انڈونیشیا میں پولیس کے مطابق نماز کے دوران قیدی سیکیورٹی عملے کو یرغمال بنانے کے بعد جیل سے فرار ہو گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نماز کے وقت مغربی انڈونیشیا کی ایک جیل سے 113 قیدی فرار ہوئے تاہم ان میں سے بعض کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔بندے آچے صوبے کے پولیس چیف تریسانو ریانتو نے بتایا کہ دن کے پچھلے پہر لامبارو جیل میں اس وقت درجنوں قیدی فرار ہو گئے جب 720 قیدیوں کو نماز عشاء کے لیے اپنے کمروں سے باہر نکلنے کی اجازت دی گئی تھی۔پولیس کے مطابق فرار ہونے والے قیدیوں میں بعض منشیات کے جرائم میں ملوث افراد شامل ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ قیدیوں نے پہلے سے فرار کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ انہوں نے دھاتی چیزوں کی مدد سے جیل کی بیرونی دیواروں پر لگائی گئی خار دار تاریں کاٹ ڈالیں اور دیواریں پھلانگ کر جیل سے باہر دھان کے کھیتوں میں بھاگ گئے۔

پولیس نے فوری کارروائی کرکے 26 افراد کو حراست میں لے لیا ہے جب کہ 87 اب بھی مفرور ہیں۔خیال رہے کہ نماز کے اوقات سے فائدہ اٹھا کر انڈونیشیا کی جیلوں سے فرار کا یہ پہلو موقع نہیں۔ گذشتہ برس بھی ریاو نامی علاقے میں قائم ایک جیل سے نماز کے وقت 440 چالی بھاگ گئے تھے۔جولائی 2013ء کو شمالی سماٹرا میں ایک جیل میں قیدیوں‌ کے درمیان تصادم کے بعد حالات بے قابو ہو گئے جس سے فایدہ اٹھا کر 240 قیدی فرار ہوگئے تھے۔ ان میں دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث قیدی بھی شامل تھے۔

بشکریہ العربیہ

Facebook Comments