نئی دہلی:بہت جلد چیف جسٹس آف انڈیا کا حلف لینے والے جسٹس شرد اروند بوبڑے نے کہا ہے کہ اپنے کچھ عدالتی کاموں کیلئے میڈیا پر ججوں پر ہونے والے نازیبا تبصروں سے وہ پریشان ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب وہ چیف جسٹس کے ساتھ اس قسم کا تبصرہ ہوتا ہوا دیکھتے ہیں تو اس کو نظرانداز کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔۱۸ نومبر کو ہندوستان کے ۴۷ویں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے والے جسٹس بوبڑے نے کہا کہ اس طرح کی تنقید نہ صرف غلط ہے بلکہ یہ چیف جسٹس کی شبیہ کو خراب کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس کے فیصلے کی جگہ ان کی شخصیت اور ذات کی تنقید کرنا دراصل ہتک عزت ہے اور یہ چیز مجھے بہت زیادہ تکلیف دیتی ہے اور ایسی چیزوں سے عدالت کے کام کاج پر بھی اثر پڑتا ہے،بوبڑے نے کہا کہ ہر کوئی اسے نظرانداز کرتا ہے ،چیف جسٹس بھی ایک عام آدمی ہوتا ہے،حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال سپریم کورٹ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ہونے والے تبصروں پر قابوپانے کیلئے کچھ بھی نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ ہم کیا کرسسکتے ہیں ،ہم ابھی اس طرح کے میڈیا کیلئے کچھ نہیں کرسکتے،ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے خلاف کیا قدم اٹھانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا میں ہونے والے کمنٹ نہ صرف لوگوں اور ججوں کے وقار کو مجروح کررہے ہیں بلکہ وہ انہیں ڈرا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس کے خلاف کچھ کیا جاتا ہے تو شکایت آتی ہے کہ بولنے کی بھی آزادی نہیں ہے۔

Facebook Comments