹ نے جموں کشمیر میں مسلسل پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا،وہیں آج پاکستان کو اپنا موقف  پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔پاکستان کی طرف سے وزیرخارجہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کیا ،انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز ہی جموں کشمیر سے کیا اور ختم بھی مسئلہ کشمیر کےساتھ ہی کیا۔اس دوران انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔گزشتہ چھ ہفتے سے جموں کشمیر کو جیل میں تبدیل کررکھا گیا ہے۔محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان جموں کشمیر کی عوام پر ہونے والے مظالم کی سخت لفظوں میں مذمت کرتا ہے۔اور ان کی حمایت کیلئے ہر ممکن پاکستان کوشش کررہا ہے،اور ہماری اس کوشش کو ہندوستان دہشت گردانہ سرگرمی قرار دیتا ہے۔

محمود قریشی نے کہا کہ ہندوستان کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی سازش کررہاہے،اور بے وجہ لوگوں کو مسلسل گرفتار کیا جارہا ہے،اور اپنے اس ظلم پر پردہ ڈالنے کیلئے فرضی آپریشن بھی کرسکتا ہے۔محمود قریشی نے کہا کہ ہندوستان نے پاکستان کے ہر بار مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کیا ہے،اور یہ باور کرانے کی کوشش کررہا ہے کہ جموں کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ دوطرفی معاملہ ہے جس کا حل دونوں ملکوں کو ایک ساتھ مل کرنکالنا ہوگا۔قریشی نے کہا کہ ہندوستان مسلسل جموں کشمیر پر عالمی برادری کوگمراہ کررہا ہے۔لیکن جب جموں کشمیر سے پابندیاں ہٹائی جائیں گی پھر دنیا کشمیر کی سچائی دیکھے گی۔

Facebook Comments