پروفیسر ولی اختر ندوی کی وفات پر امارت کمیٹی بھکورہر کی جانب سے 14/جون 2020 بروز اتوار بعد نمازِ عشاء جامع مسجد بھکورہر میں ایک تعزیتی نشست امیر امارت جناب نجم الہدی خان صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی مذکورہ نشست میں گاؤں کے اکثر افراد نے شرکت فرمائی نیز چند شرکاء نے اپنے قیمتی تاثرات کا اظہار خیال فرمایا ۔

صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ، دہلی یونیورسٹی کے قابل پروفیسر اور اپنے آبائی گاؤں بھکورہر کے عظیم سپوت ڈاکٹر ولی اختر ندوی ہمہ جہت خوبیوں کے مالک تھے، اچانک ان کی رحلت سے قوم وملت کا عظیم خسارہ ہوا ہے جس کی بھرپائی مشکل ہے، ملی اور سماجی کاموں میں امارت کے وہ مضبوط دست و بازو تھے ان کے لئے سچا خراجِ عقیدت یہی ہوگا کہ ان کے مشن کو پوری مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے مذکورہ خیالات کا اظہار امارت کمیٹی کے نائب امیر الحاج مفید عالم صاحب نے کیا وہیں ریٹائرڈ ٹیچر جناب عبد القادر سلفی صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر ولی اختر ندوی رحمہ اللہ کی پوری زندگی ولادت سے لے کر رحلت تک میری نظروں کے سامنے ہے ان کی پوری زندگی ایک انقلابی زندگی تھی اکثر اہم امور میں وہ مجھ سے مشورے کرتے اور اس پہ عمل بھی کرتے ڈاکٹر صاحب مرحوم اپنے عظیم کارناموں کے بدولت ہمیشہ یاد کئے جاتے رہیں گے۔ آئیڈیل چائلڈ اسکول کے ڈائریکٹر نیاز احسن تیمی نے کہا کہ دوسرے لوگوں میں خوبیاں ڈھونڈنی پڑتی ہیں لیکن پروفیسر ولی اختر ندوی کا وجود سراپا خوبیوں کا مجموعہ تھا، آپ کی موت اتنا عظیم سانحہ ہے جس پہ زمانہ افسردہ ہے ڈائریکٹر موصوف نے اپنی باتوں کو جاری رکھتے ہوئے نشست میں موجود لوگوں سے گزارش کی کہ اگر آپ صحیح معنوں میں ڈاکٹر صاحب مرحوم سے محبت کرتے ہیں تو آپ کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی بلندی درجات کے لئے ہمیشہ دعاء کرتے رہیں تاکہ اللہ ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس کا مہمان بنائے مولانا آصف تنویر تیمی استاذ جامعہ امام ابن تیمیہ نے اپنے احساسات وجذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ ڈاکٹر صاحب مرحوم نے بہت کم وقتوں میں عظیم کارہائے نمایاں انجام دیئے آپ کی وفات سے جہاں علمی دنیا کا خسارہ ہوا ہے وہیں گاؤں کے ایک ایک فرد کا بھی کسی نہ کسی معنی میں نقصان ہوا ہے، مولانا آصف تنویر تیمی نے مزید اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آپ کی ذات اہل علم کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی تھی ان کی مکمل زندگی میں ہم سب کے لئے عبرت کا سامان ہے وہ اپنا فرض نبھا کر چلے گئے اب ان کے چھوڑے ہوئے بقیہ کاموں کی تکمیل ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اخیر میں مولانا نیاز احسن تیمی کی دعاؤں پر مجلس اپنے اختتام کو پہونچی

Facebook Comments