نئی دہلی:ہندوستان میں نئی سرکار بن چکی ہے،اور ایک بار پھر مرکز میں مودی سرکاربن چکی ہے،اور پارلیمنٹ پہنچتے ہی پارلیمنٹ کے اندر کا جونظارہ تھا اس پر ایک جمہوری ملک میں جتنا بھی ماتم منایا جائے کم ہے،نومنتخب اراکین پارلیمنٹ کو قریب تین دنوں تک حلف دلانے کا عمل جاری رہا اور اس دوران پارلیمنٹ کے اندر جئے شری رام جئے شری رام کے نعرے لگتے رہے،یہ پارلیمنٹ کی توہین ہے اور ایک جمہوری ملک کی جمہوریت کے ساتھ بہت بڑا مذاق۔ لیکن ایک دوسری تصویر جو مودی سرکار کے پہلے دوراقتدار میں بھی آپ کو دیکھنے کو ملی تھی وہ اس بار بھی دیکھنے کو مل رہی ہے ،یعنی اسی جئے شری رام کے نعروں کے نام پر غنڈہ گردی کا جوماحول آپ نے پہلے دیکھا تھا وہی ماحول اب پھر سے ملک میں بڑھتا نظر آرہا ہے جس کے تازہ شکار دہلی میں محمد مومن نامی شخص ہوئے ہیں۔

محمد مومن پر گزشتہ شب تین بھگوا آتنک کے پجاریوں نے جئے شری رام بولنے کے نام پر حملہ کردیا ،تینوںن گاڑی میں تھے اور ان تینوں نے محمد مومن سے جئے شری رام بولنے کو کہا ،جب مومن نے انکار کردیا تو انہوں نے محمد مومن کو اپنی گاڑی سے روندنے کی کوشش کی ،گالیاں دیں اور ان پر حملہ بھی کیا،محمد مومن اس پورے زب وکوب میں بری طرح زخمی ہوگئے ،جن کا علاج چل رہا ہے،وہیں روہنی سیکٹر ۲۰ میں اس معاملے کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹج کی مدد سے مجرموں کی تلاش جاری ہے۔اب دیکھنا ہوگا کہ محمد مومن پر حملہ کرنے والے شرپسند عناصر کب تک پولیس کی گرفت میں آتے ہیں ،یاپھر پولیس بھی اس پورے معاملے کو ٹھنڈے بستے میں ڈٓال کر چپ ہوجاتی ہے۔

Facebook Comments