نئی دہلی:یوپی کے لکھنو میں آج آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کےمجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی،اور اس میٹنگ میں ملک بھر سے بورڈ کے اراکئن نے شرکت کی۔میٹنگ میں یہ طے کیا گیا ہے کہ بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آیا ہے اس میں کئی سارے تضادات ہیں اس لئے بورڈ اس فیصلے پر سپریم کورٹ میں نظرثانی کی عرضی داخل کرے گا۔بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے میٹنگ کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب سپریم کورٹ نے اس بات کو تسلیم کرلیا کہ کسی مندر کو منہدم کرکے مسجد نہیں تعمیر کی گئی تھی اور ۱۹۹۲میں بابری مسجد کو جو منہدم کیا گیا وہ مجرمانہ کارروائی ہے ،ایسے میں زمین کا مالکانہ حق ہندو فریق کو کس بنیاد پر دیا جاسکتا ہے،زمین کی ملکیت کا یہ معاملہ تھا ،سپریم کورٹ نے عقیدے کی بنیاد پر اپنا فیصلہ کیا ہے ،اس لئے نظرثانی کی عرضی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے داخل کی جائے گی۔

ظفریاب جیلانی نے یہ بھی کہا کہ ایک مہینے کی مدت ہے ،ہماری پوری کوشش ہوگی کے اس درمیان ہم نظرثانی کی عرضی داخل کردیں،وہیں جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ اگر سپریم کورٹ نے بورڈ کی عرضی کو خارج کردی تو پھر آگے کا قدم کیا ہوگا،اس پر ظفریاب جیلانی نے کچھ بھی نہیں کہا ،البتہ جمعیت علمائے ہند کے صدر اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ صد فی صد ہماری عرضی کو سپریم کورٹ میں خارج کردیا جائے گا لیکن نظرثانی کی عرضی داخل کرنا ہمارا قانونی حق ہے،اس لئے ہم ریویو پیٹیشن ڈاخل کریں گے۔

Facebook Comments