روز کی طرح آج بھی صبح نو بجے دفتر کے لیے نکلی۔ رکشے میں بیٹھی ،حسبِ معمول اپنے بیگ سے ایئرفون نکالے اور موبائل میں لگانے ہی جا رہی تھی کہ دیکھا آج ایئر فون کے تار بہت الجھے ہوئے ہیں۔میں نے انہیں سلجھانا چاہا، لیکن اس کے تاروں میں گرہیں لگ چکی تھیں۔ انہیں سلجھاتے سلجھاتے میرا خیال میری زندگی کی طرف چلا گیا۔ میں جس طرح رکشے میں بیٹھ کر اس ایئرفون کے تاروں کو سلجھا رہی تھی ، ٹھیک اسی طرح اپنی ذاتی زندگی میں بھی اس کی پریشانیوں اور مشکلوں سے جوجھ رہی تھی۔ لیکن ایئرفون کے تاروں کو سلجھانا آسان ہے زندگی جینا بہت مشکل۔ اس کی الجھنیں اور اتار چڑھاؤ یا تو انسان کو مضبوط بنا دیتی ہیں یا پھر مکمل طور پر توڑ دیتی ہیں۔ ہر انسان کے لیے زندگی کا تصور مختلف ہوتا ہے، لیکن مرے لیے اس تصور کا تانا بانا شاید اس تلخ حقیقت کے تحت بنا تھا جس سے میں دوچار تھی۔ وہ شخص میری زندگی میں بہارکے موسم کی طرح آیا تھا ،جس کے آنے سے سب کچھ بے حد خوبصورت ہو جاتا ہے لیکن صرف وقتی طور پر، اور جب جاتا ہے تو اپنے ساتھ تمام خوبصورتی لے جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح اس شخص کے آنے سے ڈھیروں خوشیاں میری زندگی میں شامل ہوگئیں تھیں، لیکن اس کے جاتے ہی میرا وجود جیسے ختم ہوگیا تھا۔ وہ شخص جو کچھ ہی وقفے میں میرے لیے بے حد عزیز ہوگیا تھا، جس کے ساتھ زندگی آسان اور رنگ برنگی ہوگئی تھی۔اور جس سے میں بنا کسی شرط کے بے حد محبت کرنے لگی تھی، وہی میری زندگی کو بے رنگ بنا گیا تھا۔ وہ مجھ سے کہتا تھا تم بہت مضبوط اور خود مختارہو۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھاکہ میں صرف اس کے ساتھ مضبوط ہوں اور اس کے بنا بہت کمزور۔وہ کہاں چلا گیا، کیوں چلا گیا، میں نہیں جانتی۔۔۔۔۔۔۔۔ جانتی ہوں تو صرف یہ کہ وہ میرا شوہرتھا اورمیں آج بھی اس سے اتنی ہی محبت کرتی ہوں۔
اس کے ساتھ گزرا ہوا ہر لمحہ مجھے یاد ہے۔۔۔وہ ہر بار سڑک پار کرتے وقت میرا ہاتھ پکڑ لینا، کھانا بناتے وقت اگر میرا ہاتھ جل جاتا تو فوراََ اس پر مرہم لگانا اور مجھ سے بھی زیادہ اس کا درد خود محسوس کرنا، میرے روٹھ جانے پر مجھے منانے کے لیے اپنی جان لگا دینا، میری ہر ضد پوری کرنا اور۔۔اورنہ جانے کیا کیا۔۔۔
’’ہاں جی آپ کا اسٹاپ آگیا‘‘ اچانک تیز آواز میں یہ الفاظ میرے کانوں میں پڑے ، دیکھا رکشے والا چلا کر بول رہا تھا،نہ جانے کب سے کہ رہا ہوگا ۔میں تو منتظر کے خیالوں میں گم ہوگئی تھی۔ گھر سے دفتر تک پچیس منٹ کی دوری نے مجھے میری زندگی کے مشکل ترین وقت کی سیر کرا دی تھی۔ رکشے سے اتری تو مہر۔۔ مہر۔۔ کی آواز سنائی دی۔ پلٹ کر دیکھا تو میری دوست ریکھا مجھے آواز دیتی ہوئی میری طرف بھاگی چلی آرہی تھی۔ اور آتے ہی سوال کیا :
’’منتظر واپس آیا؟ ‘‘ 
ریکھا کہ اس سوال نے میری آواز بھاری کردیا تھا بمشکل کہ پائی :
’’نہیں‘‘ 
اس نے پھر سوال کیا :
’’وہ واپس آگیا تو کیا کرے گی؟‘‘
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس سوال کا کیا جواب دوں۔۔ صرف اتنا کہا:
پتہ نہیں!
اس جواب کے پیچھے شاید یہ وجہ تھی کہ اب میری یاس حسرت میں بدل گئی تھی۔ میں اس سے نا امید ہوچکی تھی اور یہی سمجھتی تھی کہ اب وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔۔۔نہیں۔۔۔کبھی نہیں!
’’کل تیری سالگرہ ہے۔ مجھے تو یقین ہے۔۔۔ منتظر کل ضرور آئے گا۔۔۔۔تجھے یاد ہے نا ! پچھلے سال تیری سالگرہ پر اس نے کیا کچھ نہیں کیا تھا تجھے خوش کرنے کے لیے۔‘‘
ریکھا نے بہت خوش ہوکر اور مجھے اس کی واپسی کی امید دلاتے ہوئے کہا۔
لیکن میں نے ریکھا کی بات کاٹتے ہوئے کہا :
’’ایسا صرف کہانیوں میں ہوتا ہے۔ اگر اسے واقعی میری خوشی کا خیال ہوتا تو کبھی مجھے اس طرح تنہا چھوڑ کر نہیں جاتا، اب مجھے کسی جھوٹی آس میں نہیں جینا۔‘‘
یہ کہ کر میں اندر دفتر میں چلی گئی،اور اپنا کام کرنے لگی۔ اور میری دوست ریکھا میری نا امیدی دیکھ کرنم آنکھوں کے ساتھ وہیں کھڑی رہی نہ جانے کب تک۔
اگلی صبح تقریباََ ساڑھے چھ بجے کسی نے دروازے پر دستک دی۔ میں نیند میں تھی،اٹھی، جلدی سے دوپٹہ لیا اور دروازہ کھولنے ہی جا رہی تھی کہ اچانک قدم رک گئے، ریکھا کی بات یاد آئی اور دل زور زورسے دھڑکنے لگا ، آنکھیں نم ہوگئیں، شاید یہ اسی کی دستک تھی۔۔ کانپتے ہوئے ہاتھوں سے دروازہ کھولاتو میں حیران رہ گئی۔۔۔۔!

ندا کوثر
شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ, نئی دہلی

Facebook Comments