( دوہزار انیس کے پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں)

سابق MLA اختر الایمان سیمانچل کا مسیحا، ایک بےباک، تجربہ کار سیاسی لیڈر اور قائد ہے، جنھوں نے امت مسلمہ کی فلاح و بہبودی کےلئے کافی محنتیں اور قربانیاں پیش کی ہیں، سن دوہزار پانچ 2005 میں آپ آرجےڈی یو کے ٹکٹ پر بہار اسمبلی کا حصہ بن کر سیمانچل کی نمائندگی کر چکے ہیں، پھر سن 2010 میں اس پارٹی کو الوداع کہہ کر اس سے الگ تھلگ ہو گئے۔
اسی طرح سن 2013 میں اسٹوڈنٹس موبھمنٹ (جو یوگا اور سوری نمسکار کے خلاف چھیڑی گئی تھی)اس موبھمنٹ کا انھوں نے بھرپور انداز میں مسلم اسٹوڈنٹس کا سپورٹ کیا اور انکو اپنی بصیرت و بصارت سے کافی strong بھی کیا۔
تقریباً سن دو ہزار چودہ 2014 میں جنتا دل کو جوائن کیا، اور جنتا دل کے ٹکٹ پر ایم پی MP کی سیٹ کے لئے میدان میں قدم رکھا، لیکن حالات کے پیشِ نظر BJP کو شکست دینے، اور ملت کی شیرازہ بندی کی فکر کو سامنے رکھتے ہوئے، انھوں نے اپنی طویل سیاسی بصیرت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، الیکشن سے دس دن پہلے اپنا nomination واپس لے لیا، اور کشن گنج کے سابق ایم پی مولانا اسرار الحق قاسمی رحمہ اللہ کی تعاون کا بغل بجادیا، یہ ہے ان کی سیاسی بصیرت جسے تاریخ کبھی نہیں بھلا سکتی ہے۔

اسکے بعد ا ن کو ایک ایسی پارٹی ملی جہاں ان کو سیمانچل کے مسلمانوں کا بہترین مستقبل نظر آیا، اور پارٹی کے پریشر سے آزاد ہو کر آزادانہ طور پر پارلیمنٹ میں اپنی آواز کو اٹھانے کےلئے بہترین پلیٹ فارم ملا تو بس دیری کس بات کی تھی، فورا اسمیں انٹری ماری اور ایم آئی ایم کا اسٹیٹ پریسیڈنٹ کا عہدہ قبول کر کے، سیمانچل کی بہتری کے لئے ایم آئی ایم کا جھنڈا سنبھالا، اور آج دوہزار انیس کی پارلیمانی انتخابی چناؤ کے لئے مجلس اتحاد المسلمین کے ٹکٹ پر ایم پی MP کی سیٹ کے لئے کشن گنج حلقہ کی نمائندگی کرتے ہوئے، سیاست کے میدان میں کود پڑا.

ہم سب کا ملی اور اخلاقی فریضہ بنتا ہے ان کو پارلیمنٹ تک پہونچا کر اپنے حق کی لڑائی کو اور تیزگام کریں۔
آخیر میں، میں ایک سیاسی مبصر، ادیب، قلم کار اور بےباک صحافی اختر الواسع کا تاریخی جملہ نقل( quote ) کرکے قلمبند کرنا چاہتا ہوں، ” میں اختر الواسع ہوں اور اختر الایمان پر یقین رکھتا ہوں ” یہ ایک مبصر اور مفکر کا تاریخی quotation ہے جو ہماری نگاہوں میں اختر الایمان کی عزت و مرتبت کو اور بڑھا دیتا۔
ستر سال سے دوسرے کو جتا کر ہزاروں فسادات کے سوغات کو سینے میں لیکر شکوہ کرنے کے بجائے، اس بار اپنے کو جتا کر

نئی تاریخ رقم کرنے کا عزم مصمم کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کا جیتنا بہت حد تک سیمانچل کے مسلمانوں کے حق میں خیر ثابت ہو،۔ ( اس بات کا ہمیں تجربہ ہوچکا ہے کہ بی جے پی ہمارا hard اور کانگریس ہمارا soft دشمن ہے، یہ ہارڈ اور سوفٹ کا گیم ہم کب تک کھیلیں گے۔ اور حدیث پاک کا یہ ٹکرا ہمیں ہمارا گریبان پکڑ کر یہ کہ رہا ہے کہ مجھے عملی جامہ پہناؤ، میں عمل کے لئے آیا ہوں نہ کہ صرف درسگاہوں میں درس و تدریس کے لئے، حدیث پاک کچھ اس طرح سے ہے۔” (لا يلدغ المؤمن من جحر واحد مرتين ) لیکن ہم ہی ہیں کہ بار بار دھوکہ کھا رہے ہیں لیکن ہوش کے ناخن نہیں لے رہے ہیں۔
میں حق پسند کے اس قبیل سے ہوں
جو حق پر ڈٹ گئے اس لشکر قلیل سے ہوں
میں یوں ہی دست گریبان نہیں زمانے سے
میں جس جگہ پر کھڑا ہوں کسی دلیل سے ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 مضمون نگار محمد اطہر جمیل ندوی انگریزی اور بین القوامی زبانوں کی یونیورسٹی میں رسرچ اسکالر ہیں

Facebook Comments