حیدرآباد:ملک بھر میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج ومظاہرے کا سلسلہ جاری ہے،اسی ضمن میں آج تلنگانہ کے حیدرآباد میں آج سب سے بڑا احتجاجی مارچ دیکھنے کو ملا ہے۔دراصل حیدرآباد میں آج ملین مارچ کے نام سے کئے گئے مظاہرےمیں لاکھوں افراد نے مذکورہ قانون کے خلاف پرامن احتجاج کیا ہے۔جس میں سب سے اچھی بات یہ رہی کہ کہیں سے بھی اس میں کسی ناگہانی واقعے کی خبر نہیں  ہے۔

اس دوران ہزاروں دوکانوں  اور کاروباری ادارے آج بند رکھے گئے تھے،اسکول میں بھی چھٹی کا اعلان کیا گیا تھا۔خبرہے کہ تلنگانہ  پرائیوٹ اسکول جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے قریب بارہ سو اسکولوں میں آدھے دن کی چھٹی کرادی تھی جس کی وجہ سے اس ملین مارچ  مظاہرین کی تعداد کافی زیادہ دیکھنے کو ملی ۔

حالانکہ پہلے اس ملین مارچ کی پولیس انتظامیہ نے اجازت نہیں دی تھی ،اس کے بعد ایم آئی ایم صدراسدالدین اویسی نے حیدرآباد پولیس کے سامنے چار متبادل راستے  نامزد کئے جس کے بعد چند شرائط کے ساتھ  آج یہ ملین مارچ نکالنے کی اجازت دی گئی اور اس کے بعدآج جو ملین مارچ نکالا گیا وہ یقیناً دیکھنے کے لائق رہا۔

 

 

Facebook Comments